افغان طالبان کی پاکستانی وزیر خارجہ اور آئی ایس آئی چیف سے ملاقات | حالات حاضرہ | DW | 03.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

افغان طالبان کی پاکستانی وزیر خارجہ اور آئی ایس آئی چیف سے ملاقات

ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں اسلام آباد کے دورے پر آئے طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے  پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت میں افغان مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔

افغان جنگجوؤں اور پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات برسوں پرانے ہیں۔ لیکن دفتر خارجہ کے مطابق دوحہ میں طالبان کے سیاسی کمیشن کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب افغان طالبان کا سینیئر وفد پاکستانی حکام کے ساتھ باضابطہ بات چیت کے لیے اسلام آباد کے دورے پر آیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کی افغان طالبان کے وفد سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین  نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کی فوری بحالی پر اتفاق کیا۔

طالبان کے گیارہ رُکنی سیاسی وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر نے کی۔ انہیں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے سن دو ہزار دس میں حراست میں لے لیا تھا اور ان کی گرفتاری کراچی کے مضافاتی علاقے سے دکھائی گئی۔

ملا عبدالغنی برادر کو پھر آٹھ سال قید میں رکھنے کے بعد دو ہزار اٹھارہ میں رہا کیا گیا، جس کے بعد وہ قطر چلے گئے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس کا مقصد طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

خیال ہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں پاکستان سے رہائی پانے کے بعد ملا عبدالغنی برادر اب پہلی بار اسلام آباد کے اعلیٰ سطحی دورے پر  ہیں۔

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے جب افغانستان کےلیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پہلے ہی پاکستان میں موجود ہیں۔ تاہم ان کی طالبان وفد سے رابطوں یا ملاقات کے بارے میں سرکاری سطح پر ابھی کچھ نہیں کہا گیا۔ 

اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نی کہا کہ ، "ہمیں خوشی ہے کہ آج دنیا، افغانستان کے حوالے سے ہمارے  مؤقف کی تائید کر رہی ہے۔" انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے مذاکرات ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔

DW.COM