امریکی مطالبات کی فہرست پاکستان کو پہنچ گئی، پینٹاگون | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی مطالبات کی فہرست پاکستان کو پہنچ گئی، پینٹاگون

امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کے مطابق پاکستان کو واشنگٹن کی طرف سے ’ٹھوس اقدامات‘ کے مطالبات کی فہرست کی صورت میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ امریکا کی طرف سے روکی گئی سکیورٹی امداد کی بحالی کے لیے اسلام آباد کو کیا کرنا ہو گا۔

default

افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب پاکستانی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والے پاکستانی فوجی

واشگٹن سے منگل نو جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون کی طرف سے مقامی وقت کے مطابق پیر آٹھ جنوری کی شام کہا گیا کہ پاکستانی حکومت کو امریکی مطالبات کی وہ فہرست پہنچا دی گئی ہے، جس پر لازمی عمل درآمد کی صورت میں ہی پاکستان کے لیے سینکڑوں ملین ڈالر کی وہ سکیورٹی امداد بحال ہو سکے گی، جو ٹرمپ انتظامیہ نے ابھی حال ہی میں معطل کر دی تھی۔

پاکستان نے نیٹو سپلائی روٹ بند کیا تو امریکا کیا کرے گا؟

کيا پاکستان کے ليے امريکی امداد کی معطلی، چين کے ليے موقع ہے؟

کیا امریکا کی طرف سے امداد میں کٹوتی پر پاکستان پریشان ہے؟

اس بارے میں پینٹاگون کے ترجمان کرنل راب میننگ نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہماری توقعات بالکل صاف اور سیدھی ہیں۔ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے رہنماؤں اور مسلح حملوں کے منصوبہ سازوں کو نہ تو پاکستان میں کوئی محفوظ ٹھکانے میسر ہونا چاہییں اور نہ ہی ان کو پاکستانی سرزمین سے اپنی کارروائیوں کی اجازت ہونا چاہیے۔‘‘

ان امریکی مطالبات کا پس منظر یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کو دہشت گردی کے خلاف عسکری تعاون کی مد میں ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ میں سے مہیا کی جانے والی قریب 900 ملین ڈالر کی امداد معطل کر دی تھی۔ ساتھ ہی امریکا کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان اپنے ہاں ’افغان طالبان کی پناہ گاہوں اور حقانی گروپ کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہا‘۔

Taliban Kämpfer Symbolbild

پاکستان اپنی سرزمین پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائیاں کرے، پینٹاگون

اے ایف پی کے مطابق امریکا کا ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ ان مالی وسائل کو کہتے ہیں، جو واشنگٹن انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر اٹھنے والے اخراجات کی اسلام آباد کو واپس ادائیگی کے لیے مختص کر رکھا ہے۔

امریکا نے پاکستان کے لیے کروڑوں ڈالر کی عسکری امداد روک دی

اس امریکی امداد کی معطلی کے ساتھ ہی پاکستان کے لیے قریب ایک ارب ڈالر مالیت کے اس امریکی فوجی ساز و سامان کی فراہمی بھی غیر یقینی ہو گئی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی جدید عسکری ٹیکنالوجی تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔

Jalaluddin Haqqani (AP)

حقانی نیٹ ورک کی بنیاد جلال الدین حقانی نے رکھی تھی

’پاکستان ’دہرا کھیل‘ کھیل رہا ہے، امریکا کا الزام

’امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں‘

پینٹاگون کے ترجمان نے کہا، ’’امریکا نے پاکستان کو ان مخصوص اور ٹھوس اقدامات سے آگاہ کر دیا ہے، جو اسلام آبا دکو کرنا چاہییں۔‘‘ ساتھ ہی کرنل راب میننگ نے مزید کہا، ‘‘ہم دہشت گرد گروپوں میں کوئی بھی تفریق کیے بغیر پاکستان کے ساتھ مل کر ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔ اس بارے میں ہم پاکستانی حکومت کے ساتھ نجی سطح پر اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔‘‘

امریکا نے پاکستان کی جو سکیورٹی امداد معطل کی ہے، اس کے نتیجے میں جوابی اقدام کے طور پر اسلام آباد پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی سے افغانستان تک جانے والی امریکی دستوں کو ساز و سامان کی فراہمی کی سپلائی لائن ممکنہ طور پر کاٹ بھی سکتا ہے۔ اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں پینٹاگون کے ترجمان نے کہا، ’’ابھی تک تو ایسے کوئی اشارے نہیں ملے کہ اسلام آباد ایسے کسی فیصلے یا اس پر عمل درآمد کی تیاریاں کر رہا ہے۔‘‘

DW.COM

اشتہار