1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

آسیان اجلاس: چین اور تائیوان سے تحمل کی درخواست

3 اگست 2022

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے تناظر میں کہا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں۔

https://p.dw.com/p/4F4tP
Kambodscha | ASEAN Gipfeltreffen
تصویر: Heng Sinith/AP/picture alliance

چین کی جانب سے سنگین دھمکیوں کے باوجود نینسی پلوسی تائیوان پہنچی ہیں۔ چین نے اس دورے کی صورت میں 'سزا‘ دینے کی دھمکی بھی دی تھی تاہم پلوسی جنہیں نے خود س دورے کی تصدیق نہیں کی تھیں، گزشتہ شب تائیوانی درالحکومت تائی پے پہنچ گئیں۔

چین اور تائیوان کا تنازعہ، گرافکس میں

پیلوسی کی تائیوان کے صدر سے ملاقات، چین نے امریکی سفیر کو طلب کر لیا

اس دورے کی وجہ سے نہ صرف امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، بلکہ خطے میں بھی تناؤ دیکھا گیا ہے۔ اسی تناظر میں کمبوڈیا کے دارالحکومت نوم پن میں جاری آسیان وزراتی اجلاس پر بھی اس موضوع کے واضح سائے دیکھائی دیے۔

آسیان وزرائے خارجہ کے اجلاس کا بنیادی مقصد میانمار میں جاری خونریز تنازعے پر گفتگو تھا تاہم  چین اور تائیوان کے درمیان تازہ کشیدگی کو موضوع اس اجلاس پر حاوی رہا۔

تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل

آسیان کے ترجمان اور کمبوڈیا کے نائب وزیرخارجہ کُنگ پھوک نے کہا کہ عالمی وبا کے آغاز کے بعد آسیان وزرائے خارجہ کی یہ ہہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔ ''اس بند کمرہ گفتگو میں آبنائے تائیوان میں بڑھتی کشیدگی پر شدید تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا، ''ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین کشیدگی میں کمی کی پوری کوشش کریں گے اور ایسے اقدامات سے اجتناب برتیں گے،  جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو۔ ملائشیا اور تھائی لینڈ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے بھی فریقین سے 'تحمل‘ کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔

جمعرات اور جمعے کو اسی تناظر میں ساری توجہ اجلاس میں شریک چینی وزیرخارجہ وانگ یی اور امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلکن پر مرکوز رہے گی۔

چین کے 70 برس پر ایک نظر

چینی برہمی

بدھ کے روز چینی وزیر وانگ یی نے چینی سرکاری میڈیا کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں نینسی پلوسی کو دورے کو 'چینی خودمختاری کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ''آگ سے کھیلنے کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا اور چین کو برہم کرنے والوں کو سزا ضرور ملے گی۔‘‘

چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ ایک روز وہ اس علاقے کو اپنے انتظام میں لے لے گا، چاہے اس کے لیے طاقت ہی کا استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔

ع ت، ک م (اے ایف پی، روئٹرز)