1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حکومت کے سہرے میں ایک اور پھول سج گیا

2 جولائی 2019

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے ساتھ ہی حکومت کے سہرے میں ایک پھول کھل گیا ہے، کامیابی کا ایک اور تمغہ ان کے سینے پر سج گیا۔ الزام کیا ہے؟ گرفتار کس نے کیا ہے؟ دفعہ کون سی لگائی گئی ہے اب یہ سب فروعی سی باتیں ہیں۔

https://p.dw.com/p/3LSfR
Ammar Masood
تصویر: privat

اب اپوزیشن کو ایک مسلسل سیاسی انتقام کا سامنا ہے۔ عمران خان جب کہتے تھے کہ ''میں انکو چھوڑوں گا نہیں‘‘ تو اس کی یہ تاویل بھلا کب کسی نے سوچی تھی؟ کسی کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ 'سیاسی انتقام‘  اس حد تک پہنچ جائے گا۔ یہ اپوزیشن پر پہلا وار نہیں تھا اس سے پہلے نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری ، حنیف عباسی، قمر السلام، حمزہ شہباز، سعد رفیق، سلمان رفیق، فریال تالپور، شہباز شریف اور بے شمار اس 'انتقام‘  کا نشانہ بن چکے ہیں۔ خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اپنی باری کے منتظر بیٹھے ہیں۔

بلاول بھٹو کا نام بھی ریڈ لسٹ میں آ چکا ہے۔ لیکن ان سب گرفتاریوں کے بعد بھی یہ انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہو گی۔ ساری اپوزیشن کو جیل بھیج کے بھی وزیر اعظم  ''میں انہیں چھوڑوں گا نہیں‘‘ کہ بیانیے پر قائم رہیں گے۔ حال ہی میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی غیر موجودگی میں عمران خان نے فرمایا کہ ''یہ ہماری فراخ دلی ہے کہ ہم انہیں ایوان میں بات کرنے دیتے ہیں۔ ورنہ ان کو خاموش کروانا ہمیں آتا ہے۔‘‘

اس ملک میں یہ سب اس وقت ہو رہا ہے، جب صحافیوں کو زد و کوب کرنے پر فخر کیا جا رہا ہے۔ مخالف سیاستدانوں پر ٹی  وی ٹاک شوز میں تھپڑ برسائے جا رہے ہیں۔ میڈیا میں مخالف آوازوں کو بزور طاقت چپ کروایا جا رہا ہے۔ جمہوریت اور عوام کی بالادستی کی بات کرنے والوں کو چن چن کر ان کے اداروں سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ ایسا موقع ہے جب مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ مزدور روزگار کی تلاش میں در بدر ہو رہے ہیں۔ فیکٹریوں میں سے لاکھوں مزدوروں کو نکال دیا گیا ہے۔

صرف میڈیا میں دس ہزار سے زیادہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ معیشت کو چلانے والے زیادہ تر ہڑتال پر جا چکے ہیں۔ ملیں بند ہو رہی ہیں۔ لوگ مہنگائی سے خود کشیاں کر رہے ہیں۔ بجلی اور گیس کا بل عوام کے لیے سوہان روح بن چکا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ماچس سے لے کر سبزی تک اور اینٹ سے لے کر سیمنٹ تک ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر ری ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم عوام کو اکثر دھمکاتے ہیں کہ اس ملک کے عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ ان کی لسٹیں ہمارے پاس آ چکی ہیں۔ ہم ان سب سے نمٹ لیں گے۔ ایک ایک کو نشان عبرت بنا دیں گے۔ حکومت کے وزراء پر کرپشن کے جو کیسسز ہیں ان پر نہ نیب کی نظر پڑتی ہے نہ کوئی اور اس پر سوموٹو ایکشن لیتا ہے۔ میڈیا میں چور ڈاکو اور کرپشن کے بیانیے کا ساتھ دینے والے ہی نوکری بچانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ لیکن ایسا کب تک چلے گا؟

حکومت کی سیاسی انتقام والی بات پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ ان کے رویے اب سب کچھ بتا رہے ہیں۔ ان سے بہتری کی توقع عبث ہے۔ مہنگائی کا رونا بھی بہت پیٹ لیا گیا ہے۔ لوگوں کے غربت سے مرنے کی خبریں حکومت پر کوئی اثر نہیں کر رہیں۔ عوام کی بدحالی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ بے بسی کی کیفیت ان پر طاری ہو رہی ہے۔ ان کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اپنی داستان غم کس کو سنائیں، کس کےسامنے اپنے دکھ درد بیان کریں، کس کے شانے پر اپنے آنسو بہائیں؟

تحریک انصاف کے علاوہ بھی اس ملک میں بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں، جنہوں نے عوام سے بہت ووٹ حاصل کیے ہیں۔

 ان جماعتوں کے ووٹرز اپنے اپنے قائدین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ ان سے داد رسی چاہتے ہیں۔ ان جماعتوں میں ابھی بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سگریٹ کا کش لگا کر کہہ رہے ہیں کہ ''تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو‘‘۔ ان مفکرین کی سمجھ میں بات نہیں آ رہی کہ پلوں تلے بہت پانی بہہ چکا ہے۔ اس تیل کی دھار کے انتظار سے عوام کی تشفی نہیں ہو رہی۔ عوام اپنی مشکلات کا فوری حل چاہتے ہیں۔ جمہوریت پر یقین رکھنے والے اس مسلسل سیاسی انتقام کا کوئی حل چاہتے ہیں۔

اب ان سیاسی جماعتوں کو سامنے آنا ہو گا۔  اس لیے کہ ''مفاہمت کا مصالہ‘‘ بیچنے والے بھی بالاخر گرفتار ہوں۔ ان کی گاڑیوں سے بھی ''چرس‘‘ برآمد کروا دی جائے گی۔ ان کو بھی  جلد یا بدیر انتقام کا نشانہ بننا ہوگا۔ اب اس ملک کی سیاسی قیادت کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ عوام کے ساتھ ہیں یا پھر اب بھی مفاہمت کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ اب بھی اپنی آواز بلند کرنے میں تامل کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ نہ صرف عوام سے بے وفائی کریں گے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ یہ ''مفاہمتی‘‘ اب عوام کے عتاب کا نشانہ بھی بنیں گے۔ اس لیے کہ اس جمہوریت اور عوام کش حکومت کے مظالم عوام کچھ دیر  برداشت نہیں کر سکیں  گے اور اگر پھر بھی کسی نے ان کے حق کے لیے آواز نہ اٹھائی تو پھر عوام خود سڑکوں پر نکلیں گے۔ یاد رکھیے  قیادت کے بغیر سڑکوں پر نکلنے والے  بپھرے ہوئےعوام بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ان کا رخ کسی بھی جانب ہو سکتا ہے۔

نوٹڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔