1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان کا انصاف ’شاعرانہ مزاج جج‘ کے ہاتھ میں

18 جنوری 2019

پاکستان کے نئے چیف جسٹس نے آج جمعہ 19 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے عدالت عظٰمی میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/3BlAd
Pakistan Gericht
تصویر: Getty Images/AFP/A. Qureshi

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ ان ججوں میں بھی شامل تھے، جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 2017ء  میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔ اس فیصلے میں انہوں نے ماریو پوزو کے ناول ’دی گاڈ فادر‘ کا ایک جملہ شامل کیا تھا، ’’ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔‘‘

64 سالہ آصف سعید کھوسہ پاکستانی عدالت عظمی کے 26 ویں چیف جسٹس ہیں۔ ایوان صدارت میں حلف برداری کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے کہا، ’’میں تمام لوگوں کے ساتھ قانون کے مطابق، بغیر کسی خوف و خطر یا حمایت کے انصاف کروں گا۔‘‘

Lahore Pakistan  Chief Justice of Pakistan CJP Justice Mian Saqib Nisar
تصویر: Imago

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو ادب سے ان کے شغف اور اپنے کئی فیصلوں میں ادبی حوالہ جات کی وجہ سے انہیں’’شاعرانہ مزاج رکھنے والا جج‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ پاکستان میں فوجداری قوانین کے ماہر ہیں۔

 جسٹس کھوسہ سپریم کورٹ کے اس پینل میں بھی شامل تھے، جس نے آسیہ بی بی کی سزا ختم کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کے احکامات دیے تھے۔ اس فیصلے کی وجہ سے پاکستان کئی دنوں تک ہنگامہ آرائی کی لپیٹ میں رہا تھا۔

Pakistan Islamabad - ehemaliger Premierminister Nawaz Sharif vor NAB Gericht
تصویر: picture-alliance/ZUMAPRESS/PPI

جسٹس کھوسہ نے ابتدائی تعلیم ملتان سے حاصل کی جبکہ پنجاب یونیورسٹی اور برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی اعلٰی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ ہیڈنگ دا کونسٹیٹیوشن، کانسٹیٹیوشنل اپولوگس، ججنگ ود پیشن اور بریکنگ نیو گراؤنڈ نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

نئے چیف جسٹس کے مطابق پاکستان  میں قریب 1.9ملین مقدمات التواء کا شکار ہیں اور انہیں سننے کے لیے صرف تین ہزار ججز ہیں۔

انہوں نے اپنے پیشرو میاں ثاقب نثار کی الوداعی تقریب میں بھی عدالتی نظام میں اصلاحات کی بات کی تھی۔ متعدد سیاستدان اور کئی قانونی حلقے ثاقب نثار کی جانب سے سوموٹو ایکشن کے بے دریغ استعمال پر انہیں تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔

پاکستان میں کسی ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس