چین میں زلزلہ، کم از کم 200 افراد ہلاک، دس ہزار سے زائد زخمی
21 اپریل 2013
اس زلزلے سے سب سے زیادہ یاآن (Ya'an) شہر متاثر ہوا ہے، جو سطح مرتفع تبت کے کنارے پر واقع ہے۔ مقامی وقت کے مطابق یہ زلزلہ صبح آٹھ بجے کے قریب آیا، جس کے باعث سینکڑوں گھر مکمل طور پر تباہ ہ گئے جب کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے امدادی اداروں کو ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق زلزلے سے 10 ہزار سے زائد مکانات شدید متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق اس کا مرکز یاآن شہر کے قریب لوشان کا علاقہ تھا اور اس کی گہرائی 12 کلومیٹر (ساڑھے سات میل) تھی جب کہ اس کی شدت 6.6 ریکارڈ کی گئی۔ چین کے ماہرین زلزلیات کے مطابق زلزلے کی شدت 7.0 تھی۔ چین کی ایک ویب سائٹ ’پیپلز ڈیلی‘ کے مطابق زلزلے کے بعد 260 سے زائد آفٹرشاکس محسوس کیے گئے۔
چین کی سرکاری نیوز ایجنسی Xinhua نے کہا ہے کہ تقریباﹰ چھ ہزار فوجی اور پولیس اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ سی سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راستے بلاک ہو چکے ہیں اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اسی طرح امداد کے لیے جانے والا ایک فوجی ٹرک پہاڑی سے نیچے گرا ہے، جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جب کہ دیگر سات زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقے کے چاروں اطراف میں پہاڑ ہیں اور مٹی کے تودے گرنے کا شدید خطرہ ہے۔
سن 2008ء میں بھی کئی دہائیوں کا بدترین زلزلہ سیچوان صوبے میں ہی آیا تھا، جس کے نتیجے میں 87 ہزار افراد ہلاک اور لاپتہ ہو گئے تھے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز تر کرنے کا کہا ہے تاکہ جانی نقصان کم سے کم ہو سکے۔ اس کے علاوہ چینی وزیراعظم لی کیچیانگ نے بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے۔
دنیا کے بدترین زلزلے
چین کا جنوب مغربی علاقہ دنیا کے بدترین زلزلے دیکھ چکا ہے۔ یہ علاقہ دنیا کی دو ٹیکٹونِک پلیٹوں (ساختمانی تختیوں) کے درمیان واقع ہے۔ انڈین اور ایشیئن پلیٹیں مسلسل ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں یہاں زلزلے آتے ہیں۔ ارضیاتی ماہرین کے مطابق سطح مرتفع تبت میں زلزلے اُس وقت سے معمول کی بات ہیں، جب کوئی 50 ملین سال پہلے انڈین پلیٹ یوریشیا پلیٹ سے ٹکرائی۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں پلیٹیں اس قدر زور سے ٹکرائیں کہ ان کی وجہ سے ہمالیہ کے پہاڑ اور دنیا کی بلندترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ وجود میں آئے۔ ماہرین کے مطابق غیر مستحکم ٹیکٹونِک پلیٹوں کی وجہ سے یہ پہاڑ آج تک بلندی کی طرف جا رہے ہیں۔
سطح مرتفع تبت میں سب سے ہلاکت خیز زلزلہ سن 1920 میں آیا تھا، جس کے نتیجے میں صوبہ گانسو میں دو لاکھ تیس ہزار افراد مارے گئے تھے۔
ia /at (AP, AFP,dpa)