امن مذاکرات سے قبل روس کے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے
وقت اشاعت 3 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 3 فروری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- فرانس: اسکول میں طالب علم کے ہاتھوں استاد پر چاقو حملہ
- امن مذاکرات سے قبل روس کے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے
- ترک صدر سعودی عرب میں، سابق حریفوں کے تعلقات میں گرمجوشی
- میلبورن میں گاندھی کا مجسمہ چوری، بھارت کا آسٹریلیا سے فوری کارروائی کا مطالبہ
- فرانس: پولیس کا ’ایکس‘ کے دفاتر پر چھاپہ، ایلون مسک کو سمن
- سابق بھارتی آرمی چیف کی مبینہ کتاب کا تنازع: کانگریس کے آٹھ ارکان پارلیمان معطل
- جرمنی میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد غربت کے خطرے سے دوچار
- ایران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہو گیا
- ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کر دیا
فرانس: اسکول میں طالب علم کے ہاتھوں استاد پر چاقو حملہ
جنوبی فرانس میں منگل کو ایک سیکنڈری اسکول کے طالب علم نے ایک آرٹ ٹیچر پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ ساٹھ سالہ متاثرہ ٹیچر کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
ٹولوں کے پراسیکیوٹر رافائل بالاں کے مطابق، نوعمر طالب علم نے منگل کی دوپہر ٹیچر کو کم از کم تین مرتبہ چاقو مارا، جس کے بعد اسے اقدامِ قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔
فرانسیسی وزیرِ تعلیم ادوار جیفرے نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ۔ انہوں نے ایکس پر بتایا کہ جنوبی فرانس کے قصبے سَناری سور میر کے ایک اسکول میں طالب علم نے ٹیچر پر حملہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر اسکول روانہ ہو گئے ہیں۔
بی ایف ایم ٹی وی کے مطابق، طالب علم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ حملے کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔
فرانس میں ایسے واقعات کا سلسلہ رہا ہے، جن میں طلبہ نے اساتذہ یا دیگر طالب علموں پر حملے کیے ہیں۔
گزشتہ سال ایک 14 سالہ طالب علم پر جون میں ایک تدریسی معاون کو مبینہ طور پر چاقو مار کر ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس نے مشرقی قصبے نوژاں میں بیگ کی تلاشی کے دوران 31 سالہ خاتون پر حملہ کیا تھا، جو ایک کمسن بچے کی ماں تھیں۔
ایک الگ واقعے میں اپریل کے مہینے میں مغربی شہر نانت میں ایک طالب علم نے چاقو سے حملہ کر کے ایک لڑکی کو ہلاک اور کئی دیگر طلبہ کو زخمی کر دیا تھا۔
امن مذاکرات سے قبل روس کے یوکرین پر ڈرون اور میزائل حملے
صدر وولودیمیر زیلنسکی نے منگل کو کہا کہ روس نے ’وعدہ خلافی‘ کرتے ہوئے گزشتہ رات یوکرین پر بڑا حملہ کیا۔ دونوں ممالک کے نمائندے چار سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرنے والے ہیں۔
ابو ظہبی میں امن مذاکرات بدھ اور جمعرات کو ہونے والے ہیں۔
زیلنسکی کے مطابق یہ کارروائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے کے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔ ان حملوں کا خاص ہدف بجلی کا نظام تھا، جو کییف کے بقول شہریوں کو سرد ترین موسم میں روشنی، حرارت اور پانی سے محروم کرنے کی ماسکو کی جاری مہم کا حصہ ہے۔
ان حملوں میں سینکڑوں ڈرونز اور 32 بیلسٹک میزائل شامل تھے، جن سے کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے۔
زیلنسکی نے کہا، ’’سردیوں کے انتہائی سرد ترین دنوں میں لوگوں کو دہشت زدہ کرنا روس کے لیے سفارت کاری سے زیادہ اہم ہے۔‘‘
کییف میں رات کے وقت درجہ حرارت منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا اور منگل کو منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
اس دوران نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹے نے حمایت کے اظہار کے طور پر کییف کا دورہ کیا۔ زیلنسکی نے ان سے ملاقات کی اور اتحادیوں سے مزید فضائی دفاعی سامان فراہم کرنے اور روس پر اس کی مکمل جارحیت ختم کرانے کے لیے ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ ڈالنے کی اپیل کی۔
حکام کے مطابق ماسکو اور کییف کے وفود کے درمیان حالیہ بات چیت تعمیری رہی ہے، لیکن ایک سال کی کوششوں کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ اہم نکات پر پیش رفت کی تلاش میں ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین لڑائی ختم کرنے پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن کوئی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔‘‘
ترک صدر سعودی عرب میں، سابق حریفوں کے تعلقات میں گرمجوشی
ترک صدر رجب طیب ایردوآن منگل کو ریاض پہنچے، یہ دو سال سے زائد عرصے میں ان کا پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں نمایاں بہتری آ رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات بتدریج بحال ہوئے ہیں اور وہ متعدد سفارتی امور پر تعاون کر رہے ہیں، جن میں غزہ کی حمایت اور 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نئی حکومت کی حمایت شامل ہے۔
ایردوآن اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ یہ ان کا جولائی 2023 کے بعد سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے۔
اگرچہ بات چیت کے موضوعات کی سرکاری طور پر وضاحت نہیں کی گئی، تاہم ترک سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق دونوں رہنما ’’دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے‘‘ کے ساتھ ہی علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے بعد ایردوآن بدھ کو قاہرہ روانہ ہوں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ذرائع کے مطابق ترکی سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مجوزہ باہمی دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہو گا۔ حالانکہ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اس ماہ کے آغاز میں اس حوالے سے بات چیت کی تصدیق کی تھی۔
سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات اکتوبر 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے۔
ریاض میں یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چھ فروری کو ترکی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات متوقع ہیں۔
ایردوآن امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ تصادم روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھرے ہیں۔
ادارت: افسر اعوان
میلبورن میں گاندھی کا مجسمہ چوری، بھارت کا آسٹریلیا سے فوری کارروائی کا مطالبہ
میلبورن کے علاقے روہ وِل میں واقع آسٹریلین انڈین کمیونٹی سینٹر کے باہر سے مہاتما گاندھی کا کانسی کا مجسمہ چوری ہو گیا۔ یہ مجسمہ بھارتی وزارت خارجہ کے تحت کام کرنے والے ادارے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز (آئی سی سی آر) کی جانب سے تحفے میں دیا گیا تھا۔ اسے آسٹریلیا میں بھارتی برادری کے لیے ثقافتی، تاریخی اور علامتی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔
’آسٹریلیا ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ چوری پیر کی رات تقریباً 12:50 بجے ہوئی۔ پولیس نے بتایا کہ تین نامعلوم افراد نے گرائنڈر کی مدد سے 426 کلوگرام وزنی مجسمہ کو اس کی بنیاد سے کاٹ دیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں دکھایا گیا کہ مجسمہ ٹخنوں کے مقام سے کاٹا گیا ہے اور صرف پاؤں باقی رہ گئے ہیں۔
اس واقعے نے بھارتی نژاد آسٹریلوی برادری میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے اور پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
اس معاملے پر نئی دہلی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ بھارت نے آسٹریلوی حکام سے باضابطہ طور پر رابطہ کر کے فوری طور پر مجسمہ برآمد کرنے اور ذمہ داروں کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت مہاتما گاندھی کے مجسمے کی توڑ پھوڑ اور چوری کی سخت مذمت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے یہ معاملہ آسٹریلوی حکام کے سامنے بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے اور ان سے مطالبہ کیا ہے کہ گمشدہ مجسمہ فوری طور پر برآمد کریں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔‘‘
فرانس: پولیس کا ’ایکس‘ کے دفاتر پر چھاپہ، ایلون مسک کو سمن
فرانسیسی تفتیش کاروں نے منگل کو پیرس میں ایلون مسک کےسوسل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے دفاتر کی تلاشی لی۔
پیرس کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق، ایلون مسک اور ایکس کی سابق چیف ایگزیکٹو لنڈا یاکارینو کو 20 اپریل کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
یورپی پولیس ادارے یوروپول کے اہلکار بھی تلاشی کے دوران موجود تھے۔
ایکس تقریباً ایک سال سے پیرس میں زیرِ تفتیش ہے، جہاں الزامات ہیں کہ سوشل نیٹ ورک کے الگوردمز میں ردوبدل کر کے انتہائی دائیں بازو کے مواد کو زیادہ نمایاں کیا گیا۔
حال ہی میں ایکس کے اے آئی چیٹ بوٹ کے ذریعے خواتین اور بچوں کی ڈیپ فیک تصاویر بنانے، نیز ہولوکاسٹ سے انکار جیسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
پیرس کی پبلک پراسیکیوٹر لور بیکو نے کہا کہ ان تحقیقات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایکس فرانس میں فرانسیسی قانون کے مطابق کام کرے۔
ایکس کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ تحقیقات ابتدا میں ایک فرانسیسی قانون ساز کی رپورٹس کے بعد شروع کی گئی تھیں، جن میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایکس پر جانبدار الگوردمز نے ممکنہ طور پر خودکار ڈیٹا پراسیسنگ نظام کے کام کو متاثر کیا ہے۔
بعد ازاں یہ تحقیقات اس وقت مزید وسیع کر دی گئیں جب ایکس کے مصنوعی ذہانت چیٹ بوٹ ’گروک‘ نے ایسی پوسٹس تیار کیں جن میں مبینہ طور پر ہولوکاسٹ سے انکار کیا گیا اور جنسی نوعیت کی ڈیپ فیک تصاویر پھیلائی گئیں۔ فرانس میں ہولوکاسٹ سے انکار ایک جرم ہے۔
سابق بھارتی آرمی چیف کی مبینہ کتاب کا تنازع: کانگریس کے آٹھ ارکان پارلیمان معطل
بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نراونے کی غیر شائع شدہ ’میموائر‘ پر منگل کو لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ایک بار پھر سخت کشیدگی دیکھنے میں آئی۔ پیر کے روز بھی اسی سلسلے میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوا تھا۔
منگل کو ’بدنظمی‘ پیدا کرنے کے الزام میں کانگریس کے آٹھ ارکان پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا۔
زیرِ بحث غیر شائع شدہ میموائر دراصل ’کاروان‘ میگزین میں شائع ایک مضمون کے مواد سے متعلق ہے، جس میں سابق آرمی چیف منوج مکُند نراونے کے حوالے سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ 2020ء میں بھارت اور چین کے درمیان تصادم کے دوران سیاسی قیادت غیر فیصلہ کن نظر آئی۔
حزب اختلاف کے رہنما راہول گاندھی نے پیر کے روز پارلیمان میں الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت پچھلے دو سال سے جنرل نروانے کی کتاب کو شائع نہیں ہونے دے رہی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے براہ راست وزیر اعظم مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو مؤرد الزام ٹھہرایا۔
آج منگل کو پارلیمنٹ میں اس وقت شدید ہنگامہ اس وقت برپا ہو گیا جب راہول گاندھی نے مسلسل دوسرے دن جنرل نراونے کی غیر شائع شدہ کتاب سے اقتباسات پڑھنے کی کوشش کی، جن میں 2020 میں لداخ میں بھارت-چین فوجی ٹکراؤ سے متعلق حصے شامل تھے۔
لیکن اس کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان پارلیمان نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں آخرکار لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اور ہنگامہ آرائی کرنے پر کانگریس کے آٹھ ارکان پارلیمان کو پارلیمنٹ اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔
بی جے پی نے راہول گاندھی پر ’جمہوریت اور پارلیمنٹ کی توہین‘ ایوان کو گمراہ کرنے اور مسلح افواج کو کمتر دکھانے کا الزام لگایا۔
جرمنی میں ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد غربت کے خطرے سے دوچار
وفاقی جرمن شماریاتی دفتر کی جانب سے منگل کو جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ایک کروڑ 33 لاکھ افراد غربت کے خطرے میں ہیں۔ یہ آبادی کا 16.1 فیصد بنتا ہے۔ 2024 میں یہ شرح 15.5 فیصد تھی۔
یہ اعداد و شمار یورپی یونین کے سروے برائے آمدن اور معیارِ زندگی سے لیے گئے ہیں۔ یورپی یونین کے مطابق ’’غربت کے خطرے سے دوچار‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرد کی آمدن اوسط مساوی آمدن کے 60 فیصد سے کم ہو۔
جرمنی میں اکیلے رہنے والے افراد کے لیے حد، ماہانہ خالص آمدن 1,446 یورو مقرر کی گئی ہے، جبکہ دو بالغ افراد اور 14 سال سے کم عمر دو بچوں پر مشتمل خاندان کے لیے یہ حد 3,036 یورو ہے۔
کچھ گروہ ایسے ہیں جن میں غربت کے خطرے کی شرح زیادہ ہے۔ مثلاﹰ
اکیلے رہنے والے افراد — 30.9 فیصد
سنگل پیرنٹ پر مشتمل خاندان — 28.7 فیصد
بے روزگار افراد — 64.9 فیصد
کام سے باہر افراد — 33.8 فیصد
ریٹائرڈ افراد — 19.1 فیصد
کسی بھی ملک میں غربت یا اس کے خطرے کی درست تصویر کوئی ایک طریقۂ کار فراہم نہیں کر سکتا، کیونکہ افراد کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔
یورپی یونین کے سروے برائے آمدن اور معیارِ زندگی ان افراد کی تعداد بھی دیکھتا ہے جو غربت اور سماجی اخراج کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس میں مذکورہ ڈیٹا کے ساتھ وہ گھرانے بھی شامل ہوتے ہیں جو شدید مادی و سماجی محرومی یا کم روزگار کی شرح سے متاثر ہوں۔
اس طریقۂ کار کے مطابق 2025 میں جرمنی میں ایک کروڑ 76 لاکھ افراد غربت اور سماجی اخراج کے خطرے میں تھے، جو آبادی کا 21.2 فیصد بنتا ہے۔
ادارت: افسر اعوان
ایران امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہو گیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے منگل کے روز تصدیق کی کہ انہوں نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ’برے نتائج‘ کی دھمکی کے بعد سامنے آیا۔
امریکی صدر نے فوجی کارروائی کا ذکر بھی کیا تھا اور گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک طیارہ بردار بحری بیڑہ بھی بھیجا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ ’’کوئی حل نکال لے گا‘‘، تاہم انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ’’برے نتائج سامنے آئیں گے۔‘‘
تہران کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعہ مسئلے کا حل کرنا چاہتا ہے، لیکن کسی بھی جارحیت کے خلاف سخت جواب دینے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
پزشکیان نے ایکس پر لکھا: ’’میں نے اپنے وزیرِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ اگر مناسب ماحول موجود ہو، یعنی دھمکیوں اور غیر معقول توقعات سے پاک، تو منصفانہ اور مساوی مذاکرات آگے بڑھائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات ’’ہمارے قومی مفادات کے دائرے میں‘‘ ہوں گے اور یہ فیصلہ ’’دوست حکومتوں‘‘ کی درخواستوں کے بعد کیا گیا ہے۔
’ایکس‘ پر پزشکیان نے کہا کہ یہ فیصلہ ’’خطے کی دوست حکومتوں کی جانب سے امریکہ کے صدر کی مذاکرات کی تجویز پر ردعمل دینے کی درخواستوں‘‘ کے بعد کیا گیا۔
امریکہ نے تاحال ان مذاکرات کے انعقاد کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ادارت: افسر اعوان
ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کر دیا
یہ پیش رفت بھارت اور امریکہ کے درمیان کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد مفاہمت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت امریکی ٹیرفس بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد رہ جائیں گے، جبکہ اس کے بدلے بھارت روسی تیل کی خریداری روکنے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نے امریکی مصنوعات کی خریداری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جو توانائی، کوئلہ، ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں سمیت 500 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک بھارتی سرکاری اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ معاہدے کے تحت بھارت نے ٹیلی کام اور دواسازی سمیت امریکی مصنوعات خریدنے اور بعض زرعی مصنوعات کے لیے منڈی تک رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بھارت نے حال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے تحت بھی منتخب زرعی مصنوعات کے لیے منڈی تک رسائی کی پیشکش کی تھی۔
اہلکار نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے فوری مطالبات پورے کرنے اور معاہدے کے پہلے مرحلے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھارت نے درآمد شدہ گاڑیوں پر محصولات بھی کم کر دیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایک زیادہ جامع معاہدہ آنے والے مہینوں میں کیا جائے گا۔
بھارتی حکومت نے اس پیش رفت پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی نے بند کمرے میں حکمران این ڈی اے اتحاد کے اہم رہنماؤں سے بات کی اور نئے اعلان کردہ بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے اثرات پر گفتگو کی۔
ادارت: افسر اعوان