’امی، ظالموں کے گناہ بےنقاب کرنا‘: خاتون ایتھلیٹ نے خود کشی کر لی | کھیل | DW | 02.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

’امی، ظالموں کے گناہ بےنقاب کرنا‘: خاتون ایتھلیٹ نے خود کشی کر لی

جنوبی کوریا کی ایشیائی کھیلوں میں تمغہ جیتنے والی ایک خاتون ایتھلیٹ نے کوچنگ کے دوران برس ہا برس کے جسمانی اور زبانی استحصال سے تنگ آ کر خود کشی کر لی۔ اس خاتون کھلاڑی کا نام چوئی سُوک ہیئون اور عمر بائیس سال تھی۔

سیئول سے جمعرات دو جولائی کو ملنے والی رپورٹوں میں جنوبی کوریائی میڈیا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس سٹار ایتھلیٹ نے گزشتہ ماہ بُوسان شہر میں اپنی ٹیم کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں خود کشی کر لی۔ بائیس سالہ چوئی سُوک نے 2015ء میں تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں ہونے والی ایشیائی ٹرئیاتھلون چیمپئن شپ میں خواتین کے جونیئر مقابلوں میں اس وقت کانسی کا تمغہ جیتا تھا، جب ان کی عمر 17 برس تھی۔

ملکی میڈیا کے مطابق یہ ایتھلیٹ اس بات سے ذہنی اور جذباتی طور پر انتہائی تنگ آ چکی تھیں کہ انہیں اپنے کوچز کے ہاتھوں گزشتہ کئی برسوں سے شدید قسم کے جسمانی اور زبانی استحصال اور غلط رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ جنوبی کوریائی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے اس بارے میں کھیلوں کے نگران ملکی حکام سے بار بار شکایات بھی کی تھیں، مگر ان شکایات کو مبینہ طور پر نظر انداز کیا جاتا رہا تھا۔

'ظالموں کے گناہوں سے پردہ اٹھا دو‘

اس نوجوان ایتھلیٹ کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر درپیش حالات کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ ان کی موت کے بعد ملکی میڈیا نے چوئی سُوک کی ان کی والدہ کے ساتھ ٹیکسٹ میسج کی صورت میں ہونے والے آخری گفتگو کے سکرین شاٹس بھی شائع کیے ہیں۔ اپنے آخری پیغام میں چوئی سُوک نے اپنی والدہ سے درخواست کی تھی، ''ان لوگوں کے گناہوں کو بے نقاب ضرور کرنا، جو میرا استحصال کرتے رہے۔‘‘

جنوبی کوریا مشرق بعید میں کھیلوں کے شعبے میں ایک بہت کامیاب ملک سمجھا جاتا ہے۔ گرمائی اور سرمائی اولمپکس جیسے عالمی مقابلوں میں اس ملک کے کھلاڑی باقاعدگی سے اتنے زیادہ تمغے جیتتے ہیں کہ میڈل ٹیبل پر یہ ملک ہمیشہ ہی دس کامیاب ترین ممالک میں سے ایک ہوتا ہے۔

اس تناظر میں جنوبی کوریا میں کھلاڑیوں کو تقریباﹰ ہر کھیل میں اپنے ہی ہم وطن کھلاڑیوں کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا بھی رہتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے جنوبی کوریا میں کھلاڑیوں کا جسمانی اور زبانی استحصال بھی جگہ جگہ دیکھنے میں آتا ہے۔

بدسلوکی کے دل خراش واقعات

چوئی سُوک نے 2016ء میں ہونے والی جنوبی کوریا کی بہترین خاتون کھلاڑیوں کی قومی چیمپئن شپ میں بھی حصہ لیا تھا۔ اس چیمپئن شپ کے دوران ایک بار انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، ''آج بارش ہوتی رہی۔ مجھے بری طرح پیٹا گیا۔ میں اب ہر روز روتی رہتی ہوں۔‘‘

نشریاتی ادارے وائی ٹی این کی طرف سے نشر کردہ ایک فائل کے مطابق ایک مرتبہ چوئی سُوک کے کوچ ان سے اس لیے بہت زیادہ ناراض ہوئے تھے کہ چوئی کا وزن کچھ بڑھ گیا تھا۔ اس پر کوچ نے اس کھلاڑی کو کہا تھا، ''تمہیں تین روز تک کچھ بھی کھانے سے پرہیز کرنا ہو گا۔‘‘

اسی آڈیو فائل میں اس کے بعد چوئی کے کوچ کی یہ آواز بھی سنائی دیتی ہے، ''دانت دبا کر اپنا منہ زور سے بند کرو۔‘‘ اس حکم کے بعد تڑاخ کی آواز سنائی دی، جو کوچ کی طرف سے چوئی سُوک کے منہ پر مارا جانے والا بہت زور دار تھپڑ تھا۔

ملکی میڈیا کے مطابق چوئی سُوک کے کوچ اور ٹیم کے دیگر ذمے دار اہلکاروں کی عادت تھی کہ وہ چوئی کی پٹائی بھی کرتے تھے۔ ایک واقعے میں جب وہ اپنا جسمانی وزن مسلسل کم رکھنے میں جزوی طور پر ناکام رہیں، تو ٹیم آفیشلز نے سزا کے طور پر انہیں دو لاکھ وان یا 166 امریکی ڈالر کے برابر قیمت کے عوض خریدی گئی ساری بریڈ کھانے پر مجبور بھی کر دیا تھا۔

ملکی صدر کا حکم

چوئی سُوک کی خود کشی کی خبروں اور ان کی موت کے اسباب سے متعلق تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے کہا ہے کہ کھیلوں کی وزارت کو اس مقصد کے تحت 'جامع اور نتیجہ خیز‘ اقدامات کرنا چاہییں تاکہ مستقبل میں کھلاڑیوں کے استحصال کے ایسے واقعات بالکل پیش نہ آئیں۔

صدر مون جے ان نے زور دے کر کہا کہ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ چوئی سُوک کی طرف سے کی گئی شکایات پر اعلیٰ حکام کی طرف سے کوئی مناسب ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

م م / ا ا (اے ایف پی)

DW.COM