امریکی اور چینی صدور کی ’حساس موضوعات‘ پر گفتگو | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی اور چینی صدور کی ’حساس موضوعات‘ پر گفتگو

امریکا اور چین کے صدور نے کیلیفورنیا میں غیر رسمی ملاقات کے بعد عسکری تعلقات میں بہتری اور سائبر سلامتی کے حوالے سے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں رہنماوں نے ہفتے کے روز ہی حساس موضوعات پر بات چیت کا آغاز کر دیا، جن پر اتوار کو مزید تفصیلی گفتگو ہوگی۔ دنیا کی ان دو سر فہرست اقتصادی قوتوں کے سربراہان مملکت امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک سیاحتی مقام پر دو طرفہ دلچپسی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہء خیال کررہے ہیں۔ پہلے روز غیر رسمی ملاقات کا کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا تاہم دونوں رہنماوں نے دوطرفہ تلعقات میں وسعت کے حوالے سے گرم جوشی ظاہر کی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مارچ میں عہدہ صدارت سنبھالنے والے صدر شی کا دورہء امریکا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کس قدر اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو مقابلے اور تعاون میں ایک توازن برقرار رکھنا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطاق چینی صدر ایشیا پر توجہ مرکوز رکھنی والی امریکی اسٹریٹیجک پالیسی سے متعلق خدشات رکھتے ہیں۔ روئٹرز کے مطابق بحرالکاہل میں امریکی عسکری قوت میں اضافے کو چین اپنی سیاسی و اقتصادی وسعت کی راہ میں رکاوٹ سجھتا ہے۔

باراک اوباما نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’ہم اپنے لوگوں کی خوش حالی اور سلامتی کے مقاصد کو مشترکہ طور پر کام کرکے یقینی بناسکتے ہیں نہ کہ تنازعات میں گِھر کر۔‘‘

قبل ازيں چينی رہنما نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک بھی ’سائبر اٹيکس‘ يا انٹرنيٹ سائٹس پر کيے جانے والے حملوں يا ’ہيکنگ‘ سے متاثر ہو رہا ہے۔ واشنگٹن اوربيجنگ ايک دوسرے پر سائبراٹيکس کا الزام عائدکرتے ہیں۔ چينی رہنما کا کہنا تھا کہ يہ ايک تاريخی موڑ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جب ميں نے گزشتہ سال امريکا کا دورہ کيا تھا تو ميں نے کہا تھا کہ بحر الکاہل اتنا وسيع کے کہ دو عالمی طاقتيں امريکا اور چين، دونوں ہی اس خطے ميں اپنی جگہ بنا سکتے ہيں۔‘‘

چین اور امریکا کے تعلقات کچھ عرصے سے شمالی کوریا، چین میں انسانی حقوق کی صورت حال اور دونوں ممالک کے اقتصادی اور عسکری عزائم کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔

(sks/ sha (Reuters

اشتہار