آسٹریلیا سے مزید تارکین وطن امریکا روانہ، پاکستانی بھی شامل | حالات حاضرہ | DW | 18.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

آسٹریلیا سے مزید تارکین وطن امریکا روانہ، پاکستانی بھی شامل

بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے تین درجن کے قریب تارکین وطن امریکا آباد کاری کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ ان مہاجرین کی امریکا آبادکاری کا معاہدہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پایا تھا۔

بحر الکاہل کی جزیرہ ریاست ناؤرُو سے پینتیس مہاجرین کا ایک اور دستہ امریکا میں آبادکاری کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ آج اتوار کو روانہ ہونے والے اس پانچویں گروپ میں افغانستان، پاکستان، میانمار اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن کے علاوہ چار بچوں پر مشتمل ایک سری لنکن خاندان بھی شامل ہے۔

اس طرح آسٹریلیا سے امریکا میں آباد کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد 187 ہو گئی ہے۔ ناؤرُو کے حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ رواں مہینے کے اختتام کے قریب تارکین وطن کا ایک اور گروپ امریکا کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔

ناؤرو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر میں کسی حد تک مقید تقریباً دو ہزار تارکین وطن کی حالت زار کو بہتر بنانے کی حامی ایکشن کمیٹی کے ترجمان ایان رِنٹول کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے کے دوران امریکی حکام ناؤرُو پہنچ رہے ہیں اور وہ مزید تارکین وطن کا انتخاب کریں گے۔

آسٹریلیا سے مہاجرین کی ’بے وقوفانہ ڈیل‘ پر غور کروں گا، ٹرمپ

زبردستی نہ کی جائے، مہاجرین کی آہ و بکا

مہاجرین کے معاہدے پر اقوام متحدہ کا الزام غلط ہے، آسٹریلیا

رِنٹول کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا جانے والے مہاجرین کے بعد سیاسی پناہ کے بقیہ متلاشیوں کو فوری طور پر آسٹریلیا میں لا کر اُن کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے۔ ترجمان کے مطابق ان جزائر میں مقیم مہاجرین کو انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔

آسٹریلیا میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے ان تارکین وطن کو کھلے سمندر میں پکڑ کر ناؤرُو اور پاپوا نیوگنی کے جزائر میں قائم امیگریشن مراکز میں مقید کر دیا جاتا تھا۔ ان کیمپوں میں مقیم مہاجرین کی حالت زار پر انسانی حقوق کے حلقے مسلسل سراپا احتجاج تھے۔

امریکی صدر اوباما کے دور میں انسانی ہمدردی کے تحت ان مہاجرین کی ایک مخصوص تعداد کو امریکا بسانے کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ڈیل کو ’فضول‘ قرار دے چکے ہیں۔

DW.COM