1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹوئٹر نے مودی حکومت کو بھارتی عدالت میں چیلنج کر دیا

جاوید اختر، نئی دہلی
6 جولائی 2022

بھارتی میڈیا کے مطابق ٹوئٹر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے مواد ہٹانے کے مودی حکومت کے بعض احکامات کے خلاف ایک عدالت میں کیس دائر کیا ہے۔ اسے بھارتی حکام کی جانب سے اختیارات کا غلط استعمال کہا جا رہا ہے۔

https://p.dw.com/p/4DjSv
Nigeria I Twitter verboten
تصویر: Matt Rourke/AP/picture alliance

بھارتی میڈیا کے مطابق امریکی کمپنی ٹوئٹر نے بنگلورو میں واقع کرناٹک ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے، جس میں اس کے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے مواد کو ہٹانے کے لیے بھارت سرکار کی طرف سے دیے گئے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ ٹوئٹر اور مودی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی میں ایک نئی پیش رفت ہے۔

بھارتی حکام نے ٹوئٹر سے بعض مواد کو ہٹانے کے لیے کہا تھا۔ ان میں ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کی حمایت کرنے والے اکاؤنٹس، کسانوں کی تحریک اور مظاہروں سے متعلق مبینہ غلط اطلاعات پھیلانے والی پوسٹس اور کووڈ انیس کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے حکومت کی نکتہ چینی والی پوسٹس شامل ہیں۔

بھارت کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو کا کہنا تھا، "خواہ کوئی بھی کمپنی، کسی بھی سیکٹر میں کام کرتی ہو، اسے بھارت کے قوانین کی پابندی کرنی ہو گی۔"

بھارت سرکار نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ قانونی معاہدوں کے باوجود بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں بشمول ٹوئٹر نے متنازعہ پوسٹس کو ہٹانے کی درخواستوں پر عمل نہیں کیا۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں بھارت کی وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ٹوئٹر کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے حکومت کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا تو اس کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی جائے گی۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر نے اس ہفتے اس حکم کی تعمیل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اسے مواد کو ہوسٹ کرنے کی اجازت سے محروم نہ ہونا پڑے۔

کرناٹک ہائی کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں ٹوئٹر نے کہا ہے کہ اسے جن پوسٹس کو ہٹانے کے احکامات دیے گئے ہیں ان میں سے بعض احکامات بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کے تحت لازمی ضرورتوں پر پورا نہیں اترتے۔

Indien | Ashwini Vaishnaw
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو کا کہنا تھا،خواہ کوئی بھی کمپنی ہو، اسے بھارت کے قوانین کی پابندی کرنی ہو گیتصویر: IANS

اظہار رائے کی آزادی پر حملہ؟

بھارتی روزنامے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ٹوئٹر نے اپنی دلیل میں کہا ہے، "جن لوگوں کے مواد کو ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے، انہیں مناسب نوٹس نہیں دیا جا رہا ہے جب کہ کچھ مواد کو بلاک کرنا، مثلاً سیاسی جماعتوں کے ٹوئٹ کو ہٹانا اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہو سکتا ہے۔"

بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قانون حکومت کو ملکی سلامتی کے مفاد اور دیگر وجوہات کی بنا پر مواد کی رسائی کو بلاک کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

ٹوئٹر نے مبینہ طور پر یہ دعوی بھی کیا ہے کہ کئی کیسز میں یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ جن اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے انہوں نے قابل اعتراض مواد پوسٹ کیے تھے۔ نیز بعض ایسی پوسٹ کو بھی ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے جو بہت پرانے واقعات سے متعلق ہیں اور اب بے معنی ہو چکے ہیں۔

ٹوئٹر اور بھارت سرکار کے درمیان محاذ آرائی کا سلسلہ جاری

مارکیٹ ریسرچ کمپنیوں کے مطابق بھارت میں ٹوئٹر کے تقریباً ڈھائی کروڑ صارفین ہیں۔ بھارت سرکار اور ٹوئٹر کے درمیان ایک عرصے سے محاذ آرائی جاری ہے۔

ٹوئٹر نے گزشتہ برس مئی میں بھارت سرکار پر ایسا رویہ اپنانے کا الزام لگایا تھا جو "آزادانہ جمہوری قدروں" سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ ٹوئٹر نے کہا تھا کہ ملازمین کی سلامتی اور جرمانہ ادا کرنے کے ڈر سے انہیں ایسی معلومات ہٹانا پڑی ہیں، جو قانون اور اظہار رائے کی آزادی کے مطابق تھیں۔ ٹوئٹر کے اس بیان پر بی جے پی کے ایک ترجمان نے اسے "مینی پولیٹیڈ میڈیا" کہا تھا۔ بعد میں اس کے دفاتر پر پولیس نے چھاپے بھی مارے تھے۔

رواں برس کے اوائل میں بھی فریقین کے درمیان اس وقت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جب ٹوئٹر نے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کے حوالے سے پوسٹس ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔ مودی حکومت کا کہنا تھا کہ کسان حکومت کے خلاف جھوٹی معلومات پھیلا رہے ہیں۔

ٹوئٹر کو اس وقت بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس نے بھارت کے بعض بااثر افراد بشمول سیاست دانوں کے اکاؤنٹس یہ کہتے ہوئے بلاک کر دیے تھے کہ یہ اس کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔

Indien | Demonstration für Pressefreiheit
تصویر: Javed Akhtar/DW

متنازعہ قانون

بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قانون کے مطابق کمپنیوں کو ایسے تمام قسم کے مواد ہٹانے ہوں گے جسے حکومتی اہلکار غیر قانونی سمجھتے ہوں۔ حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ان کمپنیوں پر مجرمانہ مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔

اظہار رائے کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ نئے آئی ٹی قانون کے تحت جاری کردہ گائیڈ لائنز کے ذریعے سرکاری حکام کو حد سے زیادہ اختیارات مل گئے ہیں، جن کا وہ غلط استعمال کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں نے بھی ان گائیڈ لائنز پر اعتراضات کیے تھے۔

فیکٹ چیکر ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو گزشتہ ہفتے ان کے ایک ٹوئٹ پر ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح کرنے کا الزام لگاتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حالانکہ یہ ٹوئٹ سن 2018 میں کی گئی تھی اور یہ بالی وڈ کی ایک مشہور فلم کے ایک منظر کی تصویر تھی۔ زبیر اب بھی جیل میں ہیں۔

ٹوئٹر کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کے اقدام پر بھارت کے نائب وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی راجیو چندرشیکھر کا کہنا تھا، "تمام کمپنیوں، بشمول غیر ملکی میڈیا اداروں،کو عدالت سے رجوع کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن انہیں یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ اگر وہ بھارت میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں بھارتی قوانین اور ضابطوں پر پوری طرح عمل کرنا ہو گا۔ "

 جاوید اختر (روئٹرز )

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں