1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین میں سنسرشپ: مظاہرین کا جریدے کے دفتر کے سامنے احتجاج

9 جنوری 2013

چین میں سنسرشپ کے خلاف بہت کم نظر آنے والے احتجاج کے دوران ملک کے سب سے ترقی پسند اخبارات اور جرائد میں سے ایک کے بہت سے حامیوں نے اس جریدے کے مرکزی دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔

https://p.dw.com/p/17GLk
تصویر: dapd

چینی شہر گوآنگ ژُو سے ملنے والی خبر ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق ان مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی سطح پر کام کرنے والے کمیونسٹ پارٹی اہلکار اور پروپیگنڈا چیف کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔ جنوبی چین کے صوبے گوآنگ ڈونگ کے دارالحکومت گوآنگ ژُو میں اس احتجاج کی وجہ وہ مسلسل بڑھتا ہوا اختلاف رائے بنا جو وہاں آزادی صحافت کے حوالے سے صوبائی حکومت اور عوام میں پایا جاتا ہے۔ روئٹرز نے اس صورت حال کو چینی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شی جِن پِنگ کے اصلاحات کے ارادوں اور وعدوں کے لیے ابتدائی امتحان کا نام بھی دیا ہے۔

Proteste gegen Zensur Presse in China OVERLAY
روئٹرز کے مطابق چین میں انٹرنیٹ صارفین کو پہلے ہی کافی زیادہ سنسرشپ کا سامنا ہےتصویر: Reuters

چین کے اس صوبے میں سنسرشپ سے متعلق حکومتی فیصلوں اور عوامی عدم اطمینان کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی گزشتہ ہفتے دیکھنے میں آئی تھی۔ تب ایک بااثر ہفت روزہ جریدے Southern Weekly کے رپورٹروں نے سنسرشپ کے صوبائی محکمے پر الزام لگایا تھا کہ اس کے اہلکاروں نے اس جریدے میں اشاعت کے لیے تیار کردہ قارئین کے نام نئے سال کی مبارکباد کے ایک پیغام کو سرے سے بدل دیا تھا۔

اس جریدے نے اس کھلے خط میں اپنے قارئین سے مخاطب ہوتے ہوئے آئینی حکومت کی حمایت بھی کی تھی۔ لیکن سنسرشپ کے صوبائی محکمے کے اہلکاروں نے اسی جریدے میں اشاعت کے لیے جس خط کو زبردستی شامل کیا، وہ اس بارے میں تھا کہ چین میں کمیونسٹ پارٹی کتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دے چکی ہے۔

China Demonstration in Guangzhou für die Zeitung Southern Weekly
مظاہرین نے ہاتھوں میں تعزیت کے موقع پر استعمال کیے جانے والے زرد رنگ کے پھول بھی پکڑے ہوئے تھےتصویر: Reuters

اس مظاہرے کے سلسلے میں گوآنگ ڈونگ کی صوبائی حکومت اب تک کافی تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتی، جو عوام میں پائے جانے والے غصے اور طیش میں اضافے کا سبب بنے۔ اسی لیے صوبائی حکام اور مقامی پولیس نے گوآنگ ژُو میں مظاہرین کو Southern Weekly چھاپنے والے ادارے Southern Group کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرنے سے نہ روکا۔

صوبائی حکومت نے سنسرشپ کے خلاف اس احتجاج کو نہ روکنے کا فیصلہ اپنے نئے سربراہ ہُو چُن ہُوا کے حکم پر کیا۔ ہُو چُن ہُوا ابھی حال ہی میں گوآنگ ڈونگ میں صوبائی حکومت کے سربراہ بنائے گئے تھے۔ وہ چینی سیاست کی ایک ابھرتی ہوئی سٹار شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ریاستی سنسرشپ کے خلاف عوامی عدم اطمینان کے تدارک کے سلسلے میں محتاط ردعمل کے قائل ہیں۔

پیر کے روز کیے گئے اس مظاہرے کے دوران شرکاء نے ’سدرن ویکلی‘ کے صدر دفاتر کے سامنے زمین پر ہاتھوں سے لکھے گئے ایسے چھوٹے چھوٹے سائن بورڈ بھی بچھا دیے جن پر تحریر تھا، ’آزادیء اظہار جرم نہیں ہے‘ اور ’چینی عوام آزادی چاہتے ہیں‘۔

Proteste gegen Zensur Presse in China
اس مظاہرے کے سلسلے میں گوآنگ ڈونگ کی صوبائی حکومت اب تک کافی تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہےتصویر: Reuters

اس مظاہرے کے دوران شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں تعزیت کے موقع پر استعمال کیے جانے والے زرد رنگ کے chrysanthemum کے پھول بھی پکڑے ہوئے تھے، جن کے ذریعے علامتی طور پر یہ کہنے کی کوشش کی گئی تھی کہ ’آزادیء صحافت کا انتقال‘ ہو گیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق چین میں انٹرنیٹ صارفین کو پہلے ہی کافی زیادہ سنسرشپ کا سامنا ہے۔ خاص طور پر اہم ریاستی موضوعات اور انسانی حقوق جیسے حساس معاملات سے متعلق سخت سنسرشپ سے کام لیا جاتا ہے۔

انہی وجوہات کی بنا پر چین میں عالمی سطح پر مشہور اور سماجی رابطوں کے لیے استعمال ہونے والی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کے علاوہ ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر بھی پابندی ہے۔ چینی صارفین کو ان ویب سائٹس تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

(mm / at (Reuters