الزائمر، تشخیص دماغی کم زوری نہیں جسمانی تبدیلی سے | سائنس اور ماحول | DW | 19.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

الزائمر، تشخیص دماغی کم زوری نہیں جسمانی تبدیلی سے

الزائمر پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ اس بیماری کو درست انداز سے سمجھنے کے لیے یادداشت کی کم زوری اور فکری گراوٹ جیسی علامات کی بجائے جسمانی تبدیلیوں کو سمجھا جائے۔

ماہرین کے مطابق الزائمر کی وجہ سے جسم میں زبردست اور تیز رفتار طبعی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اس بیماری کو ان تبدیلیوں سے سمجھا جائے، تو زیادہ بہتر ہو گا۔

ڈمینشیا ہو جائے، تو ورزش کام نہیں آتی

نارمل بلڈ شوگر لیول بھی دماغ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے

’الزائمر کی تشخیص فقط بلڈ ٹیسٹ سے ممکن‘

الزائمر تنظیم اور امریکا کے قومی ادارہ برائے ڈھلتی عمر کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بیماری کی تعریف کے لیے جسم میں ہونے والی وہ تبدیلیاں استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے، جو دیکھی جا سکتی ہیں۔

جرنل آف دی الزائمر ایسوسی ایشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’بہت سے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیمینشیا اور الزائمر جیسی بیماریاں ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتی ہیں، ایسا نہیں ہے۔‘‘

امریکی ریاست میناسوٹا میں مایو کلینک سے وابستہ ڈاکٹر کلفورڈ جیک کے مطابق ان دونوں بیماریوں کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔

الزائمر کی تعریف میں تبدیلی کی یہ تجویز رواں برس امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ انتظامیہ اور یورپی میڈیسنز ایجنسی نے بھی دی تھی اور کہا تھا کہ الزائمر کی نئی ادویات طبعی تبدیلیوں کی بنیاد پر ٹیسٹ کی جانا چاہیئیں نہ کہ دماغی صحت سے متعلق علامات پر۔

یہ تازہ تجویز ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو الزائمر سے متعلق ادویات ذہنی مسائل کی علامات سے قبل ہی آزمانے کی اجازت دے پائے گی۔ اس طرح اس بیماری کو دماغی خلیات کو بہت زیادہ نقصان پہنچانے سے پہلے ہی روکا یا اس کی رفتار کو سست بنایا جا سکے گا۔

اس تازہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ الزائمر کو تین مختلف عناصر سے تشخیص کیا جائے، جس میں پہلا تو الزائمر سے متعلق دو پروٹین کی غیرمعمولی موجودگی ہے جو بیٹا امیلوئڈ اور تاؤ ہیں۔ اس کے علاوہ اعصاب اور دماغی خلیات کی موت کے شواہد ہیں اور تیسرا عنصر دماغ کی سرگرمی کی رفتار میں کمی ہے، جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا باعث بنتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق دماغی کی تصاویر اور ریڑھ کی ہڈی کے گودے کے نمونوں کی مدد سے، ان تمام عناصر کی چھان بین یا شناخت ہو سکتی ہے اور الزائمر کی تشخیص کے لیے دماغی قوت میں کمی یا یادداشت کی تباہی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ اس مرض کے خلاف تیار کی جانے والی تجربانی ادویات اب تک کسی خاطر خواہ نتیجے کا باعث نہیں بنی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ادویات بیٹا امیلوئڈ پروٹین کو دماغ سے نکالنے پر توجہ دیتی ہیں، تاہم ایک حالیہ مطالعاتی رپورٹ میں الزائمر کے مختلف مریضوں کے معائنے سے معلوم ہوا تھا کہ ان میں سے تیس فیصد کے دماغوں میں بیٹا امیلوئڈ پروٹین موجود ہیں نہیں تھا، یعنی انہیں الزائمر کے لاحق ہونے کی وجوہات مختلف تھیں۔

 

ع ت / الف الف

DW.COM