انسانوں کی اسمگلنگ، پاکستانی اور بھارتی شہری گرفتار | مہاجرین کا بحران | DW | 09.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانوں کی اسمگلنگ، پاکستانی اور بھارتی شہری گرفتار

فن لینڈ کے سرحدی محافظوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک ایسے بین الاقوامی گروہ کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے جو مبینہ طور پر آرکٹک راستوں کے ذریعے تارکین وطن کو روس سے فن لینڈ پہنچا رہا تھا۔

انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث یہ بین الاقوامی گروہ تارکین وطن کو برفیلے اور دشوار گزار قطبی راستوں کے ذریعے روس سے فن لینڈ پہنچا رہا تھا۔ فن لینڈ پولیس اہلکار ٹیمو مانتنیامی کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی اسمگلروں کا یہ گروہ سولہ افراد پر مشتمل تھا اور ان کا تعلق پاکستان، بھارت، سویڈن اور ہالینڈ سے ہے۔

دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ بند کرنے کا اعلان

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

مانتنیامی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس گروہ نے مبینہ طور پر رواں برس جنوری اور فروری کے مہینے میں 45 تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر بھارت سے براستہ روس فن لینڈ پہنچایا۔

پولیس نے تیرہ اسمگلروں کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ فن لینڈ میں مستقل طور پر رہائش پذیر تین ایسے افراد کو رہا کر دیا گیا ہے جن کے جرائم کی نوعیت تفتیشی اہلکاروں کے مطابق معمولی نوعیت کی تھی۔

اس کیس کی تفتیش کرنے والے ٹیمو مانتنیامی نے نیوز ایجنسی اے پی سے کی گئی اپنی ایک گفتگو میں بتایا کہ یہ گروہ بھارت سے فن لینڈ تک پہنچانے کے لیے ہر تارک وطن سے 15 ہزار یورو وصول کرتا تھا۔

فن لینڈ کی پولیس کو انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کے بارے میں اس وقت پتہ چلا تھا جب اٹلی میں مقیم ایک بھارتی شہری کو ہیلسنکی کے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ دو ماہ کے اندر اندر ہالینڈ، جرمنی، پولینڈ، اٹلی اور روس سمیت کئی ممالک کی پولیس کے تعاون سے اس گروہ کے دیگر اراکین کی نشاندہی کا عمل جاری رہا اور آخر کار سولہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

رواں برس کے آغاز ہی میں قطبی راستوں سے گزر کر فن لینڈ تک پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ہیلنسکی حکام کو شبہ ہوا تھا کہ تارکین وطن منظم جرائم پیشہ افراد کی مدد سے یہ راستہ اپنا رہے ہیں۔

2015ء کے پورے سال کے دوران آرکٹک راستوں کے ذریعے روس سے فن لینڈ پہنچنے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد محض 700 تھی جب کہ رواں برس کے پہلے دو ماہ کے دوران ایک ہزار سے زائد مہاجرین و پناہ گزین نے یورپ پہنچنے کے لیے اس برفیلے راستوں کا انتخاب کیا۔

مانتنیامی کا کہنا تھا، ’’ان اسمگلروں نے تارکین وطن کو ناروے پہنچانے کی بھی کوشش کی لیکن اوسلو کی جانب سے قطبی سرحدی راستوں کی نگرانی میں سختی کے بعد فن لینڈ کا رخ کیا گیا۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ان راستوں سے پناہ گزینوں کی آمد ختم ہو چکی ہے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM