1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پرائيویٹ جيٹ پر ميونخ پہنچنے والے ’سفارت کار‘ پناہ گزين نکلے

15 اکتوبر 2020

پناہ کی تلاش ميں پہاڑی راستوں، جنگلات اور سمندروں کے خطرناک سفر کی کہانياں تو پہت سامنے آتی ہيں مگر ايک خصوصی نجی پرواز پر ’سفارت کاروں‘ کا روپ دھارے پناہ کے متلاشیوں کی يہ کہانی ذرا مختلف ہے۔

https://p.dw.com/p/3jy7h
München Flughafen - Polizisten
تصویر: picture-alliance/ZUMAPRESS/S. Babbar

وفاقی جرمن پوليس نے مہاجرين کی اسمگلنگ کے ايک عجيب و غريب واقعے پر سے پردہ اٹھايا ہے۔ چار افراد پر مشتمل ايک عراقی خاندان ايک پرائيویٹ طيارے پر جرمن شہر ميونخ کے ہوائی اڈے پر جمعہ نو اکتوبر کو اترا۔ پہلے انہوں نے خود کو سفارت کار بتايا اور بعد ميں تسليم کر ليا کہ وہ انسانوں کے ايک اسمگلر کو ساٹھ ہزار يورو دے کر استنبول سے ميونخ پہنچے ہيں۔ يہ خاندان جرمنی ميں سياسی پناہ کا متلاشی ہے۔

پوليس نے بتايا کہ 49 سالہ عراقی مہاجر، اپنی 44 سالہ بيوی اور 12 اور سات سال کی عمروں کے دو بچوں کے ساتھ ميونخ کے ہوائی اڈے پر جمعہ نو اکتوبر کو پہنچا۔ اس بارے ميں رپورٹ جرمن اخبار 'زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ ميں چھپی اور بعد ازاں ڈی ڈبليو کی ذيلی سروس 'انفومائگرينٹس‘ نے بھی اس پر رپورٹ لکھی۔

بارڈر کنٹرول کے وقت اميگريشن آفيسرز کے ساتھ گفتگو کے دوران اس عراقی مہاجر نے انہيں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کی بيوی سفارت کار ہيں اور کريبيئن کے جزيرے ڈومينيکا کی طرف سفر کر رہے ہيں۔ مگر ان کے دستاويزات اور ان کی کہانی ميں تضاد ديکھ کر حکام چوکنا ہو گئے۔ اس واقعے پر رپورٹس شائع کرنے والے دو نشرياتی اداروں نے يہ بھی لکھا ہے کہ چاروں ميں سے کوئی بھی نہ تو انگريزی زبان جانتا تھا اور نہ ہی فرانسيسی، جس سے بھی حکام کو شبہ ہوا کہ دال ميں کچھ کالا ہے۔

مہاجرين کے بحران سے يورپ نے کيا سيکھا؟

مہاجرین میں شناختی دستاويزات کی آن لائن تجارت عروج پر

بعد ازاں انہوں نے سب کچھ تسليم کر ليا۔ يہ خاندان اپنا سب کچھ بيچ کر فرار ہوا۔ ان کے بيان ميں انہوں نے بتايا کہ وہ 44 سالہ خاتون کے والد کی وجہ سے فرار ہوئے، جو اپنی بيٹی اور اس کی سات سالہ بيٹی دونوں کے ختنے کرانا چاہتے تھے۔ يہی وجہ ہے کہ انہوں نے شمالی عراق ميں اپنا سب کچھ بيچا اور ترکی پہنچ گئے۔ پھر وہاں سے انہوں نے ايک ہيومن ٹريفکر کو ميونخ تک کی خصوصی پرواز کے ليے 60 ہزار يورو کے برابر رقوم ديں۔ ذرائع کے مطابق يہ رقم وصول کرنے والا انسانی اسمگلر شامی شہری ہے۔

پوچھ گچھ کے بعد اس خاندان کو باويريا ميں قائم ايک سينٹر منتقل کر ديا گيا ہے، جہاں ان کی پناہ کی درخواست پر کارروائی کی جائے گی۔ درخواست پر حتمی فيصلے تک اب يہ خاندان وہيں مقيم رہے گا۔

بوسنیا میں پاکستانی تارکين وطن کی انسانیت سوز حالت

ع س / ا ب ا (انفو مائگرينٹس)