چین میں دہشت گردی کے الزام میں 20 افراد کو سزائے قید
27 مارچ 2013
سرکاری میڈیا کے مطابق، سنکیانگ کے علاقوں کاشگر اور بائے ان گولین میں دو عدالتوں نے 20 مدعا علیہان کو پانچ مقدمات میں قید کی سزا سنائی ہے۔ سزا یافتہ افراد کے ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا تعلق اقلیتی ایغور نسل سے ہے اور ان میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں۔
کاشگر کی عدالت نے Kadierjiang Yuemaierاور Maimaitimin Baikere کو مذہبی انتہا پسندی اور پرتشدد دہشت گردی کو فروغ دینے سمیت مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور ازبکستان اسلامی تحریک میں کردار ادا کرنے پر عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ افراد دہشت گردی کی تربیت، اسلحہ کی خریداری اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنےکی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔ عدالت نے چار مختلف گروپوں سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکان کو دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے الزامات میں پانچ سے پندرہ سال کی قید سنائی ہے۔
ریاست کی تقسیم پر اکسانے کے جرم میں، بائے ان گولین کی عدالت نےKeremu Maimaitiaw اور دوسرے ملزمان کو دس سال کی سزا سنائی ہے۔ Keremu Maimaitiaw پر آن لائن چیٹ رومز کے ذریعے نسلی تشدد اور مذہبی انتہا پسندی سمیت علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کا الزام تھا۔
گزشتہ چند سالوں سے سنکیانگ صوبے میں نسلی فسادات اور دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے خبریں سرکاری میڈیا میں دکھائی جا رہی ہیں۔ لیکن ایغور کے جلا وطن افراد اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے چینی حکومت پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں سنکیانگ میں سیاسی اور مذہبی مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔
zh/km(DPA)