1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Pakistan Afghanistan l Sicherheitskraft an der Grenze in Chaman
تصویر: Akhter Gulfam/dpa/picture alliance

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال، فاصلے بڑھتے ہوئے

عبدالستار، اسلام آباد
7 فروری 2022

پاکستان کے قبائلی ضلع کرم ایجنسی میں مبینہ طور پر سرحد پار سے دہشت گردانہ حملہ ہوا ہے جس میں پانچ پاکستانی سپاہی ہلاک ہو گئے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%85%D8%A7%D9%84-%DA%A9%D8%A7%D8%A8%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A8%DA%91%DA%BE%D8%AA%DB%92-%D9%81%D8%A7%D8%B5%D9%84%DB%92/a-60689626

پاکستان نے دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی مذمت کی ہے جس سے کئی حلقوں میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ شاید کابل اور اسلام آباد میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ لیکن ملک میں کئی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو صورتحال کا بہت احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے اور حالات سے نمٹنے کے لیے دانشمندانہ پالیسی بنانی چاہیے۔

پاکستان بارہا افغان طالبان سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں لیکن جب سے افغان طالبان اقتدار میں آئے ہیں پاکستانی طالبان کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے پیر کو لکھا ہے کہ 'شاید اسلام آباد کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے‘۔ واضح رہے کہ جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا کہ افغان طالبان پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دیں، تو پاکستان نے افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک مہینے تک جنگ بندی بھی ہوئی لیکن اب وہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور ٹی ٹی پی کے حملے پاکستان کے خلاف جاری ہیں۔ پاکستانی افواج بھی ٹی ٹی پی کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے اور ان سے منسلک افراد کو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

افغانستان سے ہونے والے حملے میں پانچ پاکستانی فوجی ہلاک

افغانستان میں سو سے زائد سابقہ اہلکار مارے جا چکے ہیں، رپورٹ

پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات

حالیہ دنوں میں پاکستان پر دہشت گردانہ حملے نہ صرف ٹی ٹی پی کی طرف سے ہوئے بلکہ بلوچ عسکریت پسند بھی پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کی ایک تازہ مثال پنجگور اور نوشکی میں بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے تھے۔ ملک میں کئی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ افغان طالبان سے دو ٹوک بات کی جائے جبکہ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستان کو اس معاملے کو بہت احتیاط سے حل کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

دفاعی تجزیہ نگار جنرل امجد شعیب کا کہنا ہے کہ افغان طالبان بہت ساری مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو اردو کو بتایا، ''تین لاکھ کے قریب افغان فوجی ہیں جن کو انہوں نے معاف کر دیا ہے۔ ان میں بہت سارے اب بھی طالبان کے مخالف ہو سکتے ہیں۔ طالبان کی اپنے لڑنے والوں کی تعداد تقریبا 80 ہزار تھی۔ وہ آب فوج کا حصہ ہیں اور ان کو بھی بمشکل تنخواہ مل پا رہی ہے۔ معاشی کساد بازاری کی وجہ سے ملک میں بہت سی پریشانیاں ہیں۔ اس کے علاوہ قحط اور فاقہ کشی کے بھی خدشات ہیں۔ ایسی صورت میں ہمیں افغان طالبان سے سختی سے پیش نہیں آنا چاہیے بلکہ اس معاملے کو انتہائی دانشمندانہ انداز میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘

افغانستان: طالبان کی واپسی کے بعد خواتین جج غیر محفوظ

افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کون کر رہا ہے؟

اسلام آباد نے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کے عمل کی مذمت کی ہے لیکن ملک میں کئی حلقے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر یہ زمین پاکستان کے خلاف کون استعمال کر رہا ہے کیونکہ افغان طالبان کے پاکستان سے دیرینہ تعلقات ہیں۔ کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ وہاں پر اب بھی پاکستان مخالف عناصر موجود ہیں جو ممکنہ طور پر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکارے نجیم الدین کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ پاکستان دشمن عناصر اب بھی افغانستان میں موجود ہوں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''افغانستان میں ایک طویل عرصے تک بھارت کا بہت اثر رسوخ رہا ہے اور وہاں کی سابقہ حکومت کے بھارت سے بہت اچھے مراسم تھے۔ بھارت نے اس ملک میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت نواز عناصر اب بھی وہاں موجود ہوں اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہوں۔‘‘

ڈاکٹر بکارے نجیم الدین کا مزید کہنا تھا، ''امریکا کو بھی اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ امریکا بھی ایک ایسی حکومت کے بہت قریب تھا جو بھارت کے بھی بہت قریب تھی۔ بھارت اور امریکا کے افغانستان میں مفادات یکساں تھے۔ لہٰذا ان دونوں ممالک کا ممکنہ طور پر پاکستان کے خلاف ہاتھ ہو سکتا ہے۔‘‘

افغان طالبان کی خودمختاری

ڈاکٹر قاری نجم الدین کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے ہمیشہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے ایک ایسے گروہ کے طور پر پیش کیا ہے، جو خود مختار ہے۔ ''اب بھی وہ پاکستان کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیں گے کیونکہ اس سے یہ تاثر جائے گا کہ وہ پاکستان کے اشاروں پر چل رہے ہیں جبکہ افغان طالبان یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خود مختار ہیں اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کے اشارے پر نہیں چل رہے۔ اگر وہ اب پاکستانی طالبان کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ خود مختاری کا تاثر دینا چاہتے ہیں۔‘‘

پشاور سے تعلق رکھنے والے افغان امور کے ماہر ڈاکٹر سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کبھی بھی ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیں گے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جیش محمد، لشکرِ طیبہ، افغان طالبان اور پاکستانی طالبان سمیت دنیا کی کئی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جو تکفیری جہاد پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ تکفیری جہاد کسی ایک گروپ تک محدود نہیں ہیں۔ تو ایک حوالے سے افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کوئی مختلف نہیں ہیں۔ دونوں کا نظریہ ایک ہے۔ اس لیے افغان طالبان کبھی بھی پاکستانی طالبان کے خلاف کام نہیں کریں گے۔‘‘

'بھارت کی حمایت ممکن نہیں‘

سید عالم محسود کا کہنا ہے کہ یہ بات غلط ہے کہ ٹی ٹی پی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے۔ ''سب کو پتہ ہے کہ یہ ہمارے ہی لوگ ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ بھارت کے کہنے پر اپنی جان ہاتھوں میں رکھ کر خود کش حملہ آور بن جائیں اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچائیں۔ میرے خیال میں اس میں کوئی غیر ملکی ہاتھ نہیں ہے۔‘‘

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

external

پاکستان کا یوم آزادی: نوجوان اپنے وطن کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں