1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سیکس ڈولز اور اسلحہ کی فروخت، آن لائن ریٹیلر شیئن زیر تفتیش

کشور مصطفیٰ ڈی پی اے کے ساتھ
18 فروری 2026

یورپی کمیشن نے آن لائن ریٹیل کمپنی شیئن کے خلاف مبینہ ممنوعہ مصنوعات کی فروخت کے معاملے پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس پر بچوں جیسی شکل والی جنسی گڑیاں اور صارفین کو عادی بنانے والی مصنوعات کی فروخت کا الزام ہے۔

https://p.dw.com/p/58uqd
دی لو سیکس ایکسپو میں ایک جنسی گڑیا  اسٹینڈ پر رکھی دکھائی دے رہی ہے
پریٹوریا میں سالانہ دی لو سیکس ایکسپو میں ایک جنسی گڑیا کو اسٹینڈ میں کھڑا دیکھا گیا ہے تصویر: Emmanuel Croset/AFP/Getty Images

تحقیقات کے مطابق شیئن  کے پلیٹ فارم پر گزشتہ برس بچوں جیسی جنسی گڑیاں اور دیگر ممنوعہ اشیا فروخت کے لیے دستیاب تھیں۔

یورپی کمیشن کی نائب صدر حینا ویرکونن نے منگل کو کہا کہ ''یورپی یونین میں غیر قانونی مصنوعات ممنوع ہیں—چاہے وہ اسٹور میں فروخت ہوں یا آن لائن۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ EU کے قوانین صارفین کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب وہ الگورتھم پر مبنی پلیٹ فارمز کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہوں۔

شیئن، جو چین میں قائم ایک معروف کم قیمت ریٹیل کمپنی ہے، پہلے ہی سے سخت جانچ پڑتال کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ سال اس وقت اس کے بارے میں تنازع کھڑا ہوا جب پلیٹ فارم پر بچوں سے مشابہ جنسی گڑیا اور اسلحہ فروخت کے لیے نظر آئے، جس پر کمیشن نے متعدد بار معلومات طلب کیں۔ یورپی حکام اب یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا کمپنی نے نابالغوں کے تحفظ اور پلیٹ فارم کی شفافیت سے متعلق یورپی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

جرمنی میں آن لائن ریٹیل کمپنی شیئن کے آرڈرز کے پیکٹ کو کھولتے ہوئے ایک نوجوان عورت بہت خوشی محسوس کرتی نظر آ رہی ہے
شیئن چین میں قائم ایک معروف کم قیمت ریٹیل کمپنی ہےتصویر: Thorsten Wagner/onemorepicture/IMAGO

کمیشن کے مطابق نئی تحقیقات میں یورپی یونین میں غیر قانونی مصنوعات کی فروخت پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جن میں ’’وہ مواد بھی شامل ہے جو بچوں کے جنسی استحصال کے زمرے میں آ سکتا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا شیئن  کی ایپ میں ایسے ڈیزائن موجود ہیں جو صارفین کو زیادہ وقت تک مشغول رکھنے کے لیے عادی بنانے کے طریقوں کا استعمال کرتے ہیں، جیسے پوائنٹس یا انعامات کا لُبھاؤ۔

سیکس اور تشدد، آن لائن گیمز بچوں کے لیے خطرہ بھی!

کمیشن کا کہنا ہے کہ ایسی خصوصیات صارفین، خصوصاً نوجوانوں، کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

تحقیقات میں شیئن  کے ''ریکمینڈیشن سسٹمز‘‘ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔  یعنی وہ الگورتھم جو صارفین کو مخصوص مصنوعات دکھاتے ہیں۔ یہ اقدام ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت کیا جا رہا ہے، جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ غیر قانونی مواد کو تیزی سے ہٹائیں اور صارفین کو ایسے مواد کی رپورٹنگ میں آسانی فراہم کریں۔ اس قانون کے تحت بڑے پلیٹ فارمز پر زیادہ سخت تقاضے لاگو ہوتے ہیں۔

2012 میں  چین میں منعقد ہونے والی بالغ افراد کی مصنوعات کی نمائش میں ایک اشتہاری بورڈ پر لگی سیکس ڈول کی تصویر
یورپی کمیشن کے مطابق نئی تحقیقات میں یورپی یونین میں غیر قانونی مصنوعات کی فروخت پر خصوصی توجہ دی جائے گیتصویر: Alex Ogle/AFP/GettyImages

یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی کمیشن نے شیئن کے خلاف DSA کے تحت باضابطہ کارروائی شروع کی ہے۔ تحقیقات کے دورانیے کے بارے میں کوئی وقت مقرر نہیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ تحقیقات کا آغاز کسی پیشگی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا اور ادارہ عمل کے دوران شیئن کی جانب سے ممکنہ وعدے یا اصلاحی اقدامات پر بھی غور کر سکتا ہے۔

اگر یورپی کمیشن آخر میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ شیئن  نے DSA کی خلاف ورزی کی ہے، تو کمپنی پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ انتہائی صورت میں پلیٹ فارم کو یورپی یونین میں معطل بھی کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس اقدام کا امکان فی الحال کم سمجھا جارہا ہے۔

 

ادارت: جاوید اختر