امریکہ اور اسرائیل کے نئے حملے، جوابی ایرانی کارروائیاں جاری
وقت اشاعت 10 مارچ 2026آخری اپ ڈیٹ 10 مارچ 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- تیل کی عالمی منڈی کی صورتحال پر آئی ای اے کا ہنگامی اجلاس آج
- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف
- جرمن وزیر خارجہ کا اچانک دورہ اسرائیل، ایرانی میزائل حملے سے متاثرہ علاقے کا بھی جائزہ
- ایران میں جاسوسی کے الزام میں ایک غیر ملکی سمیت 30 افراد گرفتار
- ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کی رویس ریفائنری احتیاطاً بند
- ایران پر منگل کو اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کریں گے، امریکی وزیر دفاع
- رفح کے قریب زیر زمین ڈھانچے کی تلاشی کے دوران تین مسلح افراد ہلاک، اسرائیلی فوج
- ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے 16 ہزار گھر تباہ یا متاثر، ہلال احمر
- لبنان میں ایک دن میں ایک لاکھ افراد بے گھر، اقوام متحدہ
- ایرانی قوم خالی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، لاریجانی کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل
- لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملے جاری
- ایران جنگ جلد ختم ہونے کا امکان کم ہے، جرمن وزیر خارجہ
- ڈنمارک کی سپریم کورٹ میں اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنے کے خلاف مقدمے کی سماعت
- عراق میں امریکی حملے میں چار ایران نواز جنگجو ہلاک
- مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اب تک کا فاتح صرف روس ہے، صدر یورپی کونسل
- ایرانی میزائل حملوں کا خطرہ، ترکی میں امریکی پیٹریاٹ میزائل ڈیفنس سسٹم کی تنصیب
- آسٹریلیا نے ایرانی خواتین کی فٹبال ٹیم کی پانچ کھلاڑیوں کو پناہ کیوں دی؟
- ایران کے اسرائیل اور خلیجی ممالک پر نئے حملے
تیل کی عالمی منڈی کی صورتحال پر آئی ای اے کا ہنگامی اجلاس آج
تیل کی عالمی منڈی میں کشیدہ صورتحال کے باعث انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے 32 رکن ممالک آج منگل کو اس تنظیم کے ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اس ادارے کے مطابق اجلاس میں تیل کی موجودہ رسد اور منڈی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس جائزے کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ رکن ممالک کو اپنے اسٹریٹیجک تیل ذخائر جاری کر دینا چاہییں یا نہیں۔
آئی ای اے کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے رکن ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس اجلاس کو طلب کیا۔
اس سے قبل منگل کو آئی ای اے نے گروپ آف سیون کے توانائی کے وزراء کا اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔
فاتح بیرول نے اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ حالیہ دنوں میں تیل کی منڈی کی صورتحال خراب ہوئی ہے۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں مشکلات کے علاوہ تیل کی پیداوار کا ایک بڑا حصہ بھی متاثر ہوا ہے۔ اس صورتحال سے منڈی کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں تمام ممکنہ آپشنز پر بات ہو گی، جن میں آئی ای اے کے ہنگامی تیل ذخائر کو منڈی کے لیے دستیاب کرنا بھی شامل ہے۔
اس تنظیم کے مطابق اس کے 32 رکن ممالک کے پاس تیل کے تقریباً ایک ارب بیس کروڑ بیرل ہنگامی ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ صنعت کے پاس بھی تقریباً 60 کروڑ بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔
رکن ممالک عام طور پر بحران یا رسد میں کمی کے دوران تیل کی منڈی کو مستحکم رکھنے کے لیے اسٹریٹیجک ذخائر جاری کر دیتے ہیں، تاہم اس امکان کو کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
آئی ای اے کے مطابق پچاس سال سے زیادہ عرصے کی تاریخ میں اس کے رکن ممالک نے مشترکہ طور پر صرف پانچ مرتبہ ہی ایسے ذخائر کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو اسی نوعیت کا جواب دیا جائے گا، باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسلامی جمہوریہ کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا، تو اس کا اسی نوعیت کا جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے منگل کے روز ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو بھی کرے گا، اس کا فوری اور متناسب جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ جنگ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔
محمد باقر قالیباف نے کہا، ’’آج ہم آنکھ کے بدلے آنکھ کے اصول پر عمل کریں گے۔ اس پر کوئی سمجھوتہ یا اس میں کوئی استثنا نہیں ہو گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اگر وہ بنیادی ڈھانچے کے خلاف جنگ شروع کرتے ہیں، تو ہم بھی بلا شبہ ان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں گے۔‘‘
جرمن وزیر خارجہ کا اچانک دورہ اسرائیل، ایرانی میزائل حملے سے متاثرہ علاقے کا بھی جائزہ
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اچانک اپنے ایک دورے پر منگل کے روز اسرائیل پہنچ گئے۔
اس دورے کا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پہلے سے اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل جانے والے وہ پہلے یورپی وزیر خارجہ ہیں۔ انہوں نے یروشلم میں اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سعار سے بھی ملاقات کی۔
دونوں وزرائے خارجہ نے یروشلم کے مغرب میں واقع شہر بیت شیمش کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے ایرانی میزائل حملے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا۔
یکم مارچ کو ایک ایرانی میزائل اس شہر میں گرا تھا، جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور تقریباً پچاس زخمی ہوئے تھے۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے تہران کے خلاف بڑے پیمانے پر عسکری کارروائی کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران ایرانی حملوں میں اب تک اسرائیل میں تیرہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
بیت شیمش میں حملے میں اپنے شوہر کو کھو دینے والی ایک خاتون نے جرمن وزیر خارجہ کو تباہی کی تفصیل بتائی۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا، ’’سب کچھ ہمارے اوپر آ گرا تھا۔ ہر طرف اندھیرا تھا اور سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ یادیں، تصویریں اور ہر چیز جل کر خاک ہو گئی۔‘‘
جرمنی نے ایران کے ساتھ تنازعے میں زیادہ تر اسرائیل اور امریکا کی حمایت کی ہے۔ تاہم جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے منگل کے روز کہا کہ انہیں تشویش ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے واضح منصوبہ موجود نہیں۔
برلن کو اس جنگ کے باعث ایندھن کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے پر بھی تشویش ہے۔ حکام کے مطابق اس سے ملک میں اقتصادی ترقی کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایران میں جاسوسی کے الزام میں ایک غیر ملکی سمیت 30 افراد گرفتار
ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے گیارہویں روز جاسوسی کے الزام میں 30 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں ایک غیر ملکی بھی شامل ہے۔
اس وزارت کے مطابق اس غیر ملکی کی شہریت ظاہر نہیں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ ’’امریکی اور صہیونی دشمن کے نام پر خلیج فارس کے دو ممالک کے لیے‘‘ جاسوسی کر رہا تھا۔
بیان کے مطابق اس شخص کو شمال مشرقی ایران میں گرفتار کیا گیا۔ یہ بیان ایرانی عدلیہ کے نیوز پورٹل میزان آن لائن پر شائع کیا گیا۔
ایران میں زہریلی ’سیاہ بارش‘ سے سانس کی بیماریوں کا خطرہ، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پرامریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد فضا میں زہریلے مرکبات اور سیاہ بارش سے لوگوں کو سانس کی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے نے منگل کے روز کہا کہ اسے اس ہفتے تیل سے آلودہ بارش کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پیر کو ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد دارالحکومت تہران سیاہ دھوئیں کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے کی مہم کا حصہ ہیں۔
جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسٹیان لِنڈمائر نے کہا کہ سیاہ بارش اور اس کے ساتھ آنے والی تیزابی بارش آبادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے خاص طور پر سانس سے متعلق طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا ہے اور عالمی ادارہ صحت اس ہدایت کی حمایت کرتا ہے۔
ڈرون حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کی رویس ریفائنری احتیاطاً بند
متحدہ عرب امارات کی بڑی آئل ریفائنریوں میں شامل رویس ریفائنری کو اس کے نزدیک ہونے والے ایک ڈرون حملے کے بعد احتیاطاً بند کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران سعودی تیل کمپنی ارامکو نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ سے تیل کی عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثرات پڑ سکتے ہیں۔
ارامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو افسر امین ایچ نصر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی عالمی منڈی کو ’’تباہ کن نتائج‘‘ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس راستے سے عام حالات میں دنیا کا تقریباً بیس فیصد برآمدی تیل گزرتا ہے لیکن جنگ کے باعث اسے بند کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز پر دباؤ بڑھاتے ہوئے تہران خلیجی ممالک کی بڑی آئل ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق رویس ریفائنری کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی حساس نوعیت کے سبب اس خبر کے ذرائع نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے۔
اس سے قبل ابوظہبی میڈیا آفس نے بتایا تھا کہ رویس انڈسٹریل سٹی میں ڈرون حملے کے باعث آگ لگ گئی۔ یہ صنعتی شہر یو اے ای کے دارالحکومت ابوظہبی میں واقع ہے۔
یہ نہیں بتایا گیا کہ ریفائنری خود حملے کی زد میں آئی یا نہیں۔
ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے مطابق رویس دنیا کی چوتھی سب سے بڑی سنگل سائٹ ریفائنری ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی رسد شدید متاثر ہو چکی ہے۔ ایران خلیجی ریاستوں میں واقع مختلف توانائی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے جن میں ارامکو کی وسیع تنصیب راس تنورا بھی شامل ہے، جہاں بعض آپریشن روک دیے گئے ہیں۔
خلیج فارس کے ساحل پر قائم یہ بڑا صنعتی مرکز مشرق وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں شمار ہوتا ہے اور سعودی توانائی کے شعبے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب کے تیل کے کئی ذخائر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
روئیس صنعتی کمپلیکس میں کام کرنے والے ایک ڈرائیور نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ ان ملازمین کو لینے آیا تھا جنہیں فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب وہ وہاں سے نکلنے ہی والے تھے، تو کمپلیکس سے دوبارہ آگ کے دو شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے اور دھماکوں جیسی بلند آوازیں سنائی دیں۔
ایران پر منگل کو اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کریں گے، امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ آج بروز منگل ایران پر حملوں کی شدت گزشتہ دس دنوں کے دوران سب سے زیادہ ہو گی۔
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ امریکہ منگل کو ایران پر حملوں کے لیے اب تک کی سب سے بڑی تعداد میں لڑاکا اور بمبار طیارے بھیجے گا۔ امریکا نے دس روز قبل ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’آج ایک بار پھر ایران کے اندر حملوں کا ہمارا سب سے شدید دن ہو گا۔‘‘
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کے میزائل نظام اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس جنگ میں تنہا ہے اور اسے شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے تہران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران میزائل داغنے کے لیے اسکولوں اور ہسپتالوں کو استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی تعداد جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے کم رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفح کے قریب زیر زمین ڈھانچے کی تلاشی کے دوران تین مسلح افراد ہلاک، اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح کے قریب ایک زیر زمین تعمیراتی ڈھانچے کی تلاشی کے دوران تین مسلح افراد کو تلاش کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
فوج کے مطابق یہ کارروائی پیر کو کی گئی۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوجی علاقے میں موجود دہشت گردانہ ڈھانچے کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد وہاں سرگرم جنگجوؤں کا خاتمہ کرنا اور کسی بھی خطرے کو ختم کرنا ہے۔
یہ نہیں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے افراد کس تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔
غزہ پٹی میں گزشتہ پانچ ماہ سے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے درمیان ایک نازک جنگ بندی نافذ ہے۔ تاہم اس دوران متعدد بار اس سیزفائر کی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں اور اس کے لیے دونوں فریق ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرتے رہے ہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے 16 ہزار گھر تباہ یا متاثر، ہلال احمر
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً 16 ہزار گھر تباہ یا متاثر ہوئے ہیں۔ یہ بات ایرانی ہلال احمر نے منگل کے روز بتائی۔
ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس کے علاوہ تین ہزار تین سو سے زیادہ کاروباری یونٹوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اس ادارے کے مطابق مجموعی نقصانات میں سے ساٹھ فیصد سے زیادہ صرف پانچ صوبوں میں ہوئے ہیں۔ ان میں دارالحکومت تہران، اس کا ہمسایہ صوبہ البرز، شمال مغرب میں مغربی آذربائیجان اور مشرقی آذربائیجان اور جنوب مغرب کا صنعتی صوبہ خوزستان شامل ہیں۔
اس امدادی تنظیم نے بتایا کہ ملک کے 31 میں سے 20 صوبوں میں شہری عمارات کو نقصان پہنچا ہے۔ بیان کے مطابق جنگ کے باعث اس تنظیم کے اپنے 13 مراکز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں 29 اسکولوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
لبنان میں ایک دن میں ایک لاکھ افراد بے گھر، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے (یو این سی ایچ آر) کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنے گھروں سے بے دخل ہو رہے ہیں اور ان کی زندگیوں میں شدید خلل پیدا ہو چکا ہے۔
یو این ایچ سی آر نے حکومتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب 667,000 سے زیادہ افراد داخلی طور پر رجسٹرڈ بے گھر ہیں، جو صرف ایک دن میں 100,000 انسانوں کے اضافے کا ثبوت ہے۔
ان میں سے تقریباً 120,000 افراد حکومت کی طرف سے فراہم کردہ پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، جبکہ باقی اب بھی رہائش سے محروم ہیں۔
یو این ایچ سی آر کی لبنان میں نمائندہ کیرولینا لنڈہولم بیلنگ نے کہا، ’’بہت سے لوگ رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ رہ رہے ہیں یا اب بھی رہائش تلاش کر رہے ہیں، اور ہم سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی دیکھ رہے ہیں جن میں لوگ سو رہے ہیں اور انہیں فٹ پاتھوں پر بھی سونا پڑ رہا ہے۔‘‘
لبنان ایران جنگ میں اس وقت ملوث ہوا، جب ایران نواز لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے شروع کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے پورے لبنان میں شدید بمباری کی۔
ایرانی قوم خالی دھمکیوں سے ڈرنے والی نہیں، لاریجانی کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل
ایران کے قومی سلامتی کے اعلیٰ عہدیدار لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق ایک تازہ سخت بیان پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ایرانی قوم خالی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل روکی، تو ایران کو ’’بیس گنا زیادہ سخت‘‘ حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
لاریجانی نے منگل کے روز ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ایران کی قربانی دینے والی قوم آپ کی خالی دھمکیوں سے نہیں ڈرتی۔ حتیٰ کہ آپ سے بڑے بھی ایران کو ختم نہیں کر سکے۔ محتاط رہیں کہ کہیں خود ختم نہ ہو جائیں۔‘‘
گزشتہ برسوں میں ایران پر ٹرمپ کو قتل کروانے کی سازشیں کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
لبنان اور ایران پر اسرائیلی حملے جاری
لبنان کی سرکاری نیوز ایجنسی (این این اے) کے مطابق اسرائیلی فوج نے انتباہ جاری کرنے کے بعد لبنان کے شہر صور کے قریب حملہ کیا، جس میں مقامی لوگوں کو نشانہ بنائی گئی عمارتوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
این این اے کے مطابق، ’’اسرائیلی دشمن نے عباسیہ، صور کے نزدیک، جنوبی لبنان میں خطرے والے علاقے پر حملہ کیا۔‘‘
اسرائیلی فوج نے صور سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ساحلی شہر صیدون پر بھی حملے کی وارننگ دی ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق ملک میں دو مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں کم از کم 486 افراد ہلاک اور 1,300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد داخلی طور پر بے گھر ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایرانی دارالحکومت تہران پر بھی حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے۔ فوج کے ایک مختصر بیان میں کہا گیا، ’’اسرائیلی دفاعی افواج نے تہران میں ایرانی دہشت گردی سے جڑے اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کر دی ہے۔‘‘
ایران جنگ جلد ختم ہونے کا امکان کم ہے، جرمن وزیر خارجہ
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے منگل کے روز ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد ختم ہونے کے امکانات کے بارے میں محتاط رہنے کا عندیہ دیا۔
یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیر کو سی بی ایس نیوز کو دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ ’’کافی حد تک مکمل‘‘ ہو چکی ہے۔
واڈے فیہول نے کہا کہ اگرچہ امریکہ ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم یہ جنگ تب تک ختم ہونے کا امکان کم ہے، جب تک تہران مذاکرات کے لیے رضامند نہ ہو یا اس کی فوجی طاقت شدید متاثر نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ یورپی رہنماؤں کو ’’اب فوری طور پر خود کو اس مقام پر رکھنا ہوگا، تاکہ ہم ان مذاکرات میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔‘‘
ڈنمارک کی سپریم کورٹ میں اسرائیل کو ہتھیار برآمد کرنے کے خلاف مقدمے کی سماعت
ڈنمارک کی سپریم کورٹ آج بروز منگل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سرگرم چار تنظیموں کی طرف سے دائر کردہ اس مقدمے کی سماعت شروع کرے گی، جس میں ان تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ ڈنمارک نے اسرائیل کو ہتھیار برآمد کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
اپریل 2025 میں ایک ذیلی عدالت نے یہ مقدمہ مسترد کر دیا تھا، جو فلسطینی انسانی حقوق ایسوسی ایشن ال حق، ایکشن ایڈ ڈنمارک، اور ڈنمارک میں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آکسفیم کی شاخوں نے وزارت خارجہ اور قومی پولیس کے خلاف دائر کیا تھا۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک اسرائیل کو ایف-35 لڑاکا طیاروں کے پرزے فروخت کر کے اپنے بین الاقوامی وعدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے بارے میں ایمنسٹی کے ایک اہلکار نے کہا کہ اسرائیل غزہ پٹی میں ’’جنگی جرائم اور نسل کشی‘‘ کر رہا ہے۔
سپریم کورٹ صرف یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا ان تنظیموں کو ڈنمارک سے ہتھیار کی فروخت کی قانونی حیثیت کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔
ہائی کورٹ نے اپریل 2025 میں ایک فیصلے میں کہا تھا کہ مدعی ’’اتنے براہ راست، انفرادی اور واضح طور پر متاثر نہیں ہوئے کہ وہ ڈنمارک کے قانون کے تحت مقدمہ چلائے جانے کے عمومی معیار پر پورا اتریں۔‘‘
اگر یہ چاروں تنظیمیں سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ جیت جاتی ہیں، تو وہ اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں گی۔
ڈنمارک میں ایمنسٹی اہلکار دینا ہاشم نے اے ایف پی کو بتایا، ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کر رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ کے ہتھیاروں کے تجارتی معاہدے اور ہتھیار برآمد کرنے پر اقوام متحدہ کے مشترکہ موقف کے تحت، ریاستوں کو ایکسپورٹ لائسنس دینے سے انکار کرنا چاہیے، اگر یہ واضح خطرہ ہو کہ یہ سامان بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ اور یہ خطرہ غزہ میں واضح طور پر موجود ہے۔‘‘
عراق میں امریکی حملے میں چار ایران نواز جنگجو ہلاک
عراق میں ایک ایران نواز مسلح گروپ نے منگل کے روز کہا کہ اس کے ارکان پر ہونے والے ایک حملے میں چار جنگجو ہلاک ہوئے، جس کا الزام اس گروپ نے امریکہ پر لگایا ہے۔
یہ حملے پیر کی رات عراق کے نیم خود مختار علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے قریب ایک ڈرون کے گرائے جانے کے بعد کیے گئے۔
ایران نواز ’کتائب امام علی‘ نامی گروپ نے کہا کہ اس کے جنگجو کرکوک صوبے کے دبز ضلع میں واقع ایک ٹھکانے پر ’’امریکی جارحیت‘‘ میں ہلاک ہوئے۔
یہ بمباری حشد الشعبی کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی، جو اب عراق کی باقاعدہ فوج میں ضم مختلف دھڑوں کا اتحاد ہے، اور اس میں کئی طاقتور ایران نواز جنگجو گروپ شامل ہیں، جن میں سے ایک ’کتائب امام علی‘ بھی ہے۔
عراقی حکومت کے سکیورٹی انفارمیشن سیل نے تصدیق کی کہ کرکوک میں بمباری میں حشد الشعبی سے تعلق رکھنے والے متعدد جنگجو ہلاک ہوئے، مگر کسی پر الزام نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ عراق پر ایک کھلا حملہ ہے۔‘‘مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے حشد الشعبی یا پاپولر موبلائزیشن فورسز کے اڈے کئی بار نشانہ بنائے جا چکے ہیں۔