سیکس ڈولز اور اسلحہ کی فروخت، آن لائن ریٹیلر شیئن زیر تفتیش
18 فروری 2026
تحقیقات کے مطابق شیئن کے پلیٹ فارم پر گزشتہ برس بچوں جیسی جنسی گڑیاں اور دیگر ممنوعہ اشیا فروخت کے لیے دستیاب تھیں۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر حینا ویرکونن نے منگل کو کہا کہ ''یورپی یونین میں غیر قانونی مصنوعات ممنوع ہیں—چاہے وہ اسٹور میں فروخت ہوں یا آن لائن۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ EU کے قوانین صارفین کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ الگورتھم پر مبنی پلیٹ فارمز کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہوں۔
شیئن، جو چین میں قائم ایک معروف کم قیمت ریٹیل کمپنی ہے، پہلے ہی سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال اس وقت اس کے بارے میں تنازع کھڑا ہوا جب پلیٹ فارم پر بچوں سے مشابہ جنسی گڑیا اور اسلحہ فروخت کے لیے نظر آئے، جس پر کمیشن نے متعدد بار معلومات طلب کیں۔ یورپی حکام اب یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کمپنی نے نابالغوں کے تحفظ اور پلیٹ فارم کی شفافیت سے متعلق یورپی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
کمیشن کے مطابق نئی تحقیقات میں یورپی یونین میں غیر قانونی مصنوعات کی فروخت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جن میں ’’وہ مواد بھی شامل ہے جو بچوں کے جنسی استحصال کے زمرے میں آ سکتا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا شیئن کی ایپ میں ایسے ڈیزائن موجود ہیں جو صارفین کو زیادہ وقت تک مشغول رکھنے کے لیے عادی بنانے کے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں، جیسے پوائنٹس یا انعامات کا لُبھاؤ۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسی خصوصیات صارفین، خصوصاً نوجوانوں، کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
تحقیقات میں شیئن کے ''ریکمینڈیشن سسٹمز‘‘ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی وہ الگورتھم جو صارفین کو مخصوص مصنوعات دکھاتے ہیں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت کیا جا رہا ہے، جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی مواد کو تیزی سے ہٹائیں اور صارفین کو ایسے مواد کی رپورٹنگ میں آسانی فراہم کریں۔ اس قانون کے تحت بڑے پلیٹ فارمز پر زیادہ سخت تقاضے لاگو ہوتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی کمیشن نے شیئن کے خلاف DSA کے تحت باضابطہ کارروائی شروع کی ہے۔ تحقیقات کے دورانیے کے بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ تحقیقات کا آغاز کسی پیشگی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا اور ادارہ عمل کے دوران شیئن کی جانب سے ممکنہ وعدے یا اصلاحی اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔
اگر یورپی کمیشن آخر میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ شیئن نے DSA کی خلاف ورزی کی ہے، تو کمپنی پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ انتہائی صورت میں پلیٹ فارم کو یورپی یونین میں معطل بھی کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس اقدام کا امکان فی الحال کم سمجھا جارہا ہے۔
ادارت: جاوید اختر