احتیاط نہ کی تو پاکستان کا بھی بھارت جیسا حال ہو گا، عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 23.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

احتیاط نہ کی تو پاکستان کا بھی بھارت جیسا حال ہو گا، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو دو ہفتوں کے اندر پاکستان کے حالات بھی بھارت جیسے ہو جائیں گے۔

جمعے کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کے بعد  قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی مسلسل اپیلوں کے باوجود لوگ احتیاط نہیں کر رہے، جس کی وجہ سے وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس وقت آکسیجن کی کمی ہے، ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں نے احتیاط سے کام نہ لیا تو جلد پاکستان میں بھی بھارت والے حالات ہو جائیں گے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہروں میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج طلب کر لی ہے تاکہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

لاک ڈاؤن کی مخالفت

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ وبا کی موجودہ لہر کے دوران حکومت کو سختی کرنے پڑے گی تاکہ شہروں میں لاک ڈاؤن کرنے کی نوبت نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جہاں بھی لاک ڈاؤن کیا گیا اس میں سب سے زیادہ کمزور اور غریب طبقہ متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لوگ آج بھی کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کر دیں لیکن ہم دیہاڑی دار طبقے کی خاطر فی الحال اس طرف نہیں جانا چاہ رہے۔

ایدھی کی مودی کو مدد کی پیشکش

ادھر ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک خط میں بھارت کو کورونا بحران کے دوران مدد کی پیشکش کی ہے۔ فیصل ایدھی کے مطابق، ''مصیبت کی اس گھڑی میں ایدھی فاؤنڈیشن اور اس کے رضا کار اپنے پڑوسی ملک کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام  اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ ''ہم آپ سے کسی معاونت کی درخواست نہیں کر رہے بلکہ ہماری ٹیم کو مطلوب ایندھن، خوراک اور دیگر ضروری سامان کا بندوبست ہم خود کریں گے‘‘۔  انہوں نے فوری طور پر بھارت کو پچاس ایمبولینس اور رضاکاروں کی ٹیم بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔