افغان طالبان کی پاکستان ميں سعودی ولی عہد سے ملاقات کا امکان | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان طالبان کی پاکستان ميں سعودی ولی عہد سے ملاقات کا امکان

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے دورہ پاکستان کے دوران افغان طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ پاکستانی حکومتی ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن مذاکرات میں نہایت سرگرم کردار ادا کر رہا ہے، جس میں رفتہ رفتہ تیزی بھی آ رہی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان سے وہ اپنی تمام فوج نکال لے۔

سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ميں تاخير، وجہ کيا ہو سکتی ہے؟

سعودی شہزادے کی آمد: تیاریوں کے اخراجات زیرِ بحث آئیں گے؟

دیگر خلیجی ریاستوں کی طرح سعودی عرب بھی اس امن عمل کا حصہ ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ تاریخی طور پر سعودی عرب اور طالبان کے درمیان تعلقات اس سلسلے میں کسی حد تک کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد ممکنہ طور پر اسلام آباد میں طالبان کے وفد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کے وفود امریکی وفد کے علاوہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک سینئر پاکستانی حکومتی عہدیدار کا نام ظاہر کیے بغیر بتایا ہے، ’’اس وقت اس ملاقات کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے، تاہم مضبوط اشارے مل رہے ہیں کہ افغان طالبان 18 فروری کو سعودی ولی عہد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔‘‘

دوسری جانب قطر میں طالبان کے ایک سینئر رہنما نے تاہم کہا ہے کہ اس سلسلے میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ’’سعودی ولی عہد سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے مگر جب وہ اسلام آباد میں ہوں گے، تو اس بارے ميں سوچا جا سکتا ہے۔‘‘

اس سلسلے میں روئٹرز کی جانب سے پاکستانی دفتر خارجہ سے معلومات طلب کی گئیں، تاہم دفتر خارجہ نے اس سلسلے میں کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان کو ہفتے کی شام اپنے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچنا تھا، تاہم ان کا دورہ ایک روز کے لیے تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تاخیر کے باوجود ان کے دورے کے پروگرامز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس دورے میں وہ پاکستانی حکام کے ساتھ توانائی کے شعبے میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کر سکتے ہیں۔

ع ت، ع س (روئٹرز)

DW.COM