انتہا پسندی کے خلاف پاکستانی جنگ ایک ’سیاسی بارودی سرنگ‘ | معاشرہ | DW | 06.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انتہا پسندی کے خلاف پاکستانی جنگ ایک ’سیاسی بارودی سرنگ‘

پاکستان میں انتہا پسندی کا مقابلہ ایک پیچیدہ کام ہے۔ اہم رہنماؤں کے اگر کالعدم جنگجو گروہوں سے تعلقات واضح ہیں تو سکیورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے چند عناصر میں مذہب کے نام پر متشدد عناصر سے ہمدردی بھی پائی جاتی ہے۔

Pakistan Mumtaz Hussain Qadri Ex-Bodyguard wurde hingerichtet Proteste in Peschawar

پاکستان میں انتہا پسندی کا مقابلہ ایک پیچیدہ کام ہے

پاکستان میں مذہب کے نام پر انتہا پسندی ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اس صورتحال میں بہت سے حلقے اس شبے کا شکار ہیں کہ آیا یہ ریاست جنگجوؤں کے اس تشدد کو روکنے کی خاطر کوئی ٹھوس اقدامات کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں سالانہ سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ ایک ’سیاسی بارودی سرنگ‘ پر چلنے کے مترادف ہے۔

DW.COM

پاکستان کا دل تصور کیے جانے والے شہر لاہور میں کیا گیا حالیہ دہشت گردانہ حملہ ایک اور خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے۔ بچوں کے ایک پارک میں ہوئی اس خونریز کارروائی میں 72 افراد ہلاک ہوئے۔

مسیحی مذہبی تہوار ایسٹر کے موقع پر جنگجوؤں نے بظاہر نشانہ تو مسیحی برادری کو بنایا لیکن اس کارروائی میں بہت سے مسلمان بھی مارے گئے۔ اس حملے پر ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی برادری نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ انتہا پسندی سے نمٹنے کی خاطر جامع حکمت عملی کو بھرپور طریقے سے نافذ کرے۔

’ممتاز قادری کی حمایت‘

جب لاہور میں یہ حملہ ہوا تھا تو دوسری طرف اسلام آباد میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ بھی کر رہی تھی اور ساتھ ہی تختہ دار پر لٹکائے جانے والے ایک ایسے شخص کے ساتھ اظہار ہمدردی میں مصروف تھی، جس نے توہین مذہب کے نام پر پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری کردہ تصاویر میں دیکھا گیا تھا کہ ایلیٹ پولیس فورس کے درجنوں اہلکار ممتاز قادری کی قبر پر عبادت میں بھی مصروف تھے۔ ممتاز قادری کو جب فروری میں سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی، تب بھی پاکستان بھر میں اس کے لاکھوں حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر اس کے لیے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

پنجاب حکومت کی طرف سے انتہا پسندی کے خاتمے کی کوششوں پر اس وقت ایک اور سوالیہ نشان ابھر آیا تھا، جب صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ صوبے میں کوئی جنگجو گروہ فعال نہیں ہے۔ تاہم پنجاب کو کالعدم اور پرتشدد سنی گروپوں کا صدر مقام تصور کیا جاتا ہے۔

کالعدم گروہ ختم ہو گئے کیا؟

پاکستان میں جنگجو تحریکوں سے متعلقہ امور کے ماہر زاہد حسین کے بقول البتہ بہت سے انتہا پسند گروہوں نے اپنی شناخت چھپا رکھی ہے۔ پاکستان میں فعال ایسی ہی ایک انتہا پسند تنظیم کا نام ’جیش محمد‘ بھی ہے۔ زاہد حسین کے مطابق یہ گروہ بھی خفیہ طور پر فعال ہے۔ اس گروہ کا سربراہ مسعود اظہر ہے۔

امریکا کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی لشکر طیبہ نامی تنظیم بھی ’جماعت الدعوہ‘ کے نام سے پنجاب میں فعال ہے۔ اس تنظیم کو پاکستان نے 2015 میں ممنوع قرار دے دیا تھا لیکن اس کا سربراہ حافظ سعید پاکستان بھر میں نہ صرف کھلے عام سفر کرتا ہے بلکہ اپنے عوامی خطبات میں مغربی اور بھارتی مفادات پر حملوں کی ترغیب بھی دیتا ہے۔

زاہد حسین کے مطابق صوبہ پنجاب میں ’سپاہ صحابہ‘ نامی ایک تنظیم بھی طویل عرصے فعال ہے، جس کے عسکری شعبے پر ایسے متعدد حملوں کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جن میں بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ سپا صحابہ اگرچہ پاکستان میں ممنوعہ جماعت ہے لیکن پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے صوبائی انتخابات کے دوران اسی جماعت کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر اپنی انتخابی مہم چلائی تھی۔

جماعت الاحرار بھی مبینہ طور پر پنجاب میں فعال ہے، جس نے لاہور میں بچوں کے پارک میں کیے جانے والے حالیہ حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ناقدین کے مطابق اس جنگجو گروہ کی جڑیں پاکستانی قبائلی علاقوں میں ہیں اور اس نے عراق اور شام میں فعال انتہا پسند تحریک داعش کے ساتھ اپنی ہمدردی کا کھلے عام اعلان کر رکھا ہے۔

Pakistan Lahore Christen trauern bei Beerdigung nach Selbstmordattentat

پاکستان کا دل تصور کیے جانے والے شہر لاہور میں کیا گیا حالیہ دہشت گردانہ حملہ ایک اور خطرے کی گھنٹی قرار دیا جا رہا ہے

سیکورٹی ادارے اور حقائق

وُوڈرَو ولِسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز سے وابستہ مائیکل کوگل مین کے مطابق پاکستان میں فعال جنگجو گروہ بنیادی طور پر بہت سے نظریات پر متفق ہیں۔ ایشیائی اور جنوب ایشیائی امور کے ماہر کوگل مین کہتے ہیں کہ پاکستان کی تمام جنگجو تنظیمیں ایک ہی کڑی کے مختلف حصے ہیں۔

پاکستان میں انتہا پسندانہ کارروائیوں اور جنگجوؤں کے خلاف عسکری آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں فوجی اہلکار بھی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ تاہم پھر بھی پاکستانی فوج کے متعدد عناصر کے مبینہ طور پر جنگجو گروہوں کے ساتھ روابط تاریخی رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر بھی ایسے شکوک پائے جاتے ہیں کہ آیا پوری پاکستانی فوج انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں قطعی سنجیدہ ہے۔

دوسری طرف پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل عاصم باجوہ ایسے مفروضات کو رد کرتے ہیں کہ ان کا ادارہ ان جنگجوؤں سے کوئی تعلق رکھتا تھا یا رکھتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ملکی فوج انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتی ہے۔ تاہم کئی سیاسی اور سکیورٹی تجزیہ نگاروں کے مطابق ان بیانات اور زمینی حقائق میں تعلق ڈھونڈنا بھی ایک معمہ ہے۔