1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’چین سے طلبا کو واپس پاکستان نہ بلانا اچھا فیصلہ‘

21 فروری 2020

ایک چینی سفارتکار نے چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ شہر ووہان میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبا کے چین سے انخلا سے پاکستانی حکومت کے انکار کے فیصلے کی تائید کر دی۔

https://p.dw.com/p/3Y74W
Pakistan Flughafen Islamabad - Wiederaufnahme der Flüge nach China
تصویر: Getty Images/AFP/A. Qureshi

چین میں کورونا وائرس کے گڑھ تصور کیے جانے والے صوبے ہوبئی میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کے والدین کی طرف سے حکومت سے اپنے بچوں کو ملک واپس بلانے کے پرزور مطالبات کے ایک روز بعد چینی سفارت کار نے اس سلسلے میں اسلام آباد حکام کے فیصلے کی حمایت کر دی ہے۔

پاکستان نے چین میں چین میں مہلک وائرس کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے میں پھنسے قریب ایک ہزار پاکستانی طلبا کو ملک واپس لانے سے انکار کیا ہے۔ چینی صوبہ ہوبئ اور اس کے دارالحکومت ووہان میں جہاں پاکستانی طلبا پھنسے ہوئے ہیں، وہاں کورونا سے اب تک ہونے والی کُل اموات میں سے دو چوتھائی سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس فلو نما وائرس سے وہاں اب تک 21 سو سے زائد متاثرین ہلاک ہو چُکے ہیں۔

Ukraine Coronavirus Evakuierung aus China
یوکرائن نے اپنے باشندوں کو چین سے نکال لیا ہے۔تصویر: AFP/S. Supinsky

پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے چین کے قونصل جنرل لی بیجیان کا کہنا تھا، ''اگر طلبا کی اتنی بڑی تعداد پاکستان واپس آتی ہے تو اس پر بڑی لاگت کی لاگت آئے گی کیونکہ یہ پاکستانی حکومت کو اس کے بندوبست کے لیے صحت کا ایک بہت بڑا آپریشن کرنا پڑے گا۔ ان طلبا کو الگ تھلگ رکھنے کی موثر سہولیات میسر نہیں ہیں، اس کی وجہ سے پاکستان میں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔‘‘ چینی قونصل جنرل نے مزید کہا، '' اس لیے میرا یہ کہنا ہے کہ کورونا کے ایپی سینٹر یا مرکز سے اپنے طلبا کو ملک واپس نہ بلانے کا پاکستانی حکام کا فیصلہ بہت اچھا مگر دشوار ہے۔‘‘

چین کے قونصل جنرل لی بیجیان نے کہا ہے کہ کورونا متاثرین کے لیے چین میں بہتر طبی سہولیات موجود ہیں۔ بیجنگ حکومت انہیں سرجیکل ماسک اور دیگر ضروری اجزاء فراہم کر رہی ہے۔ لی کا کونا تھا، ''ہم ان طلبا کے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔‘‘

China Huaibei Einkäufe im Supermarkt
کورونا وائرس کا خوف انسانوں کی روز مرہ زندگی پر بری طرح اثرانداز ہو رہا ہے۔تصویر: AFP

بُدھ کے روز پاکستانی طلباء کے والدین نے اس حکومتی فیصلے کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کی اس سلسلے میں ہونے والی بریفنگ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا اور مارگلا روڈ پردھرنا دیتے ہوئے ان والدین نے اپنے بچوں کو واپس بلانے کا مطالبہ جاری برقرار رکھا تھا۔ والدین نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے بچے تین دن میں واپس پاکستان نہ بلائے گئے تو وہ وزارتوں کے سامنے احتجاج کریں گے اس پر پاکستانی وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا تھا کہ حکومت کو ان والدین کے احساسات و جذبات کا پورا احساس ہے تاہم اُسے قوم کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔

دریں اثناء وزیر اعظم کے دفتر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کو پاکستانی وزیر اعظم نے چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور چینی عوام اور حکومت کے ساتھ اس کٹھن وقت پر اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

ک م/ ع ب/ ایجنسیاں