انڈونیشیا میں انتہا پسندی کے خلاف مسلمان سائبر آرمی فعال | حالات حاضرہ | DW | 08.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انڈونیشیا میں انتہا پسندی کے خلاف مسلمان سائبر آرمی فعال

’سائبر آرمی‘ پرعزم ہے کہ وہ جہادی نظریات کا زہریلا اثر ختم کرنے کے لیے اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات کا پرچار کرتی رہے گی۔ یہ ’آرمی‘ انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کے جارحانہ میڈیا پراپیگنڈے کا جواب دینے کی کوشش میں ہے۔

Facebook Klickfarmen in Indonesien

انڈونیشیا کے شہری علاقوں میں نوجوانوں کی انٹر نیٹ تک رسائی زیادہ ہے

انڈونیشیا کی ’نہضہ العلماء‘ نامی تنظیم دنیا بھر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔ اس تنظیم کے مطابق اس کے ممبران کی تعداد چالیس ملین ہے۔ انڈونیشیا میں ایک طویل عرصے سے سرگرم اس اسلامی تنظیم نے حال ہی میں ایک نیا منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت اسلام کی اعتدال پسندانہ تشریحات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد دراصل انتہا پسند گروپ داعش کے سخت نظریات اور اسلام کی سخت تشریحات کا جواب دینا ہے۔

DW.COM

اس تنظیم کے تقریباﹰ پانچ سو ممبران کو خصوصی طور پر فرائض سونپے گئے ہیں کہ وہ نہ صرف ملک بھر میں بلکہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ پر جہادیوں کی طرف سے شروع کیے گئے پراپیگنڈے کا جواب دیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور سمارٹ فونز مہیا کیے گئے ہیں۔

’نہضہ العلماء‘ کے ایک سینیئر ممبر سیافی علی اپنی ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں، ’’ہم اسلام کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہائی جیک نہیں ہونے دیں گے، جو نفرت پھیلاتے ہیں۔‘‘ اس اسلامی تنظیم نے اپنی اس ٹیم کو ’سائبر آرمی‘ قرار دیا ہے۔

داعش کی طرف سے جدید اور مربوط انداز سے کیے جانے والے سائبر پراپیگنڈے کے باعث متعدد لوگ اس جہادی گروہ کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صرف انڈونیشیا میں ہی پانچ سو افراد جہادی سوچ اپنانے کے بعد داعش کے شانہ بشانہ لڑنے کی خاطر مشرق وسطیٰ جا چکے ہیں۔ ایسے خدشات بھی موجود ہیں کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا میں داعش اپنی جڑیں مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

اسی صورتحال کے تناظر میں ’نہضہ العلماء‘ کی سائبر آرمی کچھ پریشان بھی ہے، کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس وہ مالی وسائل نہیں، جو جہادیوں کے پاس ہیں۔ اگرچہ اس مسلم تنظیم نے اسلام کے اعتدال پسندانہ نظریات کے فروغ کے لیے ویب سائٹس اور ایپس کے علاوہ ایک ٹیلی وژن اسٹیشن بھی بنا لیا ہے لیکن پھر بھی داعش کے میڈیا سیل کا پراپیگنڈا زیادہ بڑے پیمانے پر جاری ہے۔

’نہضہ العلماء‘ کے سیکرٹری جنرل یحییٰ نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں بنیاد پرستانہ اور شدت پسندانہ پراپیگنڈے سے نمٹنے میں مشکلات درپیش ہیں، ’’جب بھی ہم انہیں کسی سائبر محاذ پر شکست دیتے ہیں، تو دیر نہیں لگتی کہ وہ دوبارہ اس کا جواب دے دیتے ہیں۔‘‘

اچھی نیت کے باوجود ’نہضہ العلماء‘ کی سائبر آرمی داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کمزور معلوم ہوتی ہے۔ جہادیوں کے آن لائن آپریشن انتہائی مربوط اور جدید ہیں۔ وہ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کا انتہائی چابکدستی سے استعمال کر رہے ہیں۔ فیس بک، ٹوئٹر، وٹس ایپ، لائن یا دیگر آن لائن ذرائع سے ان کے پیغامات ارسال کرنے کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ امریکی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق یہ جہادی گروہ صرف امریکا میں روزانہ دو لاکھ جہادی پیغامات بھیجتا ہے۔

Syrien IS Al-Nusra Front Kämpfer

داعش کی طرف سے جدید اور مربوط انداز سے کیے جانے والے سائبر پراپیگنڈے کے باعث متعدد لوگ اس جہادی گروہ کی طرف مائل ہوئے ہیں

داعش کی اپنی ایک نیوز ایجنسی بھی ہے۔ عماق نامی خبر رساں ادارہ ہی جہادیوں کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد کارروائیوں کی خبریں بریک کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ گروہ تشہیری ویڈیوز بنانے میں بھی مہارت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی طرح انٹرنیٹ پر پراپیگنڈے کی مدد سے یہ انتہا پسند گروہ دنیا بھر میں اپنے لیے نئے جہادیوں کی بھرتی کا کام بھی کرتا ہے۔

انڈونیشیا میں انسداد دہشت گردی کے ماہر روبی سوگارا کے مطابق البتہ ’نہضہ العلماء‘ کی کوشش قابل ستائش ہے کیونکہ آج کل جہادی نظریات کا پرچار انٹرنیٹ پر کچھ زیادہ ہی ہو چکا ہے، ’’اسلامی نظریات کے حوالے سے انٹرنیٹ ایک میدان جنگ بن چکا ہے۔ اعتدال پسندی کی حامی جتنی زیادہ ویب سائٹس بنائی جائیں گی، لوگوں کے ذہن اتنے ہی زیادہ صحت مند رہیں گے۔‘‘

اشتہار