انسانی حقوق کے سرکردہ پاکستانی کارکن سلمان حیدر لاپتہ | حالات حاضرہ | DW | 07.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انسانی حقوق کے سرکردہ پاکستانی کارکن سلمان حیدر لاپتہ

انسانی حقوق کے سرکردہ پاکستانی کارکن پروفیسر سلمان حیدر ملکی دارالحکومت اسلام آباد سے مبینہ طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق جمعے کی رات سے ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر سلمان حیدر جمعہ چھ جنوری کی رات سے لاپتہ ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ان کی گاڑی مل گئی ہے لیکن وہ خود کہاں ہیں، اس بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں۔

سلمان حیدر پاکستان میں بنیاد پرستی کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک ممتاز شخصیت قرار دیے جاتے ہیں۔ ان کی اہلیہ کے مطابق ان کا اپنے شوہر سے آخری رابطہ جمعے کی رات ہوا تھا، جس دوران پروفیسر حیدر نے کہا تھا کہ وہ شب آٹھ بجے تک گھر لوٹ آئیں گے۔

سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر کے مطابق جب رات دس بجے تک سلمان گھر واپس نہ آئے تو انہوں نے موبائل فون سے رابطے کی کوشش کی لیکن سلمان کا فون بند تھا۔ ذیشان حیدر نے بتایا کہ سلمان اپنے دوستوں کے ہمراہ بنی گالا گئے تھے۔

ذیشان حیدر نے یہ بھی بتایا کہ بعد ازاں سلمان  کے موبائل فون سے ہی ان کی اہلیہ کو ایک ایس ایم ایس پیغام موصول ہوا، جس میں کہا گیا تھا ان کی گاڑی کورال چوک پر موجود ہے اور کوئی جا کر اسے لے آئے۔

مقامی میڈٰیا نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ سلمان حیدر کی گاڑی کورنگ ٹاؤن کے قریب سے ملی ہے جبکہ تھانہ لوئی بھیر میں ان کے اغواء کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ یہ مقدمہ سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر کی درخواست پر درج کیا گیا ہے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق ملکی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے سلمان حیدر کے لاپتہ ہو جانے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان کی بازیابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

ملتے جلتے مندرجات