1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کورونا کی رپورٹنگ کرنے والے 10 صحافی بھی متاثر

فریداللہ خان، پشاور
8 مئی 2020

پشاور سمیت دیگر اضلاع میں کورونا کے حوالے سے فرنٹ لائن پر آگاہی کے لیے کام کرنے والے ‌صحافی بھی ذاتی حفاظتی اشیا اور احتیاطی تدابیر سے ناواقف ہیں۔

https://p.dw.com/p/3bwDa
Pakistan Coronavirus
تصویر: Getty Images/AFP/R. Tabassun

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کورونا وائرس کے حوالے سے رپورٹنگ کرنے والے ایسے صحافیوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے جو خود بھی اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ تمام صحافی چونکہ اپنے گھروں میں ہی موجود ہیں تو اسی باعث ان کے گھر کے دیگر افراد کو بھی یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔ متاثرہ صحافیوں میں زیادہ تر الیکٹرانک میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں جنہیں ہسپتالوں، قرنطینہ مراکز اور متاثرہ افراد کی کوریج کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ متاثرہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے اداروں کی جانب سے انہیں احتیاط کرنے کی ہدایت تو کی جاتی رہی لیکن کسی قسم کا حفاظتی سامان یا احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائن فراہم نہیں کی گئی۔

پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں پختونخوا میں کورونا سے متاثرہ افراد میں ہلاکتوں کی شرح زیادہ ہے اسی طرح زیادہ صحافی بھی یہیں متاثر ہوئے ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ پشاور کے سینیئر صحافی آصف شہزاد اعوان نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا، ''متاثرین میں اضافے کے ساتھ ہماری ڈیوٹی میں بھی چار گھنٹے کا اضافہ کیا گیا۔ جب تفتان سے مشتبہ افراد کو پشاور لایا گیا تو ان کی کوریج کا کہا گیا لیکن حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب انہیں شک ہوا تو تو انہوں نے ٹیسٹ کرایا: ''چار دن بعد مثبت رزلٹ دے کر گھر پر ہی الگ تھلگ رہنے کی ہدایت کی گئی۔ گھر کے دوسرے لوگوں کا ٹیسٹ کیا تو تعداد چھ ہوگئی لیکن آج سترہ افراد کے گھرانے میں یہ تعداد گیارہ تک پہنچ چکی ہے۔‘‘

کورونا وائرس کے خوف سے پولیو مہم بھی متاثر

حکومت اور ان کے ادارے کی جانب سے تعاون کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ پشاور پریس کلب کی جانب سے ضروری اشیا فراہم کی گئیں جبکہ حکومت کی جانب سے اشیا خورد و نوش فراہم کی گئی ہیں۔

آصف شہزاد اعوان اس مشکل وقت میں جہاں اپنے ادارے سے نالاں ہیں وہاں انہوں نے خیبر یونین آف جرنلسٹس سے بھی گلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے، ''گھر میں جگہ کم تھی مجھے آئسولیشن کی ضروت تھی جو فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے آج فیملی کے سترہ میں سے گیارہ لوگ متاثرہیں۔‘‘

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینیئر نائب صدر شمیم شاہد نے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا، ''یہ ایک حقیقت ہے کہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان نے نہ پہلے مشکل حالات میں کارکنوں کی مدد کی ہے اور نہ ہی موجود مشکل حالات میں کوئی تعاون کیا۔ ہم نے وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات سے ملاقات کی۔ موجود طریقہ کار کے مطابق علاج کا خرچہ حکومت دے گی جبکہ مرنے کی صورت میں ورثا کو دس لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 150 کِٹس اور دیگر اشیا فراہم کی گئی تھیں لیکن ضرورت اب بھی ہے۔

صوبائی حکومت نے جہاں ابتدائی دنوں میں حفاظتی اشیا فراہم کیں وہاں گزشتہ روز متاثرہ افراد کے گھروں میں اشیا خورد ونوش کی فراہمی شروع کی ہے وزیر اعلی کے مشیر برائے اطلاعات اجمل خان وزیر کا کہنا ہے، ''صحافی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن پر کام کر کے عوام میں آگاہی بیدار کرنے میں متحرک ہیں۔ ہم انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ ہر قسم کی امداد کا سلسلہ جاری رکیں گے۔‘‘

خیبر پختونخوا کے صحافیوں نے جہاں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے رپورٹنگ کی وہاں اب کورونا وائرس سے آگاہی کی مہم میں بھی آگے آگے ہیں تاہم وہ اور ان کے خاندان کے دیگر افراد اداروں کی جانب سے سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش میں مبتلا ہیں۔