کیمیائی ہتھیار شام سے منتقل نہ ہو سکے
31 دسمبر 2013
ناروے کے ایک ترجمان نے پیر کو بتایا کہ تخفیفِ اسلحہ کی ٹیمیں جہاز کے ساتھ قبرص کی ایک بندر گاہ پر لوٹ گئی ہیں۔ ڈنمارک کا ایک جنگی بحری جہاز بھی ان کے ساتھ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ٹیموں نے یہ بات قبول کر لی ہے کہ شام سے کیمیائی ہتھیار سال کے آخر تک کی طے شدہ تاریخ تک واپس نہیں لائے جا سکتے۔
ترجمان لارس ہووٹن نے بتایا کہ ٹیموں کے اس اعلان کے بعد ناروے کے بحری جہاز HNoMS Helge Ingstad کو قبرص کی ایک قریبی بندر گاہ پر لوٹنے کا حکم دیا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ٹیمیں اس کام کے لیے واپس کب جائیں گی۔
انہوں نے کہا: ’’ہم شام جانے کے لیے ابھی تک ہائی الرٹ پر ہیں۔ ہمیں ابھی واضح طور پر یہ نہیں پتہ کہ احکامات (اس حوالے سے) کب آئیں گے۔‘‘
بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ مشن نے ہفتے کو یہ بات تسلیم کی تھی کہ ہتھیاروں کو شام میں لاذقیہ کی بندرگاہ پر 31 دسمبر کی حتمی تاریخ تک پہنچانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
رواں برس روس اور امریکا کی معاونت سے ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو آئندہ برس کے وسط تک تلف کیا جانا ہے۔ اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت حاصل ہے۔ ہتھیاروں کی منتقلی کے لیے سال کے آخر کی حتمی تاریخ کو اس معاہدے کی کامیابی کی جانب ایک اہم سنگِ میل خیال کیا جا رہا تھا۔
اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے: ’’کیمیائی ہتھیاروں کو شام سے باہر لے جا کر تلف کرنے کے لیے ان کی منتقلی کی تیاریاں مستعدی سے جاری ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر، اکتیس دسمبر سے پہلے بیشتر کیمیائی مواد کی منتقلی ممکن نہیں ہے۔‘‘
دونوں اداروں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بدترین خانہ جنگی، لاجسٹک مسائل اور خراب موسم کے باعث کیمیائی ہتھیاروں کو لاذقیہ کی بندرگاہ پر پہنچانے کا آپریشن روک دیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کو باحفاظت لاذقیہ کی بندرگاہ تک پہنچانا اسد حکومت کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہيرف کا کہنا ہے: ’’ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔‘‘
بین الاقوامی سطح پر متفقہ ایک منصوبے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو پہلے اٹلی کی ایک بندرگاہ پر پہنچایا جائے گا۔ وہاں سے انہیں امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر منتقل کیا جائے گا جو ان ہتھیاروں کو سمندر میں تلف کرنے والے آلات سے لیس ہو گا۔