ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق اجلاس میں شرکت پر اتفاق
وقت اشاعت 20 جنوری 2026آخری اپ ڈیٹ 20 جنوری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- کراچی گُل پلازہ آتش زدگی، ہلاکتیں 27، لاپتہ افراد کی ہلاکت کا خدشہ
- ’اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں،‘ ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق اجلاس میں شرکت پر اتفاق
- جرمن فوجیوں کی تعداد 12 سال کی بلند ترین سطح پر
- اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا ایرانی صورتحال پر ہنگامی اجلاس
- یورپی ممالک پر اضافی امریکی محصولات ایک ’غلطی‘ ہوں گے، یورپی یونین
- ورلڈ اکنامک فورم کا اجلاس، گرین لینڈ اور ٹرمپ ٹیرف کے خطرات چھائے ہوئے
- اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی فلسطینی ایجنسی کے کمپاؤنڈ میں عمارتیں مسمار کر دیں
- روس کا یوکرین پر 300 سے زائد ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ
کراچی گُل پلازہ آتش زدگی، ہلاکتیں 27، لاپتہ افراد کی ہلاکت کا خدشہ
حکومت نے مال میں لگنے والی آگکی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ شاپنگ مال کے زیادہ تر خارجی راستے مقفل تھے۔
آتش زدگی کا شکار ہونے والے کراچی کے ایک شاپنگ مال کے جلے ہوئے ملبے کی صفائی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، تاکہ ان قریب 60 لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے، جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس ہولناک آگ کے سبب ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اب 27 ہو گئی ہے۔
پاکستان کے اس بندرگاہی شہر میں ایک دہائی سے زائد عرصے میں لگنے والی یہ سب سے بڑی آگ ہفتے کی رات دیر گئے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وسیع و عریض ’گل پلازہ‘ شاپنگ کمپلیکس میں پھیل گئی۔ یہ مال اپنی 1,200 خاندانی دکانوں کی وجہ سے مشہور تھا، جہاں شادی کے کپڑے، کھلونے، برتن اور دیگر سامان فروخت کیا جاتا تھا۔
پولیس سرجن سمیہ سید کے مطابق اس آتشزدگی میں 27 افراد ہلاک ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے رضوان احمد نے بتایا کہ مجموعی طور پر 84 افراد کے لاپتہ ہونے کا اندراج کیا گیا ہے، جس میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی شامل ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے زیادہ تر افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور امدادی کارکن ملبے سے لاشیں نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
’اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں،‘ ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق اجلاس میں شرکت پر اتفاق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ’’مختلف فریقوں‘‘ کے ساتھ ایک ایسے اجلاس میں شرکت پر اتفاق کیا ہے جس میں وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے ان کے ارادے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا: ’’جیسا کہ میں نے سب پر واضح کر دیا ہے، گرین لینڈ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں، اس بات پر سب کا اتفاق ہے!‘‘
ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اپنی ایک تصویر دکھائی، جس میں وہ امریکی جھنڈا تھامے ایک ایسے بورڈ کے پاس کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے ’’گرین لینڈ، امریکی علاقہ، قیام 2026‘‘۔ اس تصویر میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی نمایاں ہیں۔
صدر کی جانب سے شیئر کی گئی ایک اور اے آئی تصویر میں عالمی رہنماؤں کو ایک اجلاس میں دکھایا گیا ہے، جہاں وہ ایک نقشہ پیش کر رہے ہیں، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ اور وینزویلا پر امریکی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی ان کی دھمکیوں کو اس وقت سے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے، جب سے امریکی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا ہے۔
ٹرمپ نے کینیڈا کو بھی امریکہ کے ساتھ ضم کرنے کا عہد کر رکھا ہے اور وہ اکثر امریکہ کے اس پڑوسی ملک کو ’’51 ویں امریکی ریاست‘‘ کے طور پر مخاطب کرتے ہیں۔
جرمن فوجیوں کی تعداد 12 سال کی بلند ترین سطح پر
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا ہے کہ جرمن فوج میں اہلکاروں کی تعداد 12 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمن فوج میں اب 184,200 فعال فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پسٹوریس کے مطابق سن 2025 میں ’بنڈس ویئر‘ کی فعال قوت میں تقریباً 3,000 فوجیوں کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ 15 سالوں میں بھرتی کے بہترین اعداد و شمار ہیں۔
روس کی جانب سے ’’بڑھتے ہوئے خطرات‘‘ کے پیشِ نظر، گزشتہ سال طے پانے والے نیٹو کے نئے اہداف کے تحت جرمنی 2030ء کی دہائی کے وسط تک فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 260,000 کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مہینوں کی شدید بحث کے بعد، چانسلر فریڈرش میرس کی حکومت نے گزشتہ سال کے آخر میں ملٹری سروس پروگرام دوبارہ شروع کیا تھا۔ یہ اسکیم فی الحال رضاکارانہ ہے لیکن اگر بھرتی مطلوبہ اہداف سے کم رہی تو اسے لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کا ایرانی صورتحال پر ہنگامی اجلاس
اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق ایران کی صورتحال پر جمعہ 23 جنوری کو ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔ ایک دستاویز کے مطابق اس اجلاس کا مقصد مظاہرین کے خلاف ہونے والے ’’خوفناک تشدد‘‘ پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ایک ایرانی اہلکار کے مطابق، حکام نے احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم از کم 5,000 اموات کی تصدیق کی ہے۔ یہ 2022 کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے حکومتی تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔
آئس لینڈ کے سفیر اینار گنارسن نے یورپی ممالک جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے، ’’صورتحال کی اہمیت اور سنگینی کے پیش نظر ایک خصوصی اجلاس کی ضرورت ہے، خاص طور پر ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف خوفناک تشدد، کریک ڈاؤن اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی معتبر رپورٹس کی وجہ سے۔‘‘
اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ خصوصی اجلاس جمعہ کو ہو گا اور اب تک 21 ممالک نے اس تجویز کی حمایت کی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی وہ تحقیقاتی ٹیم، جو 2022ء میں احتجاج کی گزشتہ لہر کے بعد تشکیل دی گئی تھی، ان اموات کی تحقیقات کرے اور اسے اس کام کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں۔
ایران کے سفارتی مشن نے فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے دیگر مشنوں کو کریک ڈاؤن کے الزامات کے خلاف جوابی دستاویزات بھیجی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ جھڑپیں سکیورٹی فورسز پر مسلح حملوں کے بعد شروع ہوئیں۔
یورپی ممالک پر اضافی امریکی محصولات ایک ’غلطی‘ ہوں گے، یورپی یونین
یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لاین نے آج منگل کے روز امریکہ کو خبردار کیا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر اتحادی یورپی ممالک پر تادیبی محصولات (ٹیرف) عائد کرنا ایک ’’غلطی‘‘ ہو گی۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فان ڈیر لاین نے کہا، ’’تجویز کردہ اضافی محصولات ایک غلطی ہیں، خاص طور پر دیرینہ اتحادیوں کے درمیان۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’یورپی یونین اور امریکہ نے گزشتہ جولائی میں ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ سیاست ہو یا کاروبار، معاہدہ تو معاہدہ ہوتا ہے اور جب دوست ہاتھ ملاتے ہیں، تو اس کا کوئی مطلب ہونا چاہیے۔‘‘
گرین لینڈ اور ٹرمپ کے ٹیرف کے خطرات ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس پر پر چھائے ہوئے
ورلڈ اکنامک فورم کا سالانہ اجلاس آج منگل 20 جنوری سے سوئس الپس کے قصبے داووس میں شروع ہو گیا ہے۔ اس اجلاس میں، جو جمعہ تک جاری رہے گا، 130 ممالک کے 3,000 شرکاء کے ساتھ ساتھ دنیا کی صفِ اول کی کمپنیوں کے 850 سی ای اوز اور سربراہان کی شرکت متوقع ہے۔
جنیوا میں قائم اس تھنک ٹینک نے پہلی بار 1971ء میں اس تقریب کی میزبانی کی تھی، جس کا مقصد یورپی انتظام و انصرام (منیجمنٹ) کو بہتر بنانا تھا۔
بطور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا داووس کا یہ تیسرا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب امریکی اتحادی گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے ان کے ارادوں پر فکر مند ہیں اور لاطینی امریکہ وینزویلا کا تیل حاصل کرنے کی ان کی کوششوں سے نبرد آزما ہے۔
اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی فلسطینی ایجنسی کے کمپاؤنڈ میں عمارتیں مسمار کر دیں
اسرائیل نے آج منگل 20 جنوری کو مشرقی یروشلم میں اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین کے کمپاؤنڈ کے اندر موجود عمارتوں کو مسمار کر دیا۔ ایجنسی نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے۔ اسرائیل نے اس کمپاؤنڈ کو گزشتہ برس اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
اسرائیلی افواج کے محاصرے میں بلڈوزروں نے ’’یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی ‘‘ (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمپاؤنڈ کے اندر کئی بڑی عمارتوں اور دیگر چھوٹی تعمیرات کو گرا دیا، جہاں کبھی ایجنسی کے درجنوں ملازمین کام کرتے تھے۔
یو این آر ڈبلیو اے گزشتہ سال کے آغاز سے اس عمارت کو استعمال نہیں کر رہی تھی۔ اس وقت آیا جب اسرائیل نے ایجنسی کو اپنی تمام عمارتیں خالی کرنے اور آپریشن بند کرنے کا حکم دیا تھا۔
اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے ترجمان جوناتھن فاؤلر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی افواج مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئیں، وہاں موجود سکیورٹی گارڈز کو زبردستی باہر نکالا اور پھر عمارتوں کو مسمار کرنے کے لیے بلڈوزر اندر لے آئے۔
فاؤلر نے کہا، ’’یہ یو این آر ڈبلیو اے اور اس کی املاک پر ایک بے مثال حملہ ہے اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔‘‘
ایجنسی کے مشرقی یروشلم ہیڈ کوارٹر کے سابق چیف آف اسٹاف حکم شہوان کے مطابق، ’’اسرائیلی قابض قوت کی طرف سے آج کی گئی یہ تباہی دنیا کے لیے ایک اور پیغام ہے کہ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جو بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑا سکتا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔‘‘
اسرائیلی پارلیمنٹ نے اکتوبر 2024 میں ایک قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت ایجنسی کے ملک میں کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور حکام کو ایجنسی کے ساتھ رابطے سے روک دیا گیا تھا۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی، اتمار بن گویر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے کمپاؤنڈ کے سامنے کھڑے ہیں جبکہ ایک بلڈوزر اسے گرانا شروع کر رہا ہے۔ بن گویر نے کہا، ’’یہ ایک تاریخی دن ہے، یہ خوشی کا دن ہے۔‘‘
اسرائیل کا الزام ہے کہ یو این آر ڈبلیو اے کے کچھ ملازمین فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے رکن تھے اور انہوں نے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملے میں حصہ لیا تھا۔ اس حملے میں تقریباً 1,200 اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی، جس میں غزہکے حکام کے مطابق اب تک 71,000 سے زائد فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
ان الزامات کے بعد ایجنسی نے عملے کے کئی ارکان کو برطرف کر دیا لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اپنے عملے کے خلاف تمام الزامات کے ثبوت فراہم نہیں کیے۔ فاؤلر نے اس سے قبل روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل یو این آر ڈبلیو اے کے خلاف ایک ’’مسلسل غلط معلومات کی مہم‘‘ چلا رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، ’’اس کمپاؤنڈ کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور اسرائیلی حکام کی جانب سے اس کمپاؤنڈ پر قبضہ اسرائیلی اور بین الاقوامی دونوں قوانین کے مطابق کیا گیا تھا۔‘‘
روس کا یوکرین پر 300 سے زائد ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق روس نے گزشتہ شب یوکرین پر 300 سے زائد ڈرونز اور ’بڑی تعداد‘ میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے حملہ کیا۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو صرف ایک دن پہلے ہی فضائی دفاعی میزائلوں کی نئی کھیپ موصول ہوئی تھی، جس نے دفاع کو مضبوط بنانے میں مدد دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو مزید فوجی ساز و سامان کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا، ’’شراکت داروں کو اس کی فراہمی میں ناکام نہیں ہونا چاہیے، فضائی دفاعی میزائل انسانی زندگی کے لیے حقیقی تحفظ ہیں۔‘‘
یوکرینی دارالحکومت کییف کے مختلف حصوں میں تازہ روسی حملوں کے بعد بجلی، ہیٹنگ اور پانی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ کییف کے میئر وٹالی کلِچکو کا کہنا ہے کہ یوکرینی دارالحکومت پر ہونے والے ان حملوں کے بعد 5,635 کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں ہیٹنگ کی سہولت سے محروم ہو گئی ہیں۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ متاثرہ عمارتوں میں سے اکثر کو نو جنوری کو ہونے والے بڑے روسی حملے کے دوران پہلے ہی نقصان پہنچ چکا تھا۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق، روس نے رات بھر جاری رہنے والے اس حملے میں ڈرونز اور کروز میزائلوں کا مشترکہ استعمال کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ، رہائشی عمارتوں اور نجی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ڈرون کا ملبہ گرنے سے کئی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ میئر کلچکو نے بتایا کہ دریائے ڈنیپرو کے بائیں کنارے پر واقع علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
ادارت: امتیاز احمد