امریکی وزیرخارجہ کا دورہ بھارت، انسانی حقوق بھی زير بحث | حالات حاضرہ | DW | 26.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی وزیرخارجہ کا دورہ بھارت، انسانی حقوق بھی زير بحث

امریکی وزیر خارجہ بھارت کے دو روزہ دورے پر ہيں۔ بھارتی حکام کے ساتھ ملاقاتوں ميں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں سلامتی کی صورتحال اور بھارت میں انسانی حقوق سے منسلک معاملات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

انٹونی بلنکن کے ساتھ مذاکرات ميں بھارتی حکام افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال اور دہشت گردی کی مالی معاونت نیز دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے روکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے پر بھی توجہ ديں گے۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھارت کے دو روزہ دورے پر منگل کے روز دارالحکومت نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔ صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا بھارت کا یہ اولين دورہ ہے۔ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات نیز خطے اور بالخصوص افغانستان میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کے مد نظر بلنکن کا یہ دورہ کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے چین کے ساتھ تعلقات بھی نسبتاً خراب ہیں۔ ایسے میں چین کی توسیع پسندانہ سوچ اور پاليسيوں پر دونوں ملکوں کے ممکنہ مشترکہ لائحہ عمل پر بھی نگاہیں ہیں۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق بلنکن وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے علاوہ اپنے ہم منصب ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے ساتھ اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

Deutschland US Außenminister besucht Berlin - Ankunft

مریکی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال کا معاملہ بھی اٹھائیں گے

بلنکن کے دورے کی اہمیت

بھارت کے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلنکن کا یہ دورہ نئی دہلی کے لیے ’خصوصی اہمیت‘ کا حامل ہے۔ بلنکن اور بھارتی حکام باہمی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کے علاوہ علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت کریں گے۔

افغانستان سے امریکی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کے وہاں سکیورٹی کی صورت حال پر کافی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے میں بعض بھارتی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کی ممکنہ صورت ميں وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک بار پھر اپنی سرگرمیاں تیز کر سکتے ہیں۔ اور اس سے بھارت کی پریشانیاں بڑھ جائیں گی۔

حکومتی ذرائع نے مزيد بتايا کہ امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ بھارتی رہنماؤں کی بات چیت میں پاکستان پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے سے روکنے پر بھی دباؤ ڈالا جائے گا۔

Indien | US Verteidigungsminister Lloyd Austin trifft Amtskollege Rajnath Singh

امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے اقلیتی برادريوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا معاملہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ اٹھایا تھا

انسانی حقوق کا معاملہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلنکن کے ساتھ تبادلہ خیال کے دوران بھارت کے لیے سب سے زیادہ 'پریشان کن‘ موضوع انسانی حقوق کا ہوگا کیونکہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورے کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

بلنکن کے دورے سے قبل جب امریکی محکمہ خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے معاون سيکریٹری ڈین تھامسن سے نامہ نگاروں نے يہ سوال کیا تھا کہ آيا وزیر اعظم مودی کی ہندو قوم پرست پارٹی بی جے پی کے نافذ کردہ شہریت ترميمی قانون، جسے ناقدین مسلمانوں کے ساتھ امتيازی سلوک سے تعبير کيا جاتا ہے، کا معاملہ اٹھايا جائے گا؟ اس کے جواب میں تھامسن نے کہا تھا،”اسے اٹھایا جائے گا۔"

Russland | Indischer Außenminister Subrahmanyam Jaishankar

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر

بھارت کا جواب

بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع نے اتوار کے روز کہا کہ انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے معاملات یونیورسل ہیں اور یہ کسی مخصوص قوم یا ثقافتی پس منظرسے بالاتر ہیں۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان ذرائع نے بتايا، ”بھارت نے ان دونوں شعبوں میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس پر اسے فخر ہے اور ہمیں اپنے تجربات میں دوسروں کو شریک کرنے میں خوشی ہوگی۔"

بھارتی ذرائع کا مزید کہنا تھا، ”دیرینہ کثير الثقافتی سماج کی حیثیت سے بھارت ہر اس ملک سے مراسم کے لیے تیار ہے، جو اب تنوع کی اقدار کو تسلیم کرتے ہیں۔"

مارچ میں اپنے دورہ بھارت کے بعد امریکی وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے کہا تھا کہ انہوں نے اقلیتی برادريوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا معاملہ وزیر خارجہ جے شنکر اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ اٹھایا تھا۔ حالانکہ بھارت نے اس بیان کی باضابطہ تردید نہیں کی ہے تاہم حکام کا کہنا تھا اس طرح کی کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی تھی البتہ محض ذکر ہوا تھا۔

جاوید اختر

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات