آسٹريليا: کسٹم ايجنٹ ہی نکلے منشيات کے اسمگلر، کارروائی شروع | معاشرہ | DW | 05.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

آسٹريليا: کسٹم ايجنٹ ہی نکلے منشيات کے اسمگلر، کارروائی شروع

آسٹریلیا کی تاریخ میں کرسٹل ميتھ يا ’آئس‘ کا سب سے بڑا ذخیرہ پکڑا گيا۔ عدالت نے تين افراد پر فرد جرم عائد کر دی ہے، جن ميں سے دو کسٹم ايجنٹ تھے۔

آسٹریلیا کے میتھ کرسٹل کے سب سے بڑے ذخیرے کو قبضے میں لے کر دو کسٹم ایجنٹوں سمیت تین افراد پر میلبورن کی عدالت میں منشیات کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ 'میتھم فیٹا مائن‘ جسے عرف عام میں 'آئس‘ کہا جاتا ہے، کی قیمت ایک ارب آسٹریلین ڈالرز سے زائد ہے، جو لگ بھگ چھ سو سولہ ملین یورو بنتی ہے۔ حکام نے ان منشیات کو میلبورن پورٹ سے قبضے میں ليا۔

آسٹریلین بارڈر فورس آفیسرز کا کہنا ہے کہ یہ اسپیکرز تھائی لینڈ سے بھیجے گئے تھے۔ آئس نشے کے ساتھ ۳۷ کلو گرام ہیروئن بھی اسپیکرز کے اندر سے برآمد ہوئی ۔ جمعرات کے روز سینتیس اور اڑتیس سالہ دو مرد اور ایک سینتیس سالہ خاتون عدالت میں پیش ہوئے۔ ان پر منشیات کی درآمد کا الزام عائد کیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے ڈپٹی کمشنر نیل گاؤگن کا کہنا تھا، ''ان تین میں سے دو کسٹم ایجنٹس تھے اور وہ دونوں اس شعبے کے قابل اعتماد اہلکار تھے۔ انہوں نے اپنی پوزیشن کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔ لیکن یہ تینوں نجی کنٹریکٹرز کے طور پر شعبے سے منسلک تھے اور باقاعدہ سرکاری ملازم نہیں تھے۔‘‘

 میلبورن میں متعدد املاک پر پولیس چھاپوں کے بعد ان تینوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آسٹریلیا کو منشیات کے بین الاقوامی اسمگلروں کے لیے ایک مشہور مارکیٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ايسا تاثر پايا جاتا ہے کہ آسٹريليا ميں مقامی افراد منشیات عموماً مہنگے دام خريد ليتے ہيں۔

ع ش / ع س، نيوز ايجنسياں