1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

افغانستان: کابل کی ایک مسجد میں دھماکہ متعدد ہلاک اور زخمی

18 اگست 2022

افغانستان میں پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کابل کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ بدھ کے روز مغرب کی نماز کے دوران یہ حملہ ہوا، جس میں مسجد کے امام بھی مارے گئے۔

https://p.dw.com/p/4Fgfy
Afghanistan Kabul | Explosion
تصویر: Ebrahim Noroozi/AP/picture alliance

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بدھ کی شام کو ایک مسجد میں ہونے والے زوردار دھماکے سے متعدد افراد ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر اس حملے سے متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم جانی نقصان سے متعلق ابھی تک کسی نے بھی صحیح تعداد فراہم نہیں کی ہے۔ بعض رپورٹوں کے مطابق کم از کم 22افراد ہلاک اور 40سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

کابل میں محکمہ پولیس کے سربراہ خالد زدران نے شہر کے شمالی علاقے کی ایک مسجد کے اندر دھماکے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے بھی جانی نقصان سے متعلق تعداد نہیں بتائی۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ''اس طرح کے جرائم کے مرتکب افراد کو جلد ہی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انہیں سزا دی جائے گی۔''

ہلاکتوں کی صحیح تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے کیونکہ خبر رساں ایجنسیوں نے اس حوالے سے مختلف اطلاعات فراہم کی ہیں۔ اے ایف پی کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ خبر رساں ادارے اے پی نے مرنے والوں کی تعداد دس بتائی ہے۔

طالبان کے ایک انٹیلیجنس اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تقریبا 35 افراد زخمی یا ہلاک ہوئے ہیں اور اس میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ایک اور خود کش حملہ

دارالحکومت کابل کے شمالی علاقے خیر خانہ میں واقع مسجد صدیقیہ کے اندر یہ دھماکہ مغرب کی نماز کے دوران ہوا، جس میں مسجد کے امام بھی ہلاک ہو گئے۔ مقتول عالم کا نام ملا امیر محمد کابلی بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک خود کش بمبار نے یہ دھماکہ کیا۔  

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس میں 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ کابل میں کام کرنے والے ایک اطالوی غیر سرکاری ادارے 'ایمرجنسی' کا کہنا ہے کہ بم دھماکے کی جگہ سے اس کے پاس علاج کے لیے کم از کم 27 زخمی شہریوں کو لایا گیا، جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔

Afghanistan I Bombenexplosion in Kabul
تصویر: Ebrahim Noroozi/AP/picture alliance

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی بعض غیر مصدقہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم از کم چھ لاشیں زمین پر بکھری ہوئی پڑی ہیں۔ ابھی تک اس دھماکے کی ذمہ داری کسی بھی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

گزشتہ برس اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے ہی افغانستان باقاعدہ حملوں کی زد میں رہا ہے اور ایسے بیشتر حملوں کی ذمہ داری کا دعوی نام نہاد اسلامی شدت پسند تنظیم ''اسلامک اسٹیٹ''  نے کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی کابل کے ایک مدرسے میں بھی خود کش حملہ ہوا تھا جس میں طالبان سے منسلک ایک معروف عالم رحیم اللہ حقانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور اس حملے کی ذمہ داری بھی اسلامک اسٹیٹ نے لی تھی۔

طالبان کے باغی رہنما کو قتل کر دیا گیا 

ادھر ایک اور علیحدہ واقعے میں طالبان نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے مغربی صوبہ ہرات میں مہدی مجاہد کو اس وقت پکڑ کر ہلاک کر دیا جب وہ سرحد عبور کر کے ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

مہدی مجاہد شمالی صوبہ سر پل کے ضلع بلخاب میں طالبان کے ایک سابق کمانڈر ہوا کرتے تھے اور وہ طالبان کی صفوں میں اقلیتی شیعہ ہزارہ برادری کے واحد رکن بھی تھے۔تاہم وہ طالبان کے بعض فیصلوں سے ناراض تھے اور ان کی مخالفت بھی کی تھی۔ گزشتہ ایک سال سے وہ طالبان کے خلاف ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان ان کی تلاش میں تھے اور اسی لیے وہ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے تھے۔

ص ز/ ج ا (اے پی، اے ایف پی، روئٹرز، ڈی پی اے)

طالبان کے اقتدار کا ایک سال، بچیوں پر کیسا بیتا؟

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید