1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمنی کو جنوبی امریکا سے آنے والی ’کوکین کے سیلاب‘ کا سامنا

مقبول ملک لوئس سینڈرز
27 دسمبر 2017

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے نگران وفاقی ادارے کے حکام نے عنقریب ختم ہونے والے سال 2017 میں مجموعی طور پر ملک میں اسمگل کی گئی کروڑوں ڈالر مالیت کی سات میٹرک ٹن سے زائد کوکین ضبط کی، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔

https://p.dw.com/p/2pzQ2
جنوبی امریکا میں ایکواڈور سے براستہ سمندر جرمنی برآمد کیے گئے کیلوں کے ساتھ اسمگل کی جانے والی کوکینتصویر: picture-alliance/dpa/Landeskriminalamt Baden-Württemberg

جرمنی میں جرائم کی روک تھام کے وفاقی ادارے کا نام بی کے اے (BKA) ہے، جس کے اہلکاروں نے بتایا کہ یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو اس وقت جنوبی امریکی ممالک سے اسمگل کی جانے والی ’کوکین کے ایک سیلاب‘ کا سامنا ہے۔

بی کے اے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے جرمن نشریاتی ادارے این ڈی آر کو بتایا کہ 2017ء میں اب تک جرمن حکام نے ملک کے مختلف شہروں سے جتنی زیادہ مقدار میں اسمگل شدہ کوکین اپنے قبضے میں لی ہے، وہ حیران کن حد تک زیادہ اور ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سال جرمنی میں اسمگل کی گئی سات میٹرک ٹن سے زائد کوکین ضبط کی گئی، جس کی بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں قیمت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کا سب سے مطلوب اسمگلر ایک مرتبہ پھر گرفتار

ویٹیکن کی ڈپلومیٹک کار سے چار کلو گرام کوکین برآمد

حکام کے مطابق کوکین کی اسمگلنگ کی کوششوں میں بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ اضافہ اس لیے بھی دیکھنے میں آیا کہ خاص طور پر جنوبی امریکی ممالک میں جرائم پیشہ گروہوں کی طرف سے اس انتہائی نشہ آور مادے کی تیاری میں پیداوار کے جدید طریقوں کی وجہ سے بہت اضافہ ہوا ہے۔

Deutschland Hamburg Zoll präsentiert Kokain Rekordfund
اس سال جولائی میں ہیمبرگ کی بندرگاہ سے تجارتی سامان کے ساتھ چھپا کر بھیجی گئی 3.8 ٹن کوکین برآمد کی گئی تھیتصویر: picture-alliance/dpa/C. Charisius

انسداد منشیات کے جرمن ماہرین کے بقول گزشتہ برس دنیا بھر میں کوکین کی مجموعی پیداوار 582 میٹرک ٹن رہی تھی، جو اس سال مزید اضافے کے ساتھ اور بھی زیادہ ہو گئی۔

جرمنی کے فیڈرل کریمینل آفس (BKA) کےانسداد منشیات کے شعبے کے سربراہ کرسٹیان ہوپے نے بتایا کہ ملک میں کوکین کی اسمگلنگ کے خلاف سال رواں میں جتنی بھی کامیاب کارروائیاں کی گئیں، ان میں سے سب سے بڑی کارروائی جولائی میں شمالی شہر ہیمبرگ کی بندرگاہ پر کی گئی تھی، جس دوران 3.8 میٹرک ٹن کوکین قبضے میں لے لی گئی۔ ہیمبرگ کا شمار بحری مال برداری کے لیے استعمال ہونے والی یورپ کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں ہوتا ہے۔

جسم فروش خواتین اور کوکین کا نشہ، برطانوی لارڈ مستعفی

کوکین کے اسمگلروں کی نظریں اب جنوبی ایشیا پر

ہوپے کے بقول منشیات کے جنوبی امریکی اسمگلروں نے جرمنی بھر میں اتنی زیادہ کوکین اسمگل کرنے کی کوشش کی کہ اسے یقینی طور پر ’کوکین کے سیلاب‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ کرسٹیان ہوپے کے مطابق، ’’منشیات کے یہ اسمگلر اس نظریے کے تحت کام کرتے ہیں کہ رسد زیادہ ہو گی، تو طلب بھی خود بخود پیدا ہو جائے گی۔‘‘ ماہرین کے مطابق یہ بات کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ آیا کوکین نشے کے عادی افراد کی طرف سے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا نشہ بن جائے گی۔

Kokainfund in Deutschland Hamburg Flash-Galerie
تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی کو بین الاقوامی اسمگلروں کے ہاتھوں ’کوکین کے سیلاب‘ کا سامنا ہےتصویر: AP

جنوبی امریکا میں یہ کوکین میکسیکو، ایکواڈور اور یوروگوئے جیسے ممالک سے بحری مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز میں طرح طرح کے تجارتی سامان مثلاﹰ بر‌آمدی کیلوں کے ساتھ چھپا کر یورپ اسمگل کی جاتی ہے۔

سالگرہ پر سب کے لیے مفت کوکین، جرمن خاتون گرفتار

اسمگلروں کی غلطی، منشیات جرمنی کی سپر مارکیٹ پہنچ گئیں

بی کے اے کے تفتیشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب یہ منشیات جرمنی میں ہیمبرگ کی بندرگاہ تک پہنچ جاتی ہیں، تو انہیں وہاں سے باہر نکلوانے کے لیے منشیات کے اسمگلر بندرگاہ کے ملازمین کو بھاری رقوم کی پیشکش بھی کرتے ہیں۔

جرمنی کے علاوہ کئی دیگر یورپی ممالک کے تفتیشی ماہرین کی رائے میں یورپ میں منشیات کی اس غیر قانونی تجارت پر اٹلی اور بلقان کے خطے کی ریاستوں کے جرائم پیشہ گروہ چھائے ہوئے ہیں۔