امریکی انخلاء: افغانستان کے ہمسائیوں کو نئے مہاجرین کا خوف | NRS-Import | DW | 01.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

NRS-Import

امریکی انخلاء: افغانستان کے ہمسائیوں کو نئے مہاجرین کا خوف

امریکا کی طرف سے افغانستان سے اپنی فوجی نکالنے کے اعلان کے بعد اس جنگ زدہ ملک کے ہمسایوں کے لیے یہ خوف اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی اپنے ملکوں میں آمد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکا کی طرف سے اس اچانک فیصلے کے تناظر میں افغانستان کے اُن ہمسایہ ممالک کے سفارت کاروں نے ایسے خدشات کا اظہارکیا ہے، جو کابل میں امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہے۔ ان سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ممکنہ طور پر سرحدی کنٹرول میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

کابل میں تعینات ایک سینیئر سفارت کار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’ابھی تک تو انخلاء کے بارے میں صورتحال واضح نہیں ہے، لیکن ہمیں ایک واضح ایکش پلان تیار رکھنا ہو گا۔‘‘ اس سفارت کار کا مزید کہنا تھا، ’’ صورتحال تیزی سے بد سے بدتر ہو سکتی ہے‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک پینٹاگون کو افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری نہیں کیا۔ تاہم امریکی حکام نے ان رپورٹوں کی بھی تردید نہیں کی کہ امریکا افغانستان میں تعینات اپنے کُل 14 ہزار فوجیوں میں سے نصف کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

یہ خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھیں جب افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے طالبان کے نمائندوں کے ساتھ گزشتہ ماہ ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

روئٹرز کے مطابق علاقائی طاقتوں مثلاﹰ ایران اور پاکستان کے علاوہ روس کا بھی ایک طویل عرصے سے یہ خیال ہے کہ امریکا افغانستان میں مستقل فوجی اڈے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکا کی افغانستان سے اچانک واپسی کی کوئی مناسب وجہ موجود نہیں۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر گریم اسمتھ کے بقول، ’’امریکا کی ممکنہ واپسی کی خبر، علاقے میں ایک محتاط پر امیدی کی وجہ تو ہو سکتی ہے مگر اس طرح اچانک واپسی وہ بھی نہیں چاہتے۔‘‘ اسمتھ مزید کہتے ہیں، ’’تمام فریق یہ بات جانتے ہیں کہ اچانک واپسی سے ایک نئی خانہ جنگی  شروع ہو سکتی ہے جو علاقے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔ ہمسائے سرپرائز کو پسند نہیں کرتے اور واشنگٹن کی جانب سے غیر یقینی سگنلز ان میں پریشانی پھیلا رہے ہیں۔‘‘

Afghanistan Konflikt l US-Army in Deh Bala

امریکا افغانستان میں تعینات اپنے کُل 14 ہزار فوجیوں میں سے نصف کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی 1400 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام پہلے سے ہی شروع کر رکھا ہے اور اس سرحد پر 50 ہزار پیراملٹری اہلکار بھی تعینات ہیں۔ دوسری طرف افغانستان میں کسی ممکنہ افراتفری کی صورت میں پاکستان کا رُخ کرنے والے نئے مہاجرین کے حوالے سے بھی تیاری کی جا رہی ہے۔

ایک پاکستان اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا، ’’افغان مہاجرین کی نئی ممکنہ لہر سے نمٹنے کے لیے سرحد کے قریب ہی کیمپ قائم کیے جائیں گے اور انہیں پاکستان میں غیر قانونی طور پر گھر حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

ایران سے حالیہ کچھ عرصے کے دوران بڑی تعداد میں ایسے افغان مہاجرین کو وطن واپس بھیج دیا گیا جو بغیر اندراج کے وہاں رہائش پذیر تھے، تاہم کابل میں تعینات ایرانی حکام نے اب کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کی واپسی کی صورت میں یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔

ایک ایرانی اہلکار نے روئٹرز سے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ افغانوں کا ایران میں داخلے کا راستہ روکا جائے۔ ہم انہیں روکنے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے، لیکن اچانک امریکی انخلاء سے صورتحال بحران کا شکار ہو جائے گی۔‘‘

ا ب ا / ک م (روئٹرز)

DW.COM