اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام پر حملے کیے تھے، موساد چیف | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام پر حملے کیے تھے، موساد چیف

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے کسی سربراہ کی جانب سے عوامی طور پر اس طرح کے اعتراف کا اپنی نوعیت کا یہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے رخصت پذیر سربراہ یوسی کوہن نے بالواسطہ طورپر کہا کہ ایران کے جوہری پروگراموں اور ایک سائنس داں پر حالیہ حملوں میں ان کے ملک کا ہاتھ تھا۔ انہوں نے ایران کے دیگر جوہری سائنس دانوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی وارننگ دی۔

 موساد کے رخصت پذیر سربراہ یوسی کوہن نے جمعرات کے روز اسرائیل کے چینل 12 کے ایک تفتیشی پروگرام 'عودہ‘ میں ایران کے جوہری پروگراموں اور اس کے ایک سائنس داں کو حالیہ دنوں میں نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے بعض اہم اشارے کیے۔

اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ غیر معمولی بات ہے کیونکہ کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی بالعموم اس طرح کے واضح بیانات نہیں دیتی ہے۔ موساد کے سربراہ کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا تقریباً چل چلاو ہے۔

Israel Yossi Cohen - Chef des Mossad 2015

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے رخصت پذیر سربراہ یوسی کوہن

’ایرانی سائنس داں نشانہ بن سکتے ہیں‘

ایسے وقت میں جب ویانا میں سفارت کار عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے سرجوڑ کر بیٹھے ہیں، موساد کے سربراہ نے واضح لفظوں میں متنبہ کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ دیگر سائنس دان بھی قتل کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

کوہن کا کہنا تھا”اگر سائنس داں اپنا کیریئر تبدیل کرنے کے خواہش مند ہیں اور ہمیں کسی طرح کا مزید نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں تو ہم انہیں نظر انداز کر سکتے ہیں۔"

ایران پر بڑے حملوں کے تحت نطنز جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ گزشتہ برس اس کے نیوکلیائی تنصیبات پر دو بڑے حملے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نطنز کا وہ انڈر گراونڈ ہال ہے جسے ہر طرح کے فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہاں یورنییم کو افزودہ کیا جاتا ہے۔

جولائی  2020 میں نطنز کے ایڈوانسڈ سینٹری فیوج اسمبلی میں ایک پراسرار دھماکہ ہوا تھا۔ ایران نے اس کے لیے اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس کے بعد اس سال اپریل میں بھی نطنز کے انڈر گراونڈ ہال میں ایک زبردست دھماکہ ہوا جس سے اس کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔

کوہن نے حالانکہ ان حملوں کے سلسلے میں براہ راست دعوی نہیں کیا لیکن ان حملوں میں اسرائیلی ہاتھ ہونے کا اشارہ کیا۔

Iran Urananreicherungsanlage in Natanz

نطنز کا جوہری تنصیب

اس موقع پر انٹرویو لینے والے صحافی ایلان ڈایان نے نطنز کے زیرزمین ہال میں ہونے والے دھماکوں کی تفصیلات بیان کیں اور کوہن نے ان کے بیانات کی کوئی تردید نہیں کی۔

ڈیان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا”جو شخص ان دھماکوں کے لیے ذمہ دار ہے، اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس نے اس امر کو یقینی بنایا تھا کہ ایرانیوں کو کس طرح کے ماربل کے سپلائی کی جائے جنہیں نطنزکے جوہری تنصیب میں ٹیبل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ جب انہوں (ایرانیوں) نے اس ٹیبل کو نطنز میں تنصیب کیا تو انہیں اس کا ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس میں پہلے سے ہی بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادے موجود ہیں۔"

انٹرویو لینے والے نے محسن فخری زادے کی نومبر میں ہلاکت پر بھی بات کی۔ ایرانی سائنس داں محسن فخری زادے نے کئی دہائیوں قبل تہران کا فوجی جوہری پروگرام شروع کیا تھا۔ امریکی انٹلیجنس ایجنسیاں اور انٹرنیشنل اٹومک انرجی ایجنسی کا خیال ہے کہ ایران نے سن 2003 میں اس پروگرام کو ترک کر دیا تھا۔ ایران کا دیرینہ موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

کوہن نے گوکہ محسن فخری زادے کے قتل کے سلسلے میں کیمرے پر کوئی دعوی نہیں کیا تاہم ڈایان نے کہا کہ کوہن نے ”ذاتی طورپراس پورے مہم کی نگرانی کی تھی۔"

Iran Anschlag gegen Mohsen Fakhrizadeh

نومبر2020 میں محسن فخری زادے ایک حملے میں مارے گئےتھے۔

موساد کے اقدامات

موساد کے سر براہ نے اسرائیل کی ان کوششوں کا بھی ذکر کیا جو یہودی ریاست نے ایرانی سائنس دانوں کو جوہری پروگرام میں شامل ہونے سے باز رکھنے کے لیے کیں۔ ان میں سے بعض کو بالواسطہ دھمکی دی گئی جس کے بعد انہوں نے اپنا پروگرام ترک کر دیا۔ جب انٹرویو لینے والے نے کوہن سے سوال کیا کہ کیا ایرانی سائنس دانوں کو ان مضمرات کا اندازہ تھا تو موساد کے سربراہ نے جواب دیا”انہیں اپنے دوستوں کا انجام معلوم تھا۔"

ایران اسرائیل کی جانب سے حملوں کے متعلق اکثر شکایتیں کرتا رہا ہے۔ جمعرات کے روز ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں ایران کے سفیر کاظم غریب آبادی نے کہا کہ حالیہ واقعات نے ایران کو نہ صرف فیصلہ کن انداز میں جواب دینے کے لیے مجبور کردیا ہے بلکہ اس کے سامنے اس کے علاوہ کوئی متبادل باقی نہیں رہ گیا ہے کہ وہ شفافیت کے اپنے اقدامات اور تعاون کی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کوہن کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طورپر کوئی جواب نہیں دیا۔

ج ا/ ص ز (اے پی)

 

 

DW.COM