آسٹریا: پاکستانیوں اور افغانوں سمیت 45 ’منشیات فروش‘ گرفتار | مہاجرین کا بحران | DW | 16.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

مہاجرین کا بحران

آسٹریا: پاکستانیوں اور افغانوں سمیت 45 ’منشیات فروش‘ گرفتار

آسٹرین پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں منشیات فروشی کرنے والے ایک گروہ کے پینتالیس مشتبہ ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں مقامی شہریوں کے علاوہ افغانستان، پاکستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھی شامل ہیں۔

یورپی ملک آسٹریا کی پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ منشیات فروخت کرنے والے یہ افراد چرس اور مختلف نوع کی منشیات ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے نابالغ تارکین وطن لڑکوں اور کم عمر آسٹرین لڑکیوں کو استعمال کر رہے تھے۔

جرمنی سے نکالے گئے پاکستانی واپس اسلام آباد پہنچ گئے

مہاجر لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، آئی او ایم

پولیس نے ان مبینہ منشیات فروشوں کو آسٹریا کے مغربی صوبے ٹیرول میں مختلف کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا۔ ٹیرول کی صوبائی پولیس کے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں پندرہ سے اڑتالیس برس کے درمیان ہیں۔

منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ان افراد میں آسٹرین اور جرمن شہریوں کے علاوہ افغانستان، پاکستان، ایران، شام اور ترکی سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بھی شامل ہیں۔

ٹیرول پولیس کے بیان کے مطابق، ’’صوبے میں فروخت کی جانے والی مشنیات ممکنہ طور پر آسٹرین دارالحکومت ویانا سے خریدی گئیں اور زیادہ تر واقعات میں ان منشیات کو ٹیرول پہنچانے کے لیے نابالغ تارکین وطن لڑکوں یا (آسٹرین) لڑکیوں کو استعمال کیا گیا۔‘‘

آسٹریا کی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں۔ آسٹریا میں سیاسی پناہ کے درخواست گزاروں کی تعداد بہت زیادہ نہیں لیکن شام اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مہاجرین اور تارکین وطن سن 2015 میں آسٹریا کی حدود ہی سے گزر کر جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک پہنچے تھے۔

سن 2015 کے بعد سے یورپی یونین کے رکن اس ملک میں عوامی سطح پر مہاجرین مخالف جذبات میں کافی اضافہ ہوا ہے اور حالیہ انتخابات کے بعد عوامیت پسند اور مہاجرین مخالف سیاسی جماعت آسٹریا کی نئی مخلوط حکومت کا حصہ بھی بن چکی ہے۔

اٹلی میں مہاجرین کی آمد کم کیسے ہوئی؟ ماہرین پریشان

پاکستانی تارکین وطن کی واپسی، یورپی یونین کی مشترکہ کارروائی

DW.COM