اعتدال پسندی کے طالبان کے دعوے اور عالمی برادری کے شبہات | حالات حاضرہ | DW | 18.08.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اعتدال پسندی کے طالبان کے دعوے اور عالمی برادری کے شبہات

اقوام متحدہ نے طالبان کے ان دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ وہ اعتدال پسندی کی راہ اختیار کر یں گے۔ طالبان نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ملک میں شرعی قوانین نافذ کرنے کی بات کہی ہے۔

افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے دو روز بعد طالبان نے 17 اگست منگل کی شام کو پہلی بار کابل میں ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ شرعی قوانین کے مطابق حکومت چلانے کی کوشش کریں گے اور ان کی حکومت میں خواتین کو بھی کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے شرعی قوانین کے مطابق حقوق حاصل ہوں گے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا، "بیس برس پہلے کے مقابلے میں ہم بھی بہت تبدیلی آئی ہے''  ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی حکومت اعتدال پسندی کا راستہ اختیار کرے گی تاہم ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ کیا جائے گا۔

لیکن جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا؟ کیا وہ کوئی سیاسی عہد سنبھال سکیں گی؟ کیا وہ جج بن سکتی ہیں یا پھر کھیلوں میں شریک ہو سکتی ہیں؟ اس پر انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کہا کہ نئی انتظامیہ اس بارے میں اصول و ضوابط طے کرے گی۔

ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بات ضرور کہی کہ صحت، قانون، تعلیم اور پالیسی سازی جیسے محکموں میں خواتین کی شرکت کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ اس میں کس حیثیت سے اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس موقع پر ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ طالبان کسی سے، ''انتقام نہیں لیں گے اور ہر شخص کو معاف کر دیا گیا ہے۔''

طالبان کے دعووں پر یقین مشکل ہے

 اقوام متحدہ نے طالبان کی ان دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جبکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ طالبان کو ان کے وعدوں سے نہیں بلکہ ان کے اعمال سے پرکھا کیا جائے گا۔

اسی دوران بین الاقوامی جنگی جرائم کی عدالت کے مستغیث اعلی نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بعض کارروائیاں، بشمول، ''انتقامی قتل اور ماورائے عدالت سزائے موت جیسے اقدام'' بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

نوبیل انعام یافتہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ملالہ یوسف زئی نے بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق کے تئیں اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں انہوں نے کہا، ''ہم انہیں ہمیشہ نا کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ ہمارے پاس وقت بھی نہیں بچا ہے۔''

 

طالبان قائدین کی کابل واپسی

اس دوران جلا وطن طالبان کی اعلی قیادت کا قطر سے کابل واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور گروپ کے بانیوں میں شامل سرکردہ رہنما ملاّ عبدالغنی برادر کابل پہنچ چکے ہیں جن کا شاندار استقبال کیا گیا۔  امکان ہے کہ ملک کی نئی حکومت کے امیر وہی ہوں گے تاہم ابھی اس سلسلے میں کوئی اعلان نہیں ہوا ہے۔

ابھی بھی حکومت سازی سے متعلق گفت و شنید جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان کی قیادت والی حکومت کس طرز اور نوعیت کی ہو گی۔ کیا اس کی شکل و صورت پہلے ہی جیسی ہو گی یا پھر عالمی برادری کے دباؤ کے پیش نظر اعتدال پسندی کے مظاہرے کے لیے اس میں تبدیلی کی جائے گی۔  

افغانستان سے انخلا کا عمل جاری

جرمنی اور امریکا سمیت دنیا کے دنیا کے متعدد ممالک کابل سے اب بھی اپنے سینکڑوں شہریوں کے انخلا میں مصروف ہیں۔ تقریباً 130 جرمن شہری جنہیں منگل کے روز کابل سے تاشقند لے جایا گیا تھا وہ بدھ کی علی الصبح لفتھانزا کی ایک کمرشیئل فلائٹ کے ذریعے جرمن شہر فرینکفرٹ پہنچ گئے۔

عالمی برادری کا افغانستان پر رد عمل

روس کا کہنا ہے کہ اس نے طالبان کے ساتھ منگل کے روز بات چیت کی ہے۔ روسی سفارت کار نے روس کے ایک سرکاری میڈیا ادارے سے بات چیت میں کہا، ''طالبان کے نمائندے نے بتایا ہے کہ روس کے تئیں ان کا دوستانہ رویہ رہے گا۔ انہوں نے روسی سفارت خانے کی سکیورٹی کی بھی ضمانت دی ہے۔'' 

یورپی یونین طالبان کو اب بھی افغانستان کا حکمراں تسلیم نہیں کرتی ہے تاہم پیچیدہ صورت حال کے پیش نظر ان کے پاس طالبان سے بات چیت کرنے کے سوا ابھی کوئی چارہ نہیں بھی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوسیپ بوریل نے کہا ہے کہ یورپی یونین افغانستان کو جو امداد مہیا کرتی ہے وہ فی الوقت روکی جا رہی ہے۔

 ص ز/ ج ا (ڈی پی اے، روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 01:56

طالبان کے قبضے کے بعد افغان ملک سے فرار کیوں چاہتے ہیں؟

DW.COM