امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت کیوں؟ | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا اور پاکستان ایک دوسرے کی ضرورت کیوں؟

کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد سے امریکا اور پاکستان کے مابین باہمی عدم اعتماد کی دراڑیں انتہائی گہری ہو چکی ہیں۔ لیکن مستقبل پر نظر ڈالی جائے تو یہ دونوں ملک کسی حد تک ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کو روکنے کے نئے طریقے ڈھونڈ رہی ہے اور اس کے لیے واشنگٹن حکومت کو ممکنہ طور پر دوبارہ اسلام آباد حکومت کا ہی دروازہ کھٹکھٹانا پڑے گا۔ طالبان حکومت سے قریبی رابطوں کی وجہ سے پاکستان امریکی انٹیلی جنس اور قومی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

افغانستان کی دو عشروں پر محیط جنگ میں امریکی حکام اکثر پاکستان پر ڈبل گیم کے الزامات عائد کرتے رہے۔ ان کا الزام تھا کہ طالبان قیادت پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔ دوسری جانب پاکستان یہ شکوہ کرتا رہا کہ ملک بھر میں حملوں کے ذمہ دار پاکستانی طالبان افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دونوں ملکوں کے مابین بداعتمادی کی یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ طالبان نے پورے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔

امریکا اور پاکستان کو ایک دوسرے کی ضرورت

امریکا اب بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستانی تعاون چاہتا ہے۔ واشنگٹن ممکنہ طور پر پاکستان سے یہ مطالبہ کر سکتا ہے کہ اسے افغانستان میں نگرانی کی پروازیں اڑانے کی اجازت فراہم کی جائے یا پھر وہ افغانستان کے حوالے سے دیگر انٹیلی جنس تعاون مانگ سکتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان امریکا سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر اب بھی امریکا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ پاکستان امریکی فوجی مدد حاصل کرنے کا بھی خواہاں ہے۔

امریکی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں الینوائے  کے ڈیموکریٹ نمائندے راجہ کرشنمورتی کا کہنا تھا، ''پچھلے بیس برسوں میں پاکستان امریکی فوج کی رسد جیسے کئی مختلف مقاصد کے لیے اہم رہا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اس دوران اعتماد کی کمی ہوئی ہے۔‘‘ تاہم ان کا مزید کہنا تھا، ''میرے خیال میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم تعلقات کی ایک نئی تفہیم پر پہنچنے کے لیے ماضی کو بھلا سکتے ہیں؟‘‘

دوسری جانب دونوں ممالک کے سابق سفارت کار اور انٹیلی جنس افسران کہتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے واقعات اور پاکستان کی طرف سے مسلسل بھارتی مقابلہ بازی کی وجہ سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین تعاون کے امکانات انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔

افغانستان کی اشرف غنی حکومت کو نئی دہلی کی بھرپور حمایت حاصل تھی اور یہ پاکستان اور طالبان کے مابین تعاون کے الزامات لگانے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتی تھی۔ اب افغانستان کی عبوری حکومت میں ایسے لیڈر شامل ہوئے ہیں، جن پر امریکی حکام ایک طویل عرصے سے الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ ان کے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رابطے ہیں۔

نگرانی کے لیے ڈرون اور پاکستان 

دوسری جانب بائیڈن انتظامیہ ایک نئے پروگرام کے تحت دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیزی سے اپنی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن امریکا کے لیے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے تعاون کے بغیر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر ہمسایہ ممالک تعاون نہیں کرتے تو امریکی ڈرونز کو طویل فاصلہ طے کرنا پڑے گا اور اس طرح وہ افغانستان کی فضا میں زیادہ دیر تک نگرانی کا عمل سرانجام نہیں دے سکتے۔

دوسی جانب امریکا نے افغانستان میں اپنا بیشتر انٹیلی جنس نیٹ ورک بھی کھو دیا ہے۔ اب امریکا کے زمین پر موجود مخبر اور انٹیلی جنس شراکت دار نہیں رہے جبکہ نئی افغان حکومت کے ساتھ مشترکہ مفادات تلاش کرنا واشنگٹن حکومت کے لیے ایک مشکل کام ہے۔

امریکا کے لیے اس مشکل مرحلے میں فقط پاکستان مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان خلیج فارس سے اڑنے والے امریکی جاسوس طیاروں کے ''اوور فلائٹ یا اپنی فضائی حدود کے استعمال‘‘ کے حقوق دے سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ افغان سرحد کے قریب امریکی فوجیوں کو ایک بیس فراہم کی جائے، جہاں سے وہ ''دہشت گردی کے خطرات‘‘ پر نظر رکھ سکیں۔ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے حوالے سے امریکا کے پاس دیگر ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایران امریکا کے خلاف ہے جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں روس کے زیر اثر ہیں۔

کیا مذاکرات جاری ہیں؟

ابھی تک ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے کہ اس حوالے سے امریکا یا پاکستان کے مابین کوئی معاہدہ ہوا ہے یا اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستانی وزیراعطم عمران خان ایک انٹرویو میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو کوئی فوجی بیس فراہم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

لیکن دوسری جانب رواں ماہ کے آغاز پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کی تھی۔ بعدازاں فیض حمید اور ولیم برنز نے کابل میں طالبان لیڈروں سے بھی ملاقات کی۔ تاہم سی آئی اے نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی ڈرونز کو فضائی راستہ فراہم کرنے یا بیس کی فراہمی کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ایک سوال کیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کا براہ راست جواب دینے کی بجائے کہا تھا، '' خفیہ معلومات کے اشتراک کے لیے ان کا وہاں جسمانی طور پر ہونا ضروری نہیں ہے۔ ایسا کرنے کے کئی بہتر راستے بھی موجود ہیں۔‘‘

اپنی چوتھی کتاب ''دا ریکروٹر‘‘ کے مصنف ڈگلس لندن کہتے ہیں کہ امریکا اور پاکستان کے مابین تعاون کے اب محدود شعبے ہی باقی بچے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دونوں ملک القاعدہ یا پھر ''اسلامک اسٹیٹ خراسان‘‘ کے خلاف پارٹنرشپ کر سکتے ہیں کیوں کہ اسے یہ دونوں ہی ایک مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں۔

ا ا / ع ح ( اے پی)