اسلامو فوبیا، پاکستانی دفتر خارجہ میں فرانسیسی سفیر طلب | حالات حاضرہ | DW | 26.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسلامو فوبیا، پاکستانی دفتر خارجہ میں فرانسیسی سفیر طلب

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے اسلام آباد میں تعینات فرانسیسی سفیر کو طلب کر کہ کہا گیا  ہے کہ پاکستان آزادیء اظہار کے لبادے میں اسلامو فوبیا کی مہم کی پر زور مذمت کرتا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے فرانسیسی سفیر کو بتایا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں کچھ حلقوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پیغر اسلام کے خاکوں کو دوبارہ سے شائع کیا جانے کا رجحان سامنے آیا ہے۔ '' بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت آزادیء اظہار کے حق کا استعمال انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کیے جانے کی ہدایت ہے۔‘‘

حال ہی میں پاکستانی وزیر اعظم عمران کی جانب سے فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں کے اس بیان کی بھی مذمت کی گئی ہے  جس میں انہوں نے اسلام پسندوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ پیغمبر اسلام کے خاکوں کے معاملے میں مصالحتی رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ فرانسیسی صدر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ فرانسیسی استاد سامیول پیٹی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ 'اسلامی شدت پسند‘ ہمارے مستقبل پر حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ سامیول پیٹی کو بظاہر اپنے طلبا کو پیغمبر اسلام کے 'گستاخانہ‘ خاکے دکھانے پر ایک شخص نے  قتل کر دیا تھا۔ ماکروں کے بیان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کی جانب سے مختلف ٹوئٹس کے ذریعے کہا گیا کہ یورپی لیڈر نے مسلمانوں اور اپنے شہریوں کو 'جانتے بوجھتے مشتعل کرنے‘ کی کوشش کی۔

مارک زکربرگ کو خط

اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھاتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے سوشل میڈیا کمپنی فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ کو بھی ایک خط تحریر کیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے،'' دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے ذریعے بڑھتا اسلامو فوبیا  نفرت، شدت پسندی اور تشدد کے رجحان کو بڑھا رہا ہے۔‘‘ عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ وہ فیس بک کی جانب سے اس اقدام کی پذیرائی کرتے ہیں جس کے تحت فیس بک پر ہولوکاسٹ سے متعلق سوالات یا کسی بھی قسم کے تنقیدی مواد کوشائع نہیں کیا جا سکتا، ہولوکاسٹ جرمنی اور یورپ میں یہودیوں کے خلاف نفرت انگیزی کا نتیجہ تھا اور آج اسی طرح کی نفرت مسلمانوں سے کی جارہی ہے۔

سوشل میڈیا پر چرچا

اس حوالے سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر بھی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ 'بوائکاٹ فرینچ پراڈکٹس‘ 'اسلام‘  اور'ہولوکاسٹ‘ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ کئی پاکستانی صارفین عمران خان کے بیانیے کی پر زور تائید کر رہے ہیں۔ جیسے کہ ایک صارف ہیلے نور نے ٹوئٹر پر لکھا،'' مارک زکر برگ کو خط تحریر کر کے عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ اسلام کے سفیر ہیں۔ مجھے ان پر فخر ہے۔‘‘

تاہم کچھ افراد کی جانب سے عمران خان کو اپنے ہی ملک میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ طحٰہ صدیقی نے عمران خان کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا،'' پاکستان، جہاں اسلامی شدت پسندی ایک جان لیوا خطرہ ہے، جہاں انتہا پسندی کے باعث روز لوگ مارے جاتے ہیں، اس ملک کے ویر اعظم مغرب میں اسلامو فوبیا کا مسئلہ اٹھانا چاہتے ہیں اور اپنے ہی ملک میں بڑھتی مذہبی شدت پسندی کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘‘

دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ سے بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور اسلام مخالف بیانیے پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اسلام سے خوف کے خلاف اقوام متحدہ میں پاک ترک قرارداد منظور

فرانسیسی صدر جانتے بوجھتے مسلمانوں کو طیش دلا رہے ہیں، عمران خان