1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

چین میں حکومتی ڈھانچے میں وسیع تر اصلاحات کا فیصلہ

10 مارچ 2013

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین میں ملکی قیادت نے حکومتی ڈھانچے میں وسیع تر اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں کرپشن اور کئی طر‌ح کے اسکینڈلوں کی زد میں آئی ہوئی ریلوے کی وزارت بھی ختم کر دی جائے گی۔

https://p.dw.com/p/17ubi
تصویر: Reuters

بیجنگ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایک اعلیٰ ریاستی اہلکار نے آج اتوار کو ملکی پارلیمان کو بتایا کہ چینی قیادت نے ملک سے نااہلی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے دور رس اقدامات کا فیصلہ کیا ہے اور ملکی وزارت ریلوے کا آئندہ خاتمہ انہی اقدامات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ان اصلاحات کے تحت ملک میں بحری شعبے میں ایک نیا محکمہ قائم کیا جائے گا جس کا پس منظر یہ ہے کہ چین کو اس وقت اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مختلف جزائر کی ملکیت سے متعلق کئی طرح کے تنازعات کا سامنا ہے۔

China Ma Kai gibt Auflösung des Eisenbahnministeriums bekannt
چینی وزارت ریلوے تحلیل کر دی جائے گیتصویر: picture-alliance/dpa

اسی طرح اقتصادی ترقی کے ذمہ دار ایک ملکی ادارے کو آئندہ فی خاندان صرف ایک بچے کی پیدائش سے متعلق سرکاری پالیسی کے حوالے سے زیادہ اختیارات دے دیے جائیں گے، جس کا سبب یہ ہے کہ چین کو اس وقت اپنے ہاں افرادی قوت کے سکڑ کر چھوٹے ہوتے جانے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔

چین میں ملکی کابینہ اسٹیٹ کونسل کہلاتی ہے۔ اس کونسل کے سیکرٹری جنرل ما کائی نے اتوار کے روز بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کہلانے والی ملکی پارلیمان کے سالانہ اجلاس میں شریک مندوبین کو بتایا کہ چینی ریاست کے انتظامی ڈھانچے میں ابھی بھی کئی شعبے ایسے ہیں جو نئے حالات اور نئی ذمہ داریوں کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔

ما کائی کی تقریر کے تحریری متن کے مطابق، ’ناکافی نگرانی یا نامناسب دیکھ بھال کی وجہ سے کئی شعبوں میں کام یا تو مکمل نہیں ہوتا یا پھر برے طریقے سے مکمل کیا جاتا ہے۔ اس طرح اختیارات کے غلط استعمال کو بھی ہوا ملتی ہے اور بدعنوانی کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے‘۔

چینی اسٹیٹ کونسل کے سیکرٹری جنرل نے نیشنل پیپلز کانگریس کے ارکان کو بتایا کہ آج کے عوامی چین میں متعدد شعبے ایسے ہیں جہاں انتظامی صورت حال غیر تسلی بخش ہے۔ اس کے علاوہ کئی دوسرے شعبے ایسے بھی ہیں جہاں محاورتاﹰ ’باورچی خانے میں بہت زیادہ باورچی‘ موجود ہیں۔

Volkskongress China 2013
چین کی پیپلز کانگریس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیںتصویر: Reuters

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے چینی دارالحکومت سے ان اعلان کردہ ریاستی اصلاحات کے بارے میں اپنی تفصیلی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ یہ امر شک و شبے سے بالا تر نہیں کہ ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے یہ اقدامات اتنے ہی مؤثر ثابت ہوں گے، جتنے کہ موجودہ چینی قیادت نے سوچے ہیں۔

اس بارے میں آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے چینی سیاسی امور کے ماہر ڈیوڈ گُڈمین کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی نے لکھا ہے کہ آج کے عوامی جمہوریہ چین میں عین ممکن ہے کہ صرف ریاستی ڈھانچے اور محکموں کی نئی سرے سے تنظیم اور تشکیل ہی بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے لیے کافی ثابت نہ ہو۔

ڈیوڈ گُڈمین کے مطابق یہ تجاویز بہت سنجیدہ اصلاحات کی نشاندہی کرتی ہیں لیکن ان کے ذریعے ممکنہ طور پر اس امر کو کافی حد تک یقینی نہیں بنایا جا سکے گا کہ چین میں سرکاری اہلکاروں کو زیادہ ذمہ دار اور زیادہ جواب دہ بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

چین میں وزارت ریلوے کو آئندہ ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے تحت مستقبل میں ریلوے کی وزارت کے انتظامی امور ٹرانسپورٹ کی وزارت کو سونپ دیے جائیں گے اور وزارت ریلوے کی تمام تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی نئی قائم کردہ چائنہ ریلوے کارپوریشن کرے گی۔

mm / ah (AFP)