اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل: اکثریتی فیصلہ منظور کروں گا، جج | کھیل | DW | 01.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل: اکثریتی فیصلہ منظور کروں گا، جج

پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ اور محمد آصف پر اسپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج نے کہا ہے کہ وہ جیوری کی اکثریت کا فیصلہ منظور کریں گے۔

سابق کپتان سلمان بٹ

سابق کپتان سلمان بٹ

لندن کی عدالت پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اگست دو ہزار دس کو لارڈز میں کھیلے گئے ایک میچ میں برطانوی ٹیم کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کی تھی، جس کے مطابق محمد آصف اور ایک اور پاکستانی بولر محمد عامر نے دانستہ نو بالز پھینکی تھیں۔

اس مقدمے کی جیوری کے اراکین نے تین روز کے غور و خوص کے بات جج جیریمی کوک کو یہ بتایا ہے کہ وہ کسی ایک نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ جج نے بارہ ارکان پر مشتمل اس جیوری سے کہا ہے کہ وہ اب اس مقدمے میں اکثریتی فیصلے کو منظور کریں گے، یعنی کہ دو کے مقابلے میں دس کا فیصلہ۔

Kombo Pakistan Cricket Korruption Salman Butt Mohammad Asif und Mohammad Amir

محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ

پیر کے روز بھی اس مقدمے کا فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ خیال رہے کہ سلمان بٹ اور ممحمد آصف دونوں ہی اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ استغاثہ کا الزام ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے برطانوی ایجنٹ مظہر مجید کی ایما پر لارڈز ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کی تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران بُکی مظہر مجید اور فاسٹ بالر محمد عامر کو حاضری سے استثناء حاصل رہا۔ ان کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس جیریمی کُک نے جیوری سے کہا تھا کہ وہ ان کی غیر حاضری سے قطعاً متاثر نہ ہوں اور تمام شہادتوں کی روشنی میں ان کے کردار پر غور کریں۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM