امریکا اور نیٹو اپنے مزید فوجی افغانستان بھیجیں گے یا نہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا اور نیٹو اپنے مزید فوجی افغانستان بھیجیں گے یا نہیں؟

افغان حکومت نے امریکا اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے اپنے مزید چند ہزار فوجی افغانستان میں تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیٹو اتحاد اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ امریکی اعلان کے بعد ہی کرے گا لیکن امریکا نے کیا فیصلہ کیا ہے؟

میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے مشورے دیے ہیں لیکن وائٹ ہاؤس کے ترجمان شین اسپائسر نے ان خبروں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا۔

اسپائسر کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’یہ معاملہ اس تنازعے میں مزید پیسہ یا فوجی جھونکنے کا سوال نہیں ہے۔ ہم اس مشن  اور اس کی اسٹریٹیجی کے حوالے سے سوچ رہے ہیں۔‘‘ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ٹرمپ کی طرف سے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم سے جو سوال بار بار پوچھا جاتا ہے، وہ یہ ہے، ’’ہم کس طرح جیت سکتے ہیں؟ ہم اس خطرے کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟‘‘

Afghanistan NATO Generalsekretär Jens Stoltenberg im Gespräch mit afghanischem Präsidenten Ashraf Ghani (picture-alliance/epa/J. Jalali)

افغان حکومت نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اپنا یہ تازہ بیان نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی ان خبروں کے بعد دیا ہے، جن کے مطابق امریکا طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اپنے مزید تین سے پانچ ہزار تل فوجی افغانستان میں تعینات  کرنے کا سوچ رہا ہے۔

مشترکہ افواج کے سربراہ میرین کور جنرل جو ڈنفورڈ نے بھی یہی کہا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے گی یا نہیں، ’’ہم اس مرکزی نقطے پر بحث جاری رکھے ہوئے ہیں کہ افغانستان میں مشن کا خاتمہ کہاں پر ہو گا اور ہم اس خاتمے کی وضاحت کیسے کریں گے؟‘‘

ڈنفورڈ کا اسرائیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ اور ان کے دیگر ساتھی صدر ٹرمپ کو جلد ہی اس حوالے سے صلاح مشورے دیں گے۔ ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ وہ اس امر سے بھی آگاہ ہیں کہ افغان فورسز کو گزشتہ برس بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ صورتحال اُس سمت میں نہیں بڑھ رہی، جس طرف افغان صدر اشرف غنی اسے لے جانا چاہتے ہیں، ’’یہ کہنا نا انصافی نہیں ہوگی کہ ہم نے ہر وہ ممکن راستہ اختیار کیا ہے، جس سے صدر غنی کے چار سالہ منصوبے اور مہم کو تیز کیا جا سکتا تھا۔‘‘

دوسری جانب افغان حکومت نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں غیرملکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نیٹو نے برطانیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے مزید فوجی افغانستان میں تعینات کرے۔

فوجی ذرائع کے مطابق افغان فوج ملک کا تقریباﹰ ساٹھ فیصد حصہ کنٹرول کرتی ہے جبکہ پولیس اور فوج کے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ امریکا اپنی نئی افغانستان اسٹریٹیجی کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ 25 مئی کو برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس سے پہلے کر لے گا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ وہ افغان مشن میں ممکنہ وسعت اور گنجائش کے حوالے سے آئندہ چند ہفتوں میں فیصلہ کریں گے لیکن یہ فیصلہ افغانستان میں کسی مسلح مشن میں دوبارہ شرکت کا فیصلہ نہیں ہوگا۔

اشتہار