1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Gaza I Raketenbeschuß
تصویر: Mustafa Hassona/AA/picture alliance
تنازعاتمشرق وسطیٰ

غزہ پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملے

19 اپریل 2022

اسرائیلی حکام کے مطابق اس کی فضائیہ نے منگل کی علی الصبح غزہ کی پٹی میں حماس کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اواخر ہفتہ یروشلم کے مقدس مقام بیت المقدس کے آس پاس تشدد کی وجہ سے کشیدگی میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84-%D9%86%DB%92-%D8%BA%D8%B2%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%B6-%D8%A7%DB%81%D8%AF%D8%A7%D9%81-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A6%DB%8C-%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%81%D8%B6%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%A8%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DB%92/a-61508470

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے 19 اپریل منگل کی علی الصبح غزہ کے علاقے میں فضائیہ کی مدد سے حماس کے ایک ٹھکانے پر بمباری کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی ''فلسطینیوں کے علاقے سے فائر کیے گئے ایک راکٹ کے جواب میں کی گئی ہے۔'' گزشتہ جنوری کے بعد سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہ پہلا فضائی حملہ ہے۔

اسرائیلی ڈیفنس فورس نے اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا، ''غزہ سے اسرائیل میں لانچ کیے گئے راکٹ کے جواب میں، ہم نے غزہ میں حماس کے لیے ہتھیار تیار کرنے والے ایک مقام کو نشانہ بنایا ہے۔'' اس کا مزید کہنا تھا، ''غزہ کی پٹی سے ہونے والی تمام دہشت گردانہ سرگرمیوں کی ذمہ دار شدت پسند تنظیم حماس ہے۔''

حماس کا رد عمل

ادھر غزہ کی انتظامیہ سنبھالنے والے اسلام پسند گروپ حماس نے اس فضائی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اس فضائی حملے خلاف اپنا ''طیارہ شکن دفاعی'' نظام کا استعمال کیا۔ غزہ میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بمباری میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیل کے خلاف راکٹ حملہ

اس سے قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ پیر کی رات کو اسلام پسند گروپ حماس کے زیر کنٹرول انکلیو سے جنوبی اسرائیل میں ایک راکٹ فائر کیا گیا۔ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس راکٹ فائر کیے جانے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم اسرائیل نے اس کا الزام حماس پر عائد کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا، ''ایک راکٹ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے میں داغا گیا۔ راکٹ کو آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم نے روک لیا۔'' اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ راکٹ، ''تل ابیب کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔''

 اس بیان کے چند گھنٹوں کے بعد ہی اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پر بمباری کی اور پھر ٹویٹ کر کے بتایا کہ اس کارروائی میں حماس کے لیے ہتھیار تیار کرنے والی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا۔

Irakkrieg | Britische Soldaten in Basra
تصویر: Nabil al-Jurani/AP/picture alliance

کشیدگی میں اضافہ

اواخر ہفتہ یروشلم کے مقدس مقام بیت القدس کے احاطے کے اندر اور اس کے آس پاس تشدد کی وجہ سے کشیدگی میں کافی اضافہ ہو گیا ہے۔ اس تشدد میں تقریباً 170 افراد زخمی ہوئے جس میں بیشتر فلسطینی مظاہرین ہیں۔

اسرائیلی فورسز نے حالیہ دنوں میں مشرقی یروشلم میں متعدد بار اس مقدس مقام کے آس پاس چھاپے مارے ہیں اور سینکڑوں فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس دوران حماس نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ہونے والا کوئی بھی واقعہ ایک 'سرخ لکیر‘ ہو گا۔

 فلسطینی مسلمانوں نے اسرائیل پر الاقصیٰ کے علاقے میں تجاوزات کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی مظاہرین سیاسی مقاصد کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں اور پاس اوور منانے والے یہودیوں کی آمد و رفت میں خلل ڈال کر انہیں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مصر اور اردن، جنہوں نے کئی دہائیوں قبل اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے تھے اور اس کے ساتھ سکیورٹی کے معاملات پر تعاون بھی کرتے تھے، نے اس مقام پر اسرائیلی افواج کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

اردن بیت المقدس کے مقامات کے محافظ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس نے پیر کے روز بطور احتجاج اسرائیل کے نائب ناظم الامور کو عمان میں طلب کیا اور اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں کی مذمت کی۔

اردن کی سرکاری میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں مسلمان نمازیوں کے خلاف اسرائیل کے ''یکطرفہ'' اقدامات  سے خطے میں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس حوالے سے ممکنہ طور پر منگل کے روز ہی ایک اجلاس طلب کرنے والی ہے، تاکہ بڑھتے ہوئے تشدد کا جائزہ لیا جا سکے۔

ص ز/ ج ا (اے ایف پی، ڈی پی اے، اے پی)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

Russland | Zeremonie zur Annexion ukrainischer Gebiete | Putin mit den Besatzungschefs

یوکرینی علاقوں کاغیر قانونی الحاق، روس کوعالمی مذمت کا سامنا

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں