1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

يورپی سرحدوں پر پھنسے مہاجرين مايوسی اور بے يقينی کا شکار

عاصم سليم6 جولائی 2016

سربيا اور ہنگری کی سرحد پر ايک عارضی کيمپ ميں موجود پناہ گزين انتہائی ناقص اور مایوس کن حالات ميں زندگی بسر کر رہے ہيں۔ ہنگری کی جانب سے سخت تر اقدامات پر عملدرآمد کے سبب اب ان کے حالات اور بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے۔

https://p.dw.com/p/1JJwi
تصویر: Getty Images/AFP/E. Barkcic

سربيا اور ہنگری کی سرحد پر ايک مہاجر کيمپ ميں ہزاروں مہاجرين اپنے آبائی ممالک ميں جاری جنگ و جدل سے فرار ہو کر آئے ہيں تاہم انہيں يہ نہ معلوم تھا کہ پناہ کے سفر ميں انہيں کن کن مشکلات سے گزرنا ہو گا۔ کيمپ ميں پينے کے پانی کا صرف ايک نل ہے، نہ کوئی غسل خانہ ہے اور نہ ہی بيت الخلاء کی سہولت۔ رات کو سوتے وقت مچھر اور کيڑے مکوڑے تو ايک طرف، کبھی کبھار سانپ بھی نکل آتے ہيں۔ گويا بے يقينی اور مايوسی کے سوا ان پناہ گزينوں کی زندگيوں ميں اور کچھ نہيں۔

اس مقام پر موجود زيادہ تر مہاجرين کا تعلق شام، افغانستان اور عراق سے ہے۔ ان تارکین وطن نے بحيرہ روم کے خطرناک سمندر راستوں کی نسبت بلقان ممالک سے گزرنے والے روايتی زمينی روٹ کو فوقيت دی۔ تارکين وطن ہنگری کی سرحد پر نصب باڑ کے ساتھ اس انتظار ميں بيٹھے ہيں کہ کسی نہ کسی طرح ہنگری انہيں ملک ميں داخل ہونے دے تاہم يوميہ بنيادوں پر محض پندرہ افراد کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔ عام طور پر چھوٹے بچوں والے خاندانوں کو ہی داخل ہونے ديا جاتا ہے۔

ہوگوس نامی اس کيمپ ميں مقيم ايک افغان خاندان قريب ايک ہفتے سے اس جگہ موجود ہے۔ اس اہل خانہ ميں شامل عورت اور مرد دونوں ہی افغانستان ميں ايک غير ملکی تنظيم کے ساتھ منسلک تھے اور اسی سبب اپنی جان کو خطرہ محسوس ہوتے ہوئے انہوں نے فرار ہونے کا فيصلہ کيا۔ کيمپ کے حالات کے بارے ميں بات کرتے ہوئے اٹھائيس سالہ حميد سعيد نے بتايا، ’’يہاں کوئی سہوليات ميسر نہيں۔ نہ بيت الخلاء ہے، نہ غسل خانہ، ميں چار دنوں سے غسل نہيں کر سکا ہوں۔‘‘ حميد کی اہليہ تيئس سالہ آزادہ نے شکايت کی کہ دن کے وقت گرمی کی شدت بہت زيادہ ہوتی ہے جبکہ رات کے وقت سردی ہو جاتی ہے۔ اس کے بقول کيڑے مکوڑوں سے لے کر سانپ تک آس پاس پھرتے رہتے ہيں۔ انہوں نے بتايا کہ ان دونوں نے ہنگری ميں سياسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے ليکن تاحال انہيں کوئی جواب موصول نہيں ہوا۔ ان کے بقول وہ يورپی يونين ميں قانونی طريقے سے داخل ہونا چاہتے ہيں نہ کہ انسانی اسمگلروں کا سہارا لے کر۔

Karte Ungarn Grenzstädte Kroatien Serbien Englisch

دريں اثناء منگل پانچ جولائی سے بوداپسٹ حکام نے يورپ ميں داخل ہونے والے مہاجرين کی تعداد کو مزيد محدود کرنے کے ليے سخت تر اقدامات پر عملدرآمد شروع کر ديا ہے۔ ان اقدامات کے تحت جن مہاجرين کو سرحد کے ارد گرد آٹھ کلوميٹر کے رقبے سے حراست ميں ليا جائے گا، انہيں سرحد پر سربيا کی حدود ميں منتقل کر ديا جائے گا، جہاں وہ سياسی پناہ کی درخواستيں دينے کے ليے انتظار کريں گے۔ خدشہ ظاہر کيا جا رہا ہے کہ تازہ اقدامات کے نتيجے ميں ہنگری اور سربيا کی سرحد پر موجود مہاجرين کی تعداد ميں مزيد اضافہ ممکن ہے۔ حکام کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک غير قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوششوں کے دوران 17,062 مہاجرين کو پکڑا جا چکا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید