1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’وہ لوگ بہت باہمت تھے‘، چانسلر میرکل

عدنان اسحاق2 نومبر 2014

نو نومبر کو جرمنی میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس برس پورے ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں چانسلر انگیلا میرکل نے مشرقی جرمنی کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کی ہمت اور حوصلے کو سراہا ہے۔

https://p.dw.com/p/1DffY
تصویر: picture-alliance/dpa/Wolfgang Kumm

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اپنی ہفتہ وار پوڈ کاسٹ میں کہا کہ 1989ء سے قبل مشرقی جرمنی کے جن شہریوں اور تنظیموں نے اُس وقت کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف مزاحمت کی تھی، انہوں نے انتہائی ہمت کا مظاہرہ کیا تھا۔ میرکل نے مزید کہا کہ وہ دور پابندیوں اور نگرانیوں سے بھرپور تھا اور حکومت وقت کی مخالفت کوئی آسان کام نہیں تھا۔ میرکل کے بقول، ’’ ان لوگوں نے دوسروں کے حوصلے بڑھائے اور تحریک دی۔ خاص طور پر ان ہزاروں افراد نے جنہوں نے لائپزگ میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی تھی۔‘‘

جرمن شہر لائپزگ میں نو اکتوبر 1989ء کے دن ہزاروں جرمن باشندوں کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں میں مشرقی جرمنی کی اُس وقت کی حکمران جماعت سوشلسٹ یونٹی پارٹی سے آزادی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مظاہرے چار ہفتوں کے اندر ایک پُر امن بغاوت کی شکل اختیار کر گئے تھے، جس کے بعد بالاآخر 9 نومبر 1989 ء کو دیوار برلن گرا دی گئی تھی۔

Grenzfotograf Jürgen Ritter
تصویر: picture-alliance/dpa

جرمن تاریخ میں ان مظاہروں کو ’منڈے ڈیمونسٹریشن ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ میرکل کے بقول ان افراد نے مشرقی جرمنی کے دیگر شہروں کے باسیوں کو بھی متحرک کر دیا تھا اور یہ ایک ایسا اقدام تھا کہ جس نے سوشلسٹ یونٹی پارٹی کی حکومت کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ جرمن چانسلر نے مزید کہا، ’’ ان باہمت شہریوں کے بغیر منقسم جرمنی کا اتحاد بہت زیادہ مشکل ہو جاتا اور اسی وجہ سے ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے‘‘۔

میرکل بھی سابقہ مشرقی جرمنی کی شہری تھیں۔ میرکل کہتی ہیں کہ نو نومبر کو دیوار برلن گرائے جانے کے وقت، جو ان کےجذبات اور احساسات تھے، انہیں وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس شام کا کچھ حصہ انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ زاؤنا میں گزارا اور بعد میں شہر میں نکالی جانی والی ایک ریلی میں شرکت کی۔ ان کے بقول متحد جرمنی کی وجہ سے نئی نسل بھی اب ایک ہے اور ملک کے مشرقی اور مغربی حصےکے درمیان حائل فاصلے بھی ختم ہو گئے ہیں۔

دیوار برلن کے انہدام کے پچیس برس پورے ہونے پر سرکاری سطح پر تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی اس تناظر میں متعدد پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں برلن کے معروف زمانہ برنڈنبرگ دروازے پر متعدد کنسرٹ بھی کرائے جا رہے ہیں۔