اسلام اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت AFD کا نیا صدرکون بنےگا؟ | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسلام اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت AFD کا نیا صدرکون بنےگا؟

جرمنی کے شمالی شہر ہینوور میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے اراکین  نئے صدر کا انتخاب کریں گے۔ تاہم شہر میں اس موقع پر مہاجرین اور اسلام مخالف جماعت کے خلاف مظاہرے کیے جاریے ہیں۔

ہینوور میں دو روزہ کانفرنس کے آغاز کے موقع پر عوامیت پسند جماعت کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس کی جانب سے مظاہرین کو روکنے کے لیے تیز دھار پانی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قریب ساڑھے آٹھ ہزار کارکنان میرکل کی مہاجرین دوست پالیسی کے حق میں اکٹھے ہوئے ہیں۔

حالیہ انتخابات میں AFD یعنی ’متبادل برائے جرمنی‘ وفاقی پارلیمان میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔  دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمن سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نے وفاقی پارلیمان میں قریب 100 نشستیں حاصل کی ہیں۔  تاہم اس سیاسی جماعت سے منسلک قوم پرست اور قدرا روشن خیال سوچ کی حامل طاقتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کی سابق مشترکہ صدر فراؤکے پیٹری نے انتخابات کے اگلے ہی روز اچانک اپنے راستے الگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

عوامیت پسند سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی سن 2013 میں یورو مخالف جماعت بن کے سامنے آئی تھی لیکن اپنی انتخابی مہم کے دوران ’Bikinis not Burka‘ ’Stop Islamisation‘ اور ’Merkel must go‘جیسے نعرے لگا کر اس جماعت نے توجہ حاصل کی تھی۔  گو کہ جرمنی کی 16 ریاستوں میں 14 صوبائی پارلیمان میں  ’اے ایف ڈی‘ کی نمائندگی موجود ہے لیکن وفاقی سطح پر اس اسلام اور مہاجرین مخالف جماعت کو دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے مستقل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پارلیمان میں پہنچنے کے لیے اے ایف ڈی کی مسلمان مخالف مہم

ہینوور میں جاری دو روزہ کانگریس میں پارٹی کی ترجیہات پر بحث و مباحثہ کیا جائے گا۔ کانفرنس کے اہم نکات میں جرمنی میں یہودی اور مسلم مرد اور بچوں کے روایتی ختنوں کی رسم پر پابندی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کانگریس میں جرمن پارلیمان میں ’اینٹی سیمٹزم‘ کی نئی تعریف کو آزادیِ اظہار کے منافی قرار دلانے پر بھی غور ہوگا۔ حال ہی میں اس جماعت کے رہنماؤں نے نے لاکھوں شامی مہاجرین کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔  اے ایف ڈی کے مطابق ’شام میں بیشتر جنگ زدہ علاقے اب محفوظ ہیں لہٰذا ان محفوظ علاقوں میں شامی باشندوں کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔‘   واضح رہے سن 2015 سے دس لاکھ تارکین وطن سیاسی پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچے تھے۔

جرمنی کے شمالی شہر ہینوور میں منعقدہ کانگریس میں اے ایف ڈی سے تعلق رکھنے والے  600 مندوبین جمع ہوئے ہیں۔ بعد ازاں نئی منتخب ہونے والی قیادت پارٹی کی نظریاتی سمت کا تعین کرے گی۔

AfD کی شریک سربراہ پارٹی چھوڑ دیں گی

جرمن زرائع ابلاگ کے مطابق ’ انتہائی دائیں بازو کی جماعت میں ابھی تک استحکام نظر نہیں آ رہا، پارٹی کے اندر عہدوں کے لیے لڑائی ایک واضح تقسیم کی نشاندہی کر رہی ہے۔‘ مزید اے ایف ڈی کی صدارت کے لیے دوسرا نام سابق کرنل جیورج پازدیرسکی کا سامنے آرہا ہے۔ تاہم جماعت کے موجودہ پارلیمانی گروپ کے چیف آلیکزانڈر گاؤلانڈ نے خبر رساں ادارے ای ایف پی کو گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ ’ان کے لیے یہ بات اہم ہے کہ پارٹی کی نئی قیادت قدامت پسند ہونے کے ساتھ لبرل اقتصادی پوزیشن اختیار کرے‘۔

رواں سال اپریل میں جرمنی کے مغربی شہر کولون میں AFD کی گزشتہ کانفرنس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ اسی تناظر میں پولیس نے مظاہرین کو  پُر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کی تنظیم GdP کے رہنما ڈیٹمر شِف کا کہنا تھا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ ریلیوں میں شریک ہونے والے مظاہرین اپنے ’اجتماع کے حق‘ کا صحیح استعمال کریں گے۔ تاہم کسی قسم کی پر تشدد سرگرمیاں اس حق کو ضائع کرنے کے مانند ہوں گی‘‘۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار