آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا | کھیل | DW | 20.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا

پاکستان کے اسٹار کھلاڑی شاہد خان آفریدی نے بالآخر بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ مزید دو برس تک ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ ان کا کیریئر اکیس سال پر محیط رہا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بوم بوم آفریدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ اپنے مداحوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے چھتیس سالہ آفریدی نے کہا، ’’میں نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا، ’’میں اپنے مداحوں کے لیے پاکستان سپر لیگ مزید دو برس تک کھیلوں گا۔‘‘

2016: پاکستانی کھیلوں کے لیے سخت اتار چڑھاؤ کا سال

بھارت میں میرے مداح کی گرفتاری شرم ناک ہے، شاہد آفریدی

انگلینڈ نے ریکارڈ رنز بنا کر پاکستانی بولنگ کا بھرم توڑ دیا

لیگ اسپنر اور اپنی دھواں دھار بلے بازی کی وجہ سے مشہور شاہد آفریدی نے سن دو ہزار دس میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی۔ بعدازاں سن دو ہزار پندرہ میں انہوں نے ایک روزہ میچوں سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی تاہم وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی کے خواہاں تھے۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے، ’’اب میرے لیے میری فاؤنڈیشن زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ میں نے اپنے ملک کی نمائندگی انتہائی سنجیدگی سے کی۔‘‘ سن دو ہزار چھیانوے میں سری لنکا کے خلاف ایک ون ڈے میچ میں 37 گیندوں پر سنچری بنانے کا منفرد ریکارڈ قائم کرنے والے آفریدی کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک میں بھی بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ جب انہوں نے یہ ریکارڈ بنایا تھا تو ان کی عمر صرف سولہ برس تھی۔

شاہد آفریدی نے اپنے اکیس سالہ کیریئر میں ستائیس ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی۔ اس فارمیٹ میں انہوں نے ایک ہزار ایک سو 76 رنز بنائے، جس میں ان کا سب سے زیادہ انفرادی اسکور 156 رہا۔ ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے اڑتالیس وکٹیں بھی حاصل کیں۔ ایک روزہ میچوں میں ان کا سفر طویل رہا۔ انہوں نے 398 ون ڈے میچز کھیلے، جن میں ان کا مجموعی اسکور آٹھ ہزار چونسٹھ رہا۔ انہوں نے ایک روزہ میچوں میں 395 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں آفریدی نے اٹھانوے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی، جن میں انہوں نے مجموعی طور پر چودہ سو پانچ رنز بنائے اور ستانوے وکٹیں حاصل کیں۔ اپنی جارحانہ بلے بازی کے باعث وہ بالخصوص ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں انتہائی خطرناک بلے باز تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی انفرادی کارکردگی سے پاکستان کو کئی میچوں میں فتح دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

شاہد خان آفریدی کا کیریئر کچھ تنازعات میں بھی گھرا رہا۔ سن دو ہزار پانچ میں فیصل آباد میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میچ میں اپنے جوتوں سے وکٹ کو خراب کرنے کی کوشش کے نتیجے میں شاہد آفریدی کو ایک ٹیسٹ میچ اور دو ون ڈے میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سن دو ہزار دس میں پرتھ میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میچ میں وہ کرکٹ بال کو دانتوں سے خراب کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ بال ٹمپرنگ کا الزام ثابت ہو جانے کے باعث تب ان پر دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

DW.COM

اشتہار