1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان-افغانستان جھڑپوں سے سینکڑوں بچوں کی تعلیم بھی متاثر

جاوید اختر اے ایف پی کے ساتھ
17 اپریل 2026

افغان سرحدی گاؤں بریکوٹ میں اب بچے نظر نہیں آتے، جہاں اسکول گولہ باری سے تباہ ہو چکا ہے اور کئی ہفتوں کی پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کھیل کا میدان ویران پڑا ہے۔

https://p.dw.com/p/5CKqZ
باریکوٹ گاؤں میں طالبان سکیورٹی اہلکاروں اور پاکستانی افواج کے درمیان جھڑپوں کے دوران پاکستانی مارٹر گولے سے نشانہ بننے کے بعد ایک تباہ شدہ اسکول کا کلاس روم
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھئڑپوں کے سبب بچوں کا بچپن اور تعلیم بری طرح متاثر ہوا ہےتصویر: Wakil Kohsar/AFP

تقریباً 8,000 رہائشیوں میں سے زیادہ تر لوگ فروری کے آخر میں یہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے۔ اے ایف پی کے صحافی اس ہفتے بریکوٹ جانے والی سڑک دوبارہ کھلنے کے فوراً بعد ہندوکش کے اس دور افتادہ علاقے تک پہنچے۔

ایک 23 سالہ دکاندار، روح اللہ خپلواک، جن کی دکان تباہ ہو گئی، اسکول کی تباہ شدہ سائنس لیبارٹری کو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں، ''یہ وہی اسکول ہے جہاں میں نے تعلیم حاصل کی تھی۔ مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے۔‘‘

اس جگہ پر پرائمری سے لے کر ہائی اسکول تک کے طلبہ پڑھتے تھے، لیکن مقامی رہائشیوں کے مطابق اس تعلیمی کمپلیکس کو پاکستانی فائرنگ سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق افغانستان کے شمال مشرقی صوبے کنڑ میں بریکوٹ کا اسکول ان 22 اسکولوں میں شامل ہے، جنہیں فوری تعمیر نو کی ضرورت ہے۔

ڈورنڈ لائن کے قریب باریکوٹ گاؤں میں طالبان سکیورٹی اہلکاروں اور پاکستانی افواج کے درمیان جھڑپوں کے دوران پاکستانی مارٹر گولے سے نشانہ بننے کے بعد ایک تباہ شدہ اسکول کا کلاس روم
تقریباً 12,000 طلبہ جو جھڑپوں کے باعث بے گھر یا متاثر ہوئے ہیں، انہیں اپنی پڑھائی پوری کرنے کے لیے محفوظ جگہوں کی ضرورت ہےتصویر: Wakil Kohsar/AFP

اوچا کی اس ماہ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 12,000 طلبہ جو جھڑپوں کے باعث بے گھر یا متاثر ہوئے ہیں، انہیں افغانستان میں تعلیم حاصل کرنے یا اپنی پڑھائی پوری کرنے کے لیے محفوظ جگہوں کی ضرورت ہے۔

پاکستانی فوج نے بریکوٹ میں بشمول اسکول اور طبی مرکز پر گولہ باری کے بارے میں تبصرہ کرنے کی اے ایف پی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اسلام آباد افغانستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے۔ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

جب بریکوٹ میں ایسے جنگجوؤں کی موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو دکاندار خپلواک سمیت کئی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں۔

گاؤں کے ہسپتال میں فارماسسٹ فریدون حبیبی نے کہا کہ صورتحال بہت مشکل ہو گئی تھی اور عملے کو اپنی حفاظت کے لیے کئی کلومیٹر دور منتقل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہسپتال اب بھی بند ہے۔

بریکوٹ کے رہائشیوں نے تشدد کا ذمہ دار اپنے ہمسایوں کو نہیں بلکہ اسلام آباد کو قرار دیا۔

ڈورنڈ لائن کے قریب باریکوٹ گاؤں میں طالبان سکیورٹی اہلکاروں اور پاکستانی افواج کے درمیان تنازع کے باعث ایک بازار میں بند دکانیں
جھڑپوں کے باعث 94,000 سے زیادہ افغان بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ صوبے کنڑ میں ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP

اوچا کے اعداد و شمار کے مطابق جھڑپوں کے باعث 94,000 سے زیادہ افغان بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ صوبے کنڑ میں ہیں۔

ان میں سے ہزاروں لوگ دریائے کنڑ کے کنارے عارضی خیموں میں رہ رہے ہیں جو ترپالوں، بوریوں یا پلاسٹک کی شیٹوں کو درختوں کی شاخوں سے باندھ کر بنائے گئے ہیں۔ قریب ترین کنویں سے پانی لانے میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت لگتا ہے کیونکہ دریا کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔

بے گھر ہونے والے ایک کمپیوٹر ٹیکنیشن عصمت اللہ ملنگزئی نے کہا کہ کیمپ میں زندگی بہت مشکل ہے۔

26 سالہ ملنگزئی، جو اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ ایک خیمے میں رہر رہے ہیں، نے کہا، ''ہماری عورتوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ''یہاں نہ تو مناسب بیت الخلا کا نظام ہے۔ نہ ہی ہمارے پاس کافی پانی ہے اور نہ ہی نہانے کی مناسب جگہ۔‘‘

ڈورنڈ لائن کے قریب باریکوٹ گاؤں میں طالبان سکیورٹی اہلکاروں اور پاکستانی افواج کے درمیان جھڑپوں کے دوران پاکستانی مارٹر گولے ٹکرانے کے بعد اسکول کی ایک تباہ شدہ دیوار
پاکستان افغانستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے لیکن افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیںتصویر: Wakil Kohsar/AFP

ناروے رفیوجی کونسل، جو بے گھر افغانوں کی مدد کرتی ہے، کے ترجمان میثم شفیعی نے کہا کہ صورتحال ''انتہائی تشویشناک‘‘ ہے۔

نو بچوں کے باپ اور بے گھر شخص محمد نبی گجر نے کہا، ''میں پریشان ہوں کیونکہ ہمارے بچوں کو اسکول سے محروم کر دیا گیا ہے۔‘‘

محمد امین شاکر بے گھر ہونے سے پہلے ایک پرائمری اسکول کے پرنسپل تھے، لیکن اب وہ ایک چھوٹے سے خیمے میں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ''مجھے رونا آتا ہے جب میں ان طلبہ کو یاد کرتا ہوں جو اپنی پڑھائی میں مصروف تھے۔ وہ یہاں مٹی اور ریت میں گھوم رہے ہیں۔ یہاں وہ مکمل طور پر تعلیم سے محروم ہیں۔ یہی ان کی زندگی ہے: خیموں میں۔‘‘

کنڑ کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ نجیب اللہ حنیف نے اے ایف پی کو بتایا کہ صوبائی حکام مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

Javed Akhtar
جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔