1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’غزہ بحران پر اسرائیلی اور مصری رہنماؤں نے گفتگو کی‘

14 اگست 2018

اسرائیلی وزیر خزانہ موشے کالون نے تصدیق کر دی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مئی میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں غزہ پٹی میں طویل المدتی جنگ بندی معاہدے کی خاطر مذاکرات کیے تھے۔

https://p.dw.com/p/338BA
Gazastreifen - heftige Auseinandersetzungen
تصویر: Getty Images/AFP/M. Hams

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسرائیلی وزیر خزانہ موشے کالون کے حوالے سے چودہ اگست بروز منگل بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مئی میں اپنے دورہ مصر کے دوران صدر السیسی سے ملاقات میں غزہ پٹی میں سیز فائر پر بھی گفتگو کی تھی۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب اسرائیل سے متصل غزہ پٹی کی سرحد پر کشیدگی بڑھتی جا ری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے طویل المدتی فائر بندی کے علاوہ حماس کے زیر قبضہ اس علاقے میں پائیدار امن اور ممکنہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔

پیر کے دن جب ان رہنماؤں کی خبریں عام ہوئی تھیں تو اسرائیلی وزیراعظم کے ترجمان نے ان کی تردید یا تصدیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ حالیہ مہینوں میں غزہ پٹی میں مقیم فلسطینوں کی طرف سے پرتشدد احتجاج کے سلسلے کے بعد امریکا اور مصر نے کوشش شروع کر دی ہے کہ دونوں فریق ایک طویل المدتی جنگ بندی ڈیل پر رضا مند ہو جائیں۔ اس مقصد کی خاطر امریکا اور مصر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پیر کے دن اسرائیلی میڈیا میں جاری ہونے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے مصری صدر سے ملاقات میں غزہ پٹی کی ناکہ بندی میں نرمی، بنیادی شہری ڈھانچے کی تعمیر نو اور فائر بندی کی شرائط پر گفتگو کی تھی۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو میں ایک پروگرام میں شرکت کے دوران کالون نے کہا کہ نیتن یاہو اور السیسی نے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پٹی میں جو کچھ بھی کیا جائے گا، وہ مصر کی ثالثی اور تعاون کے ساتھ ہی کیا جائے گا۔

غزہ پٹی میں دو ملین سے زائد فلسطینی آباد ہیں، جو اسرائیلی اور مصری ناکہ بندی کی وجہ سے متعدد مشکلات کا شکار ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق اس فلسطینی علاقے میں پینے کے صاف پانی اور ادویات کی قلت کے علاوہ بجلی کی فراہمی میں بھی شدید مسائل ہیں، جس کی وجہ سے غزہ پٹی کے باسی ایک بحرانی حالت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیل اور مصر کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کی ناکہ بندی سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے کی گئی ہے۔

ع ب / ع ت / خبر رساں ادارے

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید