آلودہ غذا سے پیدا ہونے والی بیماریاں، ہر سال لاکھوں اموات کا سبب | صحت | DW | 03.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

آلودہ غذا سے پیدا ہونے والی بیماریاں، ہر سال لاکھوں اموات کا سبب

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں چھ سُو ملین انسان ناقص غذا سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں سے 42 لاکھ موت کے مُنہ میں چلے جاتے ہیں۔

حالی ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ میں اس عالمی ادارے نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ کروڑ انسانوں کی بیماریاں کا سبب آلودہ غذا کا استعمال بنتا ہے۔ با الفاظ دیگر دنیا بھر میں رونما ہونے والی اموات میں سے ہر دس میں سے ایک موت کے پیچھے نقصاندہ یا آلودہ غذا کے استعمال کا ہاتھ ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ آلودہ غذا کے استعمال کے سبب ہر سال ہلاک ہونے والوں میں ایک لاکھ پچیس ہزار بچے بھی شامل ہیں۔

غذائی آلودگی بیکٹیریا سلمونیلا، مختلف اقسام کے وائرس، پیراسائٹس نباتاتی یا حیوانی زہر جسے ٹاکسن کہتے ہیں اور مختلف کیمیکلز سے جنم لیتی ہیں۔ ان غذاؤں کے استعمال کے نتائج زیادہ تر متلی، اسہال اور قے کے طور پر عارضی علامات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں تاہم یہ طویل المدتی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق ان میں کینسر، گردے یا جگر کی ناکامی، دماغ کے امراض، مرگی اورگٹھیا،جیسی بیماریاں خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

Milchskandal in China Baby Milch Milchpulver

کئی ممالک میں بچوں کے دودھ میں ملاوٹ اور آلودگی کا اسکنڈل بھی سامنےآ چُکا ہے

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ کے فوڈ سیفٹی ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کاسواکی میاگیشیما نے کہا ہے کہ مذکورہ اعداد و شمار دراصل محتاط اندازوں کے مطابق بتائے گئے ہیں جبکہ آلودہ غذا کا استعمال کرنے والوں کی سالانہ ہلاکتوں کی اصل تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔

عالمی ادارے نے اس سلسلے میں غذا کی آلودگی کی وجوہات کے بارے میں جو چھان بین کی اُس میں اُن طریقوں کا بھی تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے جو غذا ئی تجارت اور ان کی فروخت کے لیے بروئے کار لائے گئے ہیں۔

Guinea Bissau

پینے کا آلودہ پانی بھی اکثر مہلک بیماریوں اور اموات کا سبب بنتا ہے

ڈاکٹر کاسواکی میاگیشیما کہتے ہیں،’’ غذائی آلودگی کے مسئلے کا جُزوی طور پر تعلق فوڈ ٹریڈنگ یا غذائی تجارت سے بھی ہے۔ اگر ایک ملک میں فوڈ سیفٹی یا غذائی تحفظ کی صورتحال کمزور ہے اور یہ ملک دوسرے ممالک کو فوڈ سپلائی کرتا ہے تو فوڈ پروڈکشن سسٹم یا غذائی تیاری کے نظام کے پورے سلسلے کو کمزور بنا دے گا،‘‘۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر ریڑی لگا کر غذائی اجزا فروخت کرنے والے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ جو غلط اور غیر صحت بخش طریقہ کار اختیار کرتے ہیں وہ بھی بہت سے ممالک میں غذائی معیار کی خرابی اور آلودگی کا سبب بنتا ہے۔

DW.COM