امریکا: چین سے اقتصادی محاذ پر مقابلے کا بل منظور | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا: چین سے اقتصادی محاذ پر مقابلے کا بل منظور

امریکا ایشیا کی سب سے بڑی طاقت چین کے بڑھتے ہوئے عالمی عزائم اور اثر و رسوخ سے کافی پریشان ہے۔

امریکی سینیٹ نے صنعتی پالیسی کے حوالے سے ایک اہم بل کو منظور کرلیا ہے جس کا مقصد سب سے بڑے حریف چین سے بڑھتے ہوئے اقتصادی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے دونوں سیاسی جماعتوں نے صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کا مقابلہ کرنے کے لیے 170ارب ڈالر کے فنڈ کو منظوری دے دی۔

جنوری میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے پارلیمان میں صدر جو بائیڈن کی اسے سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بل کے حق میں 68 اراکین نے ووٹ دیے جب کہ 32 نے اس کی مخالفت کی۔

چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے ایک سو ستر ارب ڈالر کے فنڈ سے ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں کمیونسٹ ملک کا مقابلہ کیا جائے گا۔

سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے رہنما شوک شومر کے مطابق یہ ”کئی نسلوں" میں سائنسی تحقیقی اور تکنیکی اختراعات میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔

اس بل کو اب منظوری کے لیے ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔ وہاں پہلے ہی اس حوالے سے ایک مختلف ورژن والا بل منظور کیا جا چکا ہے اور دونوں بلوں کو ملا کر ایک واحد بل کے طور پر صدر کی منظوری کے لیے وائٹ ہاوس بھیجا جائے گا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ انہیں امریکی اختراعات اور مسابقت قانون کے سینیٹ سے منظور کیے جانے پر کافی خوشی ہے۔ انہوں نے کہا”ہمیں اکیسویں صدی میں مسابقت میں کامیاب ہونا ہے اور اس سلسلے میں آغاز ہو چکا ہے۔"

صدر بائیڈن نے کہا ”چونکہ دیگر ممالک اپنی تحقیق و ترقی کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہے ہیں اس لیے ہم ان سے پیچھے رہ جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔ امریکا کو اس دھرتی پر سب سے اختراعی اور سب سے پیداواری ملک کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنی ہو گی۔"

اس پیکج کا ایک اہم پہلو سیمی کنڈکٹروں کی قلت کو دور کرنا ہے جس کی وجہ سے اس سال امریکی آٹو موبائل کے شعبے میں پیداوار میں کمی آگئی تھی۔ اس سے امریکی صنعت کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

امریکا کے اس اقدام کو تکنیکی اختراعات کی دوڑ میں بیجنگ کی مسابقت کرنے کے حوالے سے واشنگٹن کی اہم کوشش کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:03

چین کے 70 برس پر ایک نظر

امریکی وزیر کامرس جینا رائے مونڈو نے بل کے منظور ہو جانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا”آج سینیٹ نے پارٹی سیاست سے اوپر اٹھ کر ایک اہم فیصلہ کیا ہے تاکہ اختراعات میں عالمی لیڈر کے طور پر امریکا کی میراث کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سرمایہ کاری کی جا سکے۔"

انہوں نے کہا ”یہ مالی امداد صرف سیمی کنڈکٹر چپ کی موجودہ قلت کو ختم کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔"

شومر نے کہا ”یہ اقدام ان اہم فیصلوں میں سے ایک ہے جو کافی طویل عرصے کے بعد ایوان نے کیا ہے۔ یہ اکیسویں صدی میں مواقع سے فائدہ اٹھانے کی امریکا کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار ہے۔"

اس بل میں ان بہت سے تکنیکی شعبوں کا ذکر ہے جن میں امریکا اپنے چینی مسابقت کاروں سے پیچھے رہ گیا ہے۔

ریپبلیکن سنیٹر جان کورنائن کا کہنا تھا" قومی سلامتی سے لے کر اقتصادی پالیسی تک ہر معاملے کو ملک کے مفاد کے تحت ایک واضح اور فوری رخ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم چین کے چیلنجز کا جواب دے سکیں۔“

ج ا/ ص ز (اے پی، اے ایف پی)

     

 

DW.COM